بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان مدینہ آئے تو اکٹھے ہو کر نمازوں کے اوقات مقرر کیا کرتے تھے۔ کوئی اس کے لئے اعلان نہیں کرتا تھا۔ ایک روز انہوں نے اس بارہ میں گفتگو کی۔ ان میں سے کسی نے کہا کہ نصارٰی کے ناقوس کی طرح کوئی ناقوس٭ بنالو۔ بعض نے کہا کہ یہود کے بگل کی طرح بگل بنالو۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ آپ کوئی آدمی کیوں مقرر نہیں کر دیتے جو نماز کے لئے بُلائے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے بلال! اُٹھو اور نماز کے لئے بُلاؤ۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت بلالؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان (کے الفاظ) دو دو دفعہ کہیں اور اقامت (کے الفاظ) ایک ایک دفعہ۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم اذان سنو تو وہی الفاظ کہو جو مؤذن کہتا ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت بلالؓ کو حکم دیا گیا کہ اذان(کے الفاظ کو) دو دو دفعہ کہیں اور اقامت کو ایک ایک دفعہ کہیں۔ ابن عُلیّہ سے روایت ہے کہ میں نے یہ بات حضرت ایّوب کو بتائی تو انہوں نے کہا سوائے قَدْ قَامَتِ الصَّلََاۃِ کے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ لوگ بات کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کے ذریعہ نماز کے وقت کا علم دیں جِسے وہ پہچان لیں۔ انہوں نے کہا اس کے لئے آگ روشن کریں یا کوئی ناقوس بجائیں۔ پھر حضرت بلالؓ کو حکم دیا گیا کہ اذان (کے الفاظ) دو دو دفعہ کہیں اور اقامت(کے الفا ظ) ایک ایک دفعہ۔ خالد حذّائی کی روایت میں اسی سند سے ہے کہ جب لوگ زیادہ ہوگئے تو انہوں نے ذکر کیا کہ (نماز کے وقت کا) علم دیں اور ان کی روایت ثقفی کی روایت کے مطابق ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے (اَنْ یُنَوَِّرُوا نَاراً) کے بجائے یُوْرُوْ نارًا کے الفاظ کہے۔
حضرت ابو محذورہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے ان کو یہ اذان سکھائی: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر الفاظ دہرائے اور کہے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسولؐ ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسولؐ ہیں۔ نماز کی طرف آؤ(یہ) دو مرتبہ(کہا)۔ کامیابی کی طرف آؤ(یہ) دو مرتبہ (کہا)۔ اسحاق نے مزید کہا کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے دو مؤذّن تھے۔ حضرت بلالؓ اور حضرت (عبداللہ) بن امّ مکتومؓ جو نابینا تھے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ نے فرمایا کہ حضرت ابن امّ مکتومؓ رسول اللہﷺ کے لئے اذان دیتے تھے اور وہ نابینا تھے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب فجر طلوع ہو جاتی تو حملہ کرتے تھے اور آپؐ اذان سننے کی طرف توجہ فرماتے۔ اگر آپؐ اذان سن لیتے تو حملہ کرنے سے رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے۔ ایک مرتبہ آپؐ نے کسی کو کہتے ہوئے سنا کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑاہے۔ تب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ فطرت پر۔ پھر اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ تب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تو آگ سے نکل گیا۔ پھرانہوں نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم مؤذن کو سنو تو وہی (الفاظ) کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ یقینا جس نے ایک مرتبہ مجھ پر درود بھیجا اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجے گا پھر اللہ سے میرے لئے وسیلہ طلب کرو کیونکہ یہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ کے ہی شایانِ شان ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ پس جس نے میرے لئے وسیلہ طلب کیا تو اس کے لئے شفاعت واجب ہوگئی۔