بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اُس نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اس بات پر راضی ہو گیا کہ اللہ (اس کا) رب ہے اور اسلام دین ہے اور محمدؐ رسول ہیں (ﷺ )۔
حضرت جابررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاایمان کی سترسے کچھ اوپر یا فرمایاساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ اس کی سب سے افضل شاخ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرنا اور سب سے عام راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمرؓ )سے بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک شخص کو سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے متعلق نصیحت کر رہا تھاتو آپؐ نے فرمایا حیا ایمان کا حصہ ہے۔ زھری نے اسی سند سے روایت کی ہے کہ آپؐ انصار میں سے ایک شخص کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو نصیحت کررہا تھا۔
حضرت عمران بن حُصَینؓ نبیﷺ سے روایت کرتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا حیا خیر ہی لاتی ہے۔ اس پر بُشیربن کعب نے کہا کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس (حیا) سے وقار اور سکینت ہوتی ہے۔ حضرت عمرانؓ نے کہا کہ میں تجھے رسول اللہﷺ کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم مجھے اپنے صحیفوں میں سے سناتے ہو۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ ہم اپنے کچھ لوگوں کے ساتھ حضرت عمرانؓ بن حصین کے پاس موجود تھے اور ہم میں بُشیر بن کعب بھی تھے۔ اس دن ہمیں حضرت عمرانؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا حیا سرا سر خیر ہے یا فرمایاحیا ساری کی ساری خیر ہے۔ اس پر بُشیر بن کعب نے کہاہم بعض کتب میں یا حکمت کے کلام میں لکھا پاتے ہیں کہ اس سے سکینت اور اللہ کے لئے وقار پیدا ہوتا ہے مگر اس سے کمزوری بھی ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرانؓ ناراض ہوئے اور ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ انہوں نے فرمایا خبردار ! میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں رسول اللہﷺ کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم اس کے مقابل پر بات کر رہے رہو۔ یہ کہہ کر حضرت عمرانؓ نے حدیث دہرائی تو بشیر نے پھر وہی بات دہرائی۔ اس پرحضرت عمرانؓ کو پھر غصہ آگیاتو ہم سب اس کے بارہ میں کہتے رہے کہ اے ابو نُجَید!یہ ہم میں سے ہی ہے، اس میں کوئی خرابی نہیں۔
حضرت سفیان بن عبداللہ الثقفیؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! مجھے اسلام کے بارہ میں کوئی ایسا ارشاد فرمائیں کہ مجھے آپؐ کے بعد کسی سے اس بارہ میں پوچھنے کی ضرورت نہ ہو۔ ابو اسامہ کی روایت میں آپؐ کے(بعد کے بجائے) علاوہ کے الفاظ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہو ’’میں اللہ پر ایمان لایا‘‘ پھر اس پر قائم رہو۔
حضرت عبداللہؓ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھاکون سا اسلام بہتر ہے؟ فرمایا تم (بھوکوں کو) کھانا کھلاؤ اور ہر شخص کو سلام کہو، خواہ اس کو پہچانتے ہو یا نہیں پہچانتے۔
حضرت عبداللہؓ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھاکون سا مسلمان بہتر ہے؟ آپؐ نے فرمایا وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔ 50: حضرت جابررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔