بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جماعت کے ساتھ نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز اس کے اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت ستائیس درجہ افضل ہے۔ ایک اور روایت عبیداللہ سے اسی سند سے مروی ہے کہ ابن نمیر نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا بیس اور کچھ درجے۔ (راوی) ابو بکر کی روایت میں ہے ستائیس درجے۔ ایک دوسری روایت جو حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کچھ اوپر بیس۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے کچھ لوگوں کو ایک نماز میں موجودنہ پایا تو فرمایا کہ میں نے چاہا کہ کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور پھر ان لوگوں کی طرف جاؤں جو اس (نماز) سے پیچھے رہ گئے اور ان کے بارہ میں حکم دوں کہ لکڑیوں کے ڈھیر سے ان کے سمیت ان کے گھروں کو جلا دیں۔ اگر ان میں سے کسی کو علم ہو کہ اسے ایک موٹی ہڈی ملے گی تو وہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا منافقوں پر سب سے زیادہ بوجھل نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے۔ اگر ان کو علم ہوکہ ان دونوں میں کتنا اجر ہے تو وہ ضرور ان نمازوں میں آتے اگرچہ گھٹنوں کے بل ہی آنا پڑتا۔ مجھے خیال آیاکہ نماز کھڑی کئے جانے کا حکم دوں پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر اپنے ساتھ کچھ آدمیوں کو لے کر جو ایندھن کے گٹھے اٹھائے ہوئے ہوں۔ ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں نہیں آتے اور اُن کے گھروں کو اُن پرآگ سے جلا دوں۔
ہمام بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہوئے حضرت ابو ہریرہؓ نے بتائیں چنانچہ انہوں نے ان میں سے کچھ کا ذکر کیا جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے چاہا کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں۔ وہ میرے لئے ایندھن کے گٹھے تیار کریں پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور پھرگھروں کو اُن پر جو اُن میں ہیں جلا دیا جائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ کی خدمت میں ایک نابینا شخص حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے پاس کوئی لے جانے والا نہیں ہے۔ جو مجھے مسجد لے جائے اور اس نے رسول اللہﷺ سے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کے لئے رخصت طلب کی۔ آپؐ نے اسے اجازت دے دی۔ جب وہ واپس جانے کے لئے مُڑا تو آپؐ نے اسے بُلایا اور فرمایا کہ کیا تمہیں اذان کی آواز آتی ہے؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ پھراس کی تعمیل کرو۔
ابو الاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہؓ نے کہاہم نے اپنے تئیں دیکھا کہ ہم میں سے سوائے منافق کے جس کا نفاق معلوم ہوتا کوئی نماز سے پیچھے نہیں یا پھر مریض بلکہ مریض بھی دو آدمیوں کے درمیان سہارے سے چل کر آتا اور نمازمیں شامل ہوتا اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں ہدایت کے طریقے سکھائے اور ہدایت کے طریقوں میں سے ایک اس مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان دی جائے۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جسے یہ پسند ہو کہ کل وہ اللہ سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملے تو وہ اِن نمازوں کی حفاظت کرے جہاں سے انکے لئے اذان دی جائے کیونکہ اللہ نے تمہارے نبیﷺ کے لئے ہدایت کے طریق مقرر فرمائے ہیں اور یہ (نماز یں ) ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو جس طرح یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے تو تم اپنے نبیﷺ کی سنت کو ترک کرنے والے ہوگے اور اگر تم نے اپنے نبیﷺ کی سنت کو ترک کر دیا تو ضرور گمراہ ہو جاؤگے۔ جو آدمی اچھی طرح پاک، صاف ہو کر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کا قصدکرتا ہے تو اس کے ہر قدم کے عوض جو وہ اُٹھاتا ہے اللہ ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کے ساتھ ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور اس کے ذریعہ اس سے ایک بدی گرا دیتا ہے۔ ہم نے اپنے تئیں دیکھا کہ ہم سے (نماز) سے صرف وہی منافق پیچھے رہتا جس کا نفاق معلوم ہوتا اور ایسا آدمی بھی جسے دو آدمیوں کے درمیان (سہارے) سے لایا جاتا یہانتک کہ اسے صف میں کھڑا کیا جاتا۔
ابو الشعثائسے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت ابو ہریرہؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی ایک آدمی مسجد سے اٹھ کر چل پڑاتو حضرت ابو ہریرہؓ نے اس کے پیچھے اپنی نظر لگائے رکھی یہانتک کہ وہ مسجد سے نکل گیا۔ اس پر حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ اس نے ابو القاسمﷺ کی نافرمانی کی ہے۔