بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
حضرت ابو قتادہؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے یہانتک کہ ہم جب قاحہ مقام پر تھے۔ ہم میں مُحرم بھی تھے اور غیر مُحرم بھی کہ میں نے اپنے ساتھیوں کودیکھاکہ وہ کسی چیز کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں نے نظر ڈالی تو وہ ایک گورخر تھا۔ میں نے اپنے گھوڑے پر زین ڈالی نیزہ لیااور سوار ہوا تو میرا کوڑا مجھ سے گر گیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے جو حالتِ احرام میں تھے کہا کہ مجھے کوڑا پکڑا دو انہوں نے کہا خدا کی قسم ہم اس (شکار) کے لئے کچھ بھی مددنہیں کریں گے۔ میں نیچے اترا اور اسے لیا سوار ہوا۔ میں نے اس گورخر کو پیچھے سے جالیا جبکہ وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا۔ میں نے اسے اپنا نیزہ مارا۔ پھر اسے ذَبح کیا اور وہ لے کر اپنے سا تھیوں کے پاس آیا۔ ان میں سے بعض نے کہا اسے کھالو۔ اور بعض نے کہا اسے نہ کھاؤ۔ نبیﷺ ہم سے آگے تھے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو تیز کیا اور آپؐ کے پاس پہنچ گیا۔ آپؐ نے فرمایا یہ حلال ہے اسے کھالو۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے جب وہ مکہ کے ایک رستہ پر تھے۔ تو وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ جو مُحرِم تھے پیچھے رہ گئے اور وہ خود محرم نہ تھے۔ انہوں نے ایک گورخر دیکھا اور وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ انہیں ان کا کوڑا پکڑادیں۔ انہوں نے ان کی بات کا انکارکیا۔ پھر انہوں نے اپنا نیزہ مانگا انہوں نے انکار کردیا۔ انہوں نے اسے خود اٹھایا اور گورخر پر حملہ کیا اور اسے مار گرایا۔ پھر اس میں سے نبیﷺ کے بعض صحابہؓ نے کھایا اور بعض نے انکار کردیا پھر وہ رسول اللہﷺ کے پاس پہنچے۔ آپؐ سے اس بارہ میں پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا یہ تو ایک کھانا ہے جو اللہ نے تمہیں کھلایا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے؟
عبد اللہ بن ابی قتادۃ ؓ بیان کرتے ہیں حدیبیہ کے سال میرے والد رسول اللہﷺ کے ساتھ گئے اور ابو قتادہ کے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا لیکن انہوں (میرے والد)نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔ رسول اللہﷺ کو بتایا گیا کہ دشمن غَیقہ(مقام) میں ہے۔ رسول اللہﷺ چل پڑے۔ وہ (حضرت قتادہؓ ) کہتے ہیں کہ اس اثناء میں کہ میں آپؐ کے صحابہؓ کے ساتھ تھا وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے جب میں نے نظر دوڑائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گورخرہے۔ میں نے اس پر حملہ کیا اسے نیزہ مارا اور اسے گرا لیا۔ میں نے ان سے مدد طلب کی مگر انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر ہم نے اس کے گوشت میں سے کھایا اور ہم ڈرے کہ ہم قافلہ سے کٹ نہ جائیں۔ پھر میں رسول اللہﷺ کو تلاش کرتا ہوا چلتا گیا کبھی اپنے گھوڑے کو تیز چلاتا کبھی آہستہ۔ میں بنی غِفار کے ایک شخص سے آدھی رات کے وقت ملا۔ میں نے کہا کہ تم رسول اللہﷺ سے کہاں ملے تھے؟ اس نے کہا میں نے آپؐ کو ’’تَعْھِن‘‘ میں چھوڑا تھا اور آپؐ نے ’’سُقْیَا‘‘ میں قیلولہ کرنا تھا۔ میں آپؐ سے جا ملا اور عرض کیا یارسولؐ اللہ! آپؐ کے صحابہؓ آپؐ کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ رہے تھے اور وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں آپؐ سے کٹ نہ جائیں اس لئے ان کا انتظار فرمالیں۔ چنانچہ آپؐ نے ان کا انتظار کیا۔ میں نے کہا یارسولؐ اللہ! میں نے شکار کیاہے اس میں سے کچھ بچا ہوا میرے پاس ہے۔ نبیﷺ نے لوگوں سے فرمایا کھاؤ اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے۔
عبد اللہ بن ابی قتادۃ ؓ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ حج کے لئے نکلے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ نکلے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اپنے کچھ صحابہؓ کا راستہ بدل دیا اُن میں حضرت ابو قتادۃ ؓ بھی تھے۔ آپؐ نے فر مایا تم ساحلِ سمندر کی راہ لو یہاں تک کہ تم مجھ سے آملو۔ وہ (راوی) کہتے ہیں انہوں نے ساحلِ سمندر کا راستہ لیا جب وہ رسول اللہﷺ سے الگ ہوئے تو سب نے احرام باندھاہواتھا سوائے حضرت ابو قتادۃؓ کے انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ جب وہ جارہے تھے انہوں نے گورخر دیکھے۔ حضرت ابو قتادۃ ؓ نے ان پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک مادہ کو شکار کر لیا۔ پھر وہ (صحابہؓ ) اترے اور اس کے گوشت میں سے کھایا۔ راوی کہتے ہیں پھرانہوں نے کہا کہ ہم نے گوشت کھالیا حالانکہ ہم مُحرِم تھے۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے اس مادہ جانور کا باقی گوشت ساتھ لیا۔ جب وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم مُحرِم تھے اور ابو قتادۃ ؓ مُحرِم نہ تھے۔ ہم نے گورخر دیکھے۔ ابو قتادۃ ؓ نے ان پر حملہ کیا اور اُن میں سے ایک مادہ کو مار گرایا۔ ہم اترے اور اس کے گوشت میں سے کھایاپھر ہم نے کہا کہ ہم نے شکار کا گوشت کھالیا ہے جبکہ ہم مُحرِم ہیں۔ اور اس کا باقی گوشت ہم نے ساتھ رکھ لیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اس کواس بارہ میں کہا تھا یا اسے کسی چیز سے اشارہ کیا تھا؟راوی کہتے ہیں انہوں نے عرض کیا نہیں آپؐ نے فرمایا گوشت میں سے جو باقی رہ گیا ہے وہ بھی کھالو۔ ایک اور روایت میں (ھَلْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اَمَرَہُأَوْ أَشَارَ اِلَیْہِ بِشَیْئٍ کی بجائے) أَمِنْکُمْ اَحَدٌ اَمَرَہُ أَنْ یَحْمِلَ عَلَیْھَاأَوْ أَشَارَ اِلَیْھَاکے الفاظ ہیں۔ جو روایت شعبہ سے مروی ہے اس میں أَشَرْتُمْ اَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ کے الفاظ ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ اَعَنْتُمْ فرمایا تھا یا اَصَدْتُمْ۔
عبد اللہ بن ابی قتادۃ ؓ کہتے ہیں کہ ان کے والدرضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں گئے۔ انہوں نے کہا میرے علاوہ سب نے احرام باندھا ہوا تھا۔ وہ کہتے ہیں میں نے ایک گورخر شکار کیا اور اپنے ساتھیوں کو کھلایا اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے۔ پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کو بتایا کہ ہمارے پاس اس گوشت میں سے کچھ بچا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اس کو کھاؤ اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے۔ عبد اللہ بن ابی قتادۃ ؓ اپنے والدرضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (یعنی صحابہؓ ) رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو قتادۃ ؓ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا پھر باقی روایت بیان کی۔ ۔ ۔ ۔ اور اس روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس اس کی ٹانگ ہے۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے اسے لیا اور تناول فرمایا۔ ایک اور روایت عبد اللہ بن ابی قتادۃ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو قتادۃ ؓ ایک جماعت میں تھے جنہوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور حضرت ابو قتادۃ ؓ مُحرِم نہیں تھے۔ پھرباقی روایت بیان کی۔ اور اس روایت میں ہے آپؐ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی آدمی نے اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟ یا اس کو اس بارہ میں کچھ کہا تھا؟ انہوں نے عرض کیا نہیں یارسولؐ اللہ! آپؐ نے فر مایا تو کھا سکتے ہو۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا چار چیزیں سب کی سب ہی ایذاء رساں ہیں خواہ وہ حرم میں ہوں یا حرم سے باہر ہوں قتل کی جاسکتی ہیں ! چیل، کوا، چوہیا اور کاٹنے والا کتا۔ راوی کہتے ہیں میں نے قاسم سے کہا۔ آپ کی سانپ کے بارہ میں کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا وہ بھی اپنی ذلت کے ساتھ مارا جائے گا۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا چار چیزیں سب کی سب ہی ایذاء رساں ہیں خواہ وہ حرم میں ہوں یا حرم سے باہر ہوں قتل کی جاسکتی ہیں ! چیل، کوا، چوہیا اور کاٹنے والا کتا۔ راوی کہتے ہیں میں نے قاسم سے کہا۔ آپ کی سانپ کے بارہ میں کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا وہ بھی اپنی ذلت کے ساتھ مارا جائے گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایاپانچ ضرر رساں جانورہیں وہ حرم میں ہوں یا حرم سے باہر ہوں ماردئیے جائیں: سانپ، چتکبرا کوا، چوہیا، کاٹنے والا کتا اور چیل۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاپانچ (جانور) ضرر رساں ہیں (خواہ) وہ حرم میں ہوں ماردیئے جائیں گے: بچھو، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹنے والا کتا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے رسو ل اللہﷺ نے فرمایا پانچ ضرر رساں جانور ہیں وہ حرم میں ماردیئے جائیں گے: چوہیا، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ر سو ل اللہﷺ نے پانچ ضرررساں (جانوروں ) کے حرم سے باہر اور حرم کے اندر مارنے کا حکم دیا ہے۔