بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایامجھے ایسی بستی کا حکم دیا گیا ہے جو ساری بستیوں کو کھا جاتی ہے۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے۔ وہ(گندے) لوگوں کو نکالتی ہے جیسے بھٹی لوہے کے گند کو نکالتی ہے۔ ایک اور روایت میں کَمَا یَنْفِی الْکِیْرُ الْخَبَثَ کے لفظ ہیں اور اَلْحَدِیْدِ کا ذکر نہیں۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام ’’طا بۃ‘‘رکھا ہے (یعنی پاک اور عمدہ)
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ ایک بدوی نے رسول اللہﷺ کی بیعت کی پھر وہ بدوی مدینہ میں بیمار ہو گیا۔ وہ نبیﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمدؐ ! میری بیعت منسوخ کردیں۔ رسول اللہﷺ نے انکار کیا۔ وہ پھر آپؐ کے پاس آیا اور کہا میری بیعت منسوخ کردیں۔ آپؐ نے پھر انکار کیا۔ وہ پھر آیا اور کہا میری بیعت منسوخ کردیں۔ آپؐ نے انکار فرمایا۔ پھر وہ بدوی چلا گیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا مدینہ بھٹی کی طرح ہے وہ اپنے میں سے گند کو نکال دیتا ہے اور اس کا پاک حصہ چمک اٹھتا ہے۔
حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا یہ تو یقینا طَیبہ ہے۔ آپؐ کی مراد مدینہ سے تھی۔ اور یہ گند کو ایسے دور کرتی ہے جیسے آگ چاندی کے کھوٹ کو دور کردیتی ہے۔
ابو عبداللہ بن القراظ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت ابو ہریرہؓ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے کہا ابو القاسمﷺ نے فرمایا جو شخص اس بستی (یعنی مدینہ) کے رہنے والوں کے ساتھ بُرائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ایسے پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔
قراظ جو حضرت ابو ہریرہؓ کے ہم نشینوں میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو اس کے رہنے والوں سے بُرائی کا ارادہ کرے گا۔ آپؐ کی مراد مدینہ سے تھی تو اللہ تعالیٰ اسے پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتاہے۔ ابن یُحَنَّس کی روایت میں سُوْء کی جگہ شَر کا لفظ آیا ہے۔
دینار القراظ کہتے ہیں میں نے حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کو کہتے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو مدینہ کے رہنے والوں سے بُرائی کا ارادہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے ایسے پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں (بِسُوْئٍ کی بجائے) بِدَھْمٍ اَوْ بِسُوْئٍ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اللہ! تو اہلِ مدینہ کے مدّ میں برکت ڈال۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ مَنْ اَرَادَ اَہْلَھَا بِسُوْئٍ أَذَابَہُ اللّٰہُ کَمَا یَذُوْبُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ جو شخص اس کے رہنے والوں سے بُرائی کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ اُسے گھلا دے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔
سفیان بن ابی زُھَیرسے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا شام فتح ہو گا تو مدینہ سے لوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلیں گے جبکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا اگر وہ جانتے پھر یمن فتح ہو گا تو مدینہ سے کچھ لوگ اپنے اہل کے ساتھ جانوروں کو ہانکتے ہوئے نکلیں گے جبکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے پھر عراق فتح ہوجائے گا تو مدینہ سے لوگ جانوروں کو ہانکتے ہوئے نکلیں گے جبکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ جانتے۔
سفیان بن ابی زُھَیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یمن فتح ہو گا تو لوگ جانوروں کو ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے اہل اور ان کے ساتھ جو ان کی اطاعت کریں گے روانہ ہوں گے جبکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے پھر شام فتح ہو گا تو لوگ جانوروں کو ہانکتے ہوئے آئیں گے اپنے اہل اور ان کے ساتھ جو اُن کی اطاعت کریں گے روانہ ہوں گے جبکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا۔ عراق فتح ہوگا تو لوگ اپنے جانوروں کو ہانکتے ہوئے آئیں گے اپنے اہل اور ان کے ساتھ جو ان کی اطاعت کریں گے روانہ ہوں گے جبکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ جانتے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے مدینہ کے بارہ میں فرمایا کہ اس کے رہنے والے اس کی خیر کے باوجود جس پریہ ہے اس کو چھوڑ دیں گے اسے عوافی کے سپرد کرتے ہوئے۔ یعنی درندوں اور پرندوں کے۔ مسلم کہتے ہیں یہ ابوصفوان عبد اللہ بن عبدالملک ہے جودس سالہ یتیم تھااور ابن جریج کی گود میں پرورش پا رہا تھا۔