بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کی اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔
حضرت ابو موسیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ لوگ بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا اے لوگو!آہستہ آرام سے ! تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں بلا رہے۔ یقینا خوب سننے والے کوجو بہت قریب ہے کو بلا رہے ہواور وہ تمہارے ساتھ ہے۔ وہ (حضرت ابو موسیٰ ؓ ) کہتے ہیں میں آپؐ کے پیچھے تھا میں کہہ رہا تھا لَاحَوْلَ وَلََا قُوَّۃَ اِلََّا بِاللّٰہِ: اللہ کے سوا نہ کسی کو طاقت ہے اور نہ قوّت ہے۔ اس پر آپؐ نے فر مایااے عبداللہؓ بن قیس! کیا میں تجھے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کے بارہ میں نہ بتاؤں۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلََّا بِاللّٰہِ پڑھا کرو۔
حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے اور ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے۔ ایک شخص جب بھی کسی گھاٹی پر چڑھتا یہ الفاظ بلند آواز سے پکارتا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَاللَّہُ اَکْبَرُ۔ راوی کہتے ہیں اس پر اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے آپؐ نے فرمایا اے ابو موسیٰ ؓ یا(فرمایا) اے عبداللہؓ بن قیس! کیا میں جنت کے خزانے میں سے ایک کلمہ کے بارہ میں تمہیں نہ بتاؤں۔ میں نے عرض کیا وہ کیا ہے یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ اللہ کے سوا نہ طاقت ہے نہ قوت۔ ایک روایت میں ہے کہ بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللَّہِﷺ اور ایک روایت میں ہے کُنَّا مَعَ النَّبِیِّﷺ فِیْ سَفَرٍ۔ اور ایک اور روایت کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللَّہِﷺ فِیْ غَدَاۃٍ کے الفاظ ہیں باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اَلَّذِیْ تَدْعُوْنَہُ اَقْرَبُ اِلَی اَحَدِکُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَۃِ اَحَدِکُمْ یعنی اس کی قسم تم جسے پکار رہے ہو، وہ تم میں سے کسی کی سواری کی گردن سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے اور اس روایت میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللَّہِ کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایاکیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ نہ بتاؤں یا آپؐ نے فرمایا جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کے بارہ میں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں (یا رسولؐ اللہ!) آپؐ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللَّہِ اللہ کے سوانہ کسی کوکوئی طاقت ہے نہ کوئی قوت ہے۔
حضرت ابو بکرؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میں اپنی نماز میں کیاکروں۔ آپؐ نے فرمایا کہا کرو اللَّہُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ ظُلْمًا کَبِیْرًا اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا_قتیبہ کہتے ہیں کَثِیْرًابہت زیادہ_وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُاور تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔ پس تو اپنی جناب سے میری مغفرت فرمااور مجھ پر رحم فرما۔ یقینا تو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن عاص بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ صدیق نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا یارسولؐ اللہ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں اپنی نماز میں اور اپنے گھر میں مانگا کروں۔ ایک روایت میں ظُلْمًا کَثِیْرًا کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ان دعائیہ کلمات کے ذریعہ دعا کیا کرتے تھے۔ اللَّہُمَّ فَاِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْغِنَی وَمِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ اَللَّہُمَّ اغْسِلْ خَطَایَایَ بِمَائِ الثَّلْجِ وَالْبَرْدِ وَنَقِّ قَلْبِی مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الثَوْبَ الْأَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اَللَّہُمَّ فَاِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْھَرَمِ وَالْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ اے اللہ ! میں تجھ سے آگ کے فتنہ سے اور آگ کے عذاب سے اور قبر کے فتنہ سے اور قبر کے عذاب سے اور دولت کے فتنہ کے شرسے اور غربت کے فتنہ کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں المسیح الدجّال کے فتنہ کے شرّ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ ! میری خطاؤں کو برف کے پانی اور اولوں سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا ہے اور میرے درمیان اور میری خطاؤں کے درمیان اسی طرح دوری ڈال دے جیسے تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! میں سستی سے، انتہائی بڑھاپے سے، گناہ سے اور قرض کے بوجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ دعاکرتے تھے اَللَّہُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِوَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْھَرَمِ وَالْبُخْلِ وَ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِاے اللہ !میں عاجز آجانے سے اور سستی سے، بزدلی سے اور بڑھاپے سے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں عذابِ قبر سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ طلب کرتاہوں ایک روایت میں فِتْنَۃِالْمَحْیَاوَالْمَمَاتِ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ ان دعائیہ کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے اَللَّہُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْکَسَلِ وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ اے اللہ! میں بخل سے، سستی سے، بدترین عمر سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ بُرے مقدر سے اور بد بختی کے آلینے سے، دشمنوں کی شماتت سے اور آزمائش کی شدت سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ عمرو نے اپنی روایت میں کہا سفیان کہتے ہیں مجھے شک ہے شاید میں نے ان میں سے ایک بات زائد کہہ دی ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خولہ بنت حکیم سُلَمِی سے سنا وہ کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو کسی جگہ پر قیام کرے پھر یہ کہے کہ أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللَّہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی تو کوئی چیز اسے نقصان نہیں دے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے چلا جائے۔