بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
اشعث بن ابی شعثاء محاربی اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے سناجبکہ انہوں نے ایک شخص کو اذان کے بعدمسجد سے باہر جاتے ہوئے دیکھاتو انہوں نے کہا کہ جہانتک اس شخص کا تعلق ہے تو اس نے ابو القاسمﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
عبدالرحمان بن ابو عمرہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ بن عفان مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں داخل ہوئے اور اکیلے بیٹھ گئے میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ آپؓ نے فرمایا اے میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو گویا وہ نصف رات عبادت کرتا رہا اور جس نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھی تو گویا اس نے ساری رات عبادت کی۔
انس بن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جندبؓ بن عبداللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی امان میں ہے۔ پس اللہ تم سے اپنی امان کے بارہ میں کچھ بھی جواب طلبی نہ کرے اور جس سے اس نے جواب طلبی کی تو وہ اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا۔
حضرت جندبؓ القسری کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی امان میں ہے۔ پس اللہ تم سے اپنی امان کے بارہ میں کچھ بھی جواب طلبی نہ کرے اور جس سے اس نے اپنی امان کے بارہ میں کچھ بھی جواب طلبی کی وہ اسے پکڑ لے گا اور اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا۔ ابو بکر بن ابی شیبہ کی روایت میں حضرت جندبؓ بن سفیان نبیﷺ سے یہی روایت کرتے ہیں لیکن اس میں ’’جہنم میں اوندھے منہ گرائے جانے‘‘ کا ذکر نہیں کیا۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت محمود بن ربیع انصاریؓ نے انہیں بتایا کہ حضرت عتبانؓ بن مالکؓ جو نبیﷺ کے انصارصحابہؓ میں سے تھے جو (غزوہ) بدر میں شریک ہوئے تھے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! میری بینائی کمزور ہو گئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔ جب بارشیں ہوتی ہیں تو وہ وادی جو میرے اور ان کے درمیان ہے بہہ پڑتی ہے اور میں ان کی مسجد میں جاکر انہیں نماز نہیں پڑھا سکتا۔ یا رسولؐ اللہ! میری خواہش ہے کہ آپؐ تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں جسے میں نماز پڑھنے کی جگہ بنالوں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ انشاء اللہ میں ضرور ایسا کروں گا۔ حضرت عتبانؓ کہتے ہیں اگلی صبح جب دن چڑھا تو رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ تشریف لائے رسول اللہﷺ نے اجازت چاہی۔ میں نے اجازت دی۔ جب آپؐ (گھر میں آئے تو) بیٹھے نہیں یہانتک کہ اندر تشریف لے آئے۔ فرمایا کہ تم اپنے گھر میں کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر کے ایک کونہ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور ہم بھی آپؐ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیرا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے آپؐ کوخزیر کے لئے روک لیاجو ہم نے آپؐ کے لئے تیار کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ محلہ کے بعض اور افراد بھی ہمارے ارد گرد سے آگئے۔ یہانتک کہ گھر میں آدمیوں کی خاصی تعداد جمع ہو گئی۔ اُن میں سے کسی نے کہا مالکؓ بن دُخشُن کہاں ہے؟ ایک نے کہا کہ وہ تو منافق ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت نہیں کرتا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم اس کے بارہ میں یہ مت کہو۔ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا چاہتے ہوئے لَا اِلٰہَ اِلَا اللّٰہُ کا اقرار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے کہا کہ ہم تو اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقین کے لئے ہی دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کی رضا چاہتے ہوئے لَا اِلٰہَ اِلَا اللّٰہُ کا اقرار کیا اللہ اس پر آگ کو حرام فرما چکا ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ پھر میں نے حُصین بن محمد انصاری سے جو بنی سالم کے سرداروں میں سے تھے محمود بن ربیع ؓ کی روایت کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے اس بارہ میں ان کی تصدیق کی۔ زہری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے محمود بن ربیعؓ نے حضرت عتبانؓ بن مالک سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ(حضرت عتبانؓ نے) کہا میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا پھر انہوں نے یونس کی مانند روایت بیان کی مگر قائل کے بجائے رجل کہا اور دُخْشُنْ کے بجائے دُخَیْشِن کہا اور روایت میں یہ بھی اضافہ کیا کہ محمودؓ نے کہا کہ میں نے یہ روایت کچھ لوگوں کے پاس بیان کی جن میں حضرت ابو ایوبؓ انصاری بھی تھے تو انہوں نے کہا کہ میرا خیال نہیں کہ جو تم بیان کرتے ہو وہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے قسم کھائی کہ جاکر حضرت عتبانؓ سے پوچھوں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر میں ان کے پاس واپس آیا اور ان کو بہت بوڑھا پایا جن کی بینائی جاتی رہی تھی اور وہ اپنی قوم کے امام تھے۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا اور اس روایت کے بارہ میں ان سے پوچھا۔ تو انہوں نے مجھے وہی بات بتائی جو انہوں نے مجھے پہلی مرتبہ بتائی تھی۔ زہری کہتے ہیں کہ اس کے بعد (دیگر) فرائض اور امور نازل ہوئے جن کے بارہ میں ہم سمجھ گئے کہ اب حکم اترنا بند ہو گئے ہیں پس اب اگر کوئی دھوکہ نہ کھانا چاہے تو نہ کھائے۔ اوزاعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے زہری نے حضرت محمودؓ بن ربیع سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے ہمارے گھر میں ایک ڈول سے کلی کی تھی۔ محمودؓ نے کہا کہ مجھے حضرت عتبانؓ بن مالک نے بتایا کہ انہوں نے کہا میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میری نظر خراب ہو گئی ہے۔ آگے(راوی نے) ان کے اس قول تک روایت بیان کی کہ آپؐ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر ہم نے رسول اللہﷺ کو ایک جشیشہکے لئے جسے ہم نے آپؐ کے لئے تیار کیا تھا روک لیا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ان کی دادی ملیکہ نے رسول اللہﷺ کو کھانے پر بُلایا۔ جو انہوں نے تیار کیا تھا۔ آپؐ نے اس میں سے کھایا اور فرمایااٹھو۔ میں تمہیں نماز پڑھاتا ہوں۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں اپنی ایک چٹائی لینے گیا۔ جو لمبا عرصہ استعمال کی وجہ سے سیاہ ہوگئی تھی۔ میں نے اس پر پانی چھڑکا۔ رسول اللہﷺ اس پر کھڑے ہوئے اور میں نے اور یتیم (لڑکے)نے آپؐ کے پیچھے صف بنالی اور بوڑھی خاتون ہمارے پیچھے تھی۔ پھر رسول اللہﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر تشریف لے گئے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ اخلاق میں تمام انسانوں سے بہترین تھے۔ بعض اوقات جب نماز کا وقت ہوجاتا اور آپؐ ہمارے گھر میں ہوتے تو آپؐ فرش کے بارہ میں حکم دیتے جو آپؐ کے نیچے ہوتا۔ تو اس پر جھاڑو دیا جاتا اور پانی بہایا جاتا۔ پھر رسول اللہﷺ امامت فرماتے اور ہم آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوجاتے۔ آپؐ ہمیں نماز پڑھاتے۔ ان کا فرش کھجور کی ڈالیوں کا تھا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے صرف میں، میری ماں اور میری خالہ ام حرام موجود تھیں۔ آپؐ نے فرمایا اُٹھو میں تمہیں نماز پڑھاتا ہوں۔ وہ کسی (فرض) نماز کا وقت نہ تھا۔ آپؐ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ایک شخص نے ثابت سے پوچھا کہ حضرت انسؓ کو آپؐ نے کہاں کھڑا کیا؟ انہوں نے کہا کہ آپؐ نے ان کو اپنے دائیں طرف کھڑا کیا۔ اور آپؐ نے ہم سب گھر والوں کے لئے دنیا و آخرت کی ہر قسم کی بھلائی کے لئے دعا کی۔ میری والدہ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ چھوٹا سا خادم، اس کے لئے بھی دعا کریں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اس پر حضورؐ نے میرے لئے ہر بھلائی کی دعا کی۔ آپؐ نے میرے لئے جو دعا کی اس کے آخر میں کہا اے اللہ! اس کا مال اور اولاد زیادہ کر اور اس کے لئے اس میں برکت ڈال۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے انہیں اور ان کی والدہ یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی۔ وہ کہتے ہیں کہ آپؐ نے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کیا اور عورت کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نماز پڑھتے اور میں آپؐ کے پہلو میں ہوتی اور بسا اوقات سجدہ کرتے ہوئے آپؐ کا کپڑا مجھے لگتا اور آپؐ اوڑھنی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔