بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 87 hadith
حضرت ابو الدرداءؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی مسلمان بندہ اپنے بھائی کے لئے اس کی غیرموجودگی میں اس کے لئے دعا نہیں کرتا مگر فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے ہرایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ میں نے دعا کی لیکن میری دعا قبول نہیں ہورہی۔
صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے جن کی بیوی درداء تھی کہ میں شام گیا تو حضرت ابودرداءؓ کے گھر گیا تو انہیں موجودنہ پایا البتہ حضرت ام درداءؓ کو موجود پایا۔ وہ کہنے لگیں کیاتم اس سال حج کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا ہاں۔ انہوں (حضرت ام درداءؓ ) نے کہا کہ تو اللہ سے ہمارے لئے بھلائی کی دعا کرنا کیونکہ نبیﷺ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے لئے اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا قبول کی جاتی ہے۔ اس پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب بھی وہ شخص اپنے بھائی کے لئے دعا کرتا ہے تو اس پر مقرر فرشتہ کہتا ہے آمین تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔ صفوان کہتے ہیں پھر میں بازار کی طرف نکل گیا اور حضرت ابو درداءؓ سے ملا تو انہوں نے مجھے نبیﷺ سے روایت کرتے ہوئے یہی بات بتائی۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندہ کے اس فعل پر خوش ہوتا ہے کہ جب وہ کوئی لقمہ کھائے تو اس پر اس کی حمد کرے یا کوئی گھونٹ پئے تو اس پر اس کی حمد کرے۔
حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید جو قرآن پڑھنے والے اور سمجھدار لوگوں میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی نہیں کرتااور کہتا ہے کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی لیکن اس نے میری دعا قبول نہ کی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بندہ کی دعااس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔ جب تک وہ جلد بازی نہ کرے۔ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! جلد بازی سے کیا مراد ہے؟آپؐ نے فرمایاوہ کہتا ہے کہ میں نے دعا کی میں نے دعا کی لیکن میں نہیں دیکھتا کہ وہ میری دعا قبول کرے گا۔ تب وہ تھک جاتا ہے اور دعا ترک کر دیتا ہے۔