مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بدوی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی بات سکھائیے جو میں کہا کروں۔ آپؐ نے فرمایا یہ کہا کرو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ اَللَّہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَالْحَمْدُلِلَّہِ کَثِیْرًا سُبْحَانَ اللَّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللَّہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ: اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ کے لئے بہت حمد ہے، پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے نہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی قوت ہے مگر اللہ کو جو غالب بزرگی والا اور خوب حکمت والا ہے۔ اس بدوی نے عرض کیا یہ تو میرے رب کے لئے ہیں میرے لئے کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ کہا کرو اَللَّہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔راوی موسیٰ کہتے ہیں کہ جہاں تک عَافِنِی کا تعلق ہے مجھے اس میں شبہ ہے اور مجھے صحیح پتہ نہیں۔ ایک اور روایت میں راوی موسیٰ کے اس قول کا ذکر نہیں ہے۔
ابو مالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جو اسلام لاتا رسول اللہﷺ اسے (یہ کلمات) سکھاتے اَللَّہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیاے اللہ !مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي .
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص اسلام لاتا تو نبیﷺ اسے نماز سکھاتے۔ پھر آپؐ اسے ارشادفرماتے کہ ان کلمات کے ذریعہ دعا کرے اَللَّہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِی۔ اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے ہدایت دے اور مجھے عافیت سے رکھ اور مجھے رزق عطا فرما۔
ابو مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی
ﷺ
سے سنا_ ایک دفعہ ایک شخص آپؐ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! جب میں اپنے رب سے دعا کروں تو میں کیسے مانگوں؟ _ آپؐ نے فرمایا کہا کرو اَللَّہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِی: اے اللہ !مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے عافیت عطا کرنا اور مجھے رزق عطا فرما۔ پھر آپؐ اپنی انگلیوں کو سوائے انگوٹھے کے اکٹھا کرتے ہوئے(فرماتے)یہ (کلمات) تیرے لئے تیری دنیا اور آخرت کو جمع کردیں گے۔
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ مجھے میرے والدنے بتایا کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس تھے کہ آپؐ نے فرمایاکیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں کمائے۔ آپؐ کے پاس بیٹھے ہوئے(لوگوں ) میں سے ایک پوچھنے والے نے آپؐ سے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی ایک ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا جو سو مرتبہ تسبیح کرتا ہے تو اس کے لئے ایک ہزار نیکی لکھی جاتی ہے یا ایک ہزار خطائیں اس سے دور کر دی جاتی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے کسی مؤمن سے دنیاکی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی تو اللہ اس سے قیامت کے دن کی تکلیفوں میں سے تکلیف دور فرمائے گا اور جو کسی تنگ دست سے آسانی کا معاملہ کرے گااللہ اس کے لئے دنیا اور آخرت میں سہولت پیدا کر ے گا اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ جب تک کوئی بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ اس بندہ کی مدد کرتا رہتا ہے اور جو حصول علم کی خاطر کسی راستہ پر چلتا ہے اللہ اس کے ذریعہ اس کے لئے جنت کا رستہ آسان کر دیتا ہے اور جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اس کی کتاب پڑھنے کے لئے اور آپس میں ایک دوسرے کو سکھانے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں تو ضرور ان پر سکینت اترتی ہے اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں اپنے حلقے میں لے لیتے ہیں اور اللہ ان کا ذکر ان میں کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں اور جس کا عمل اسے سست کرے اس کانسب اسے تیز نہیں کرے گا۔ ایک روایت میں تنگ دست پر آسانی کرنے کا ذکر نہیں۔
اَغَرّ اَبِی مُسْلِم سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابو سعید خدریؓ پر گواہ ہوں کہ ان دونوں نے نبیﷺ کے بارہ میں گواہی دی کہ آپؐ نے فرمایا کہ لوگ اللہ عزوجل کے ذکر کے لئے بیٹھتے ہیں تو فرشتے انہیں حلقہ میں لے لیتے ہیں اور رحمت ان کو ڈھانک لیتی ہے اور اُن پر سکینت اترتی ہے اور اللہ ان کا ذکر ان میں کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ امیرمعاویہؓ مسجد میں ایک حلقہ میں آئے اور کہا تم کس لئے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم بیٹھے ذکر الٰہی کر رہے ہیں۔ امیر معاویہ نے کہا اللہ کی قسم! کیا تمہیں صرف اس بات نے بٹھایا ہے؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم اسی لئے بیٹھے ہیں۔ امیرمعاویہ نے کہا کہ میں نے تہمت کے طور پر تم سے قسم نہیں چاہی۔ رسول اللہﷺ کے حضور میرے جیسا تعلق رکھنے والا کوئی نہیں جو مجھ سے کم آپؐ سے روایت کرنے والا ہو۔ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ اپنے صحابہؓ کے ایک حلقہ میں تشریف لائے اور فرمایا کہ تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ انہوں نے عرض کیا ہم یہاں اس لئے بیٹھے ہیں کہ ہم اللہ کا ذکر کریں اور جو اس نے اسلام کی ہدایت ہمیں دی ہے اور اس کے ذریعہ ہم پر احسان کیا ہے اس پر اس کی حمد کریں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم کیا تمہیں صرف اس بات ہی نے بٹھایا ہے۔ لوگوں نے عرض کیااللہ کی قسم ہم اسی لئے بیٹھے ہیں۔ آپؐ نے فرمایامیں نے تہمت کے طور پر تم سے قسم نہیں چاہی بلکہ بات یہ ہے کہ جبرائیل میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ یقینا اللہ عزوجل فرشتوں میں تم پر فخر کرتا ہے۔
حضرت اَغَرّ المُزَنِیْ جنہیں صحابی ہونے (کا شرف) حاصل تھا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میرے دل کو پیاس لگائی جاتی ہے٭ اور میں ایک دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔
ابو بردہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت اَغَرّ ؓ سے جو نبیﷺ کے صحابہؓ میں سے تھے سُنا کہ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے لوگو! اللہ کے حضور توبہ کرو میں ایک دن میں سو مرتبہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔