حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ پیاز کے کھیت کے پاس سے گزرے۔ ان میں سے کچھ لوگ اترے اور اس میں سے انہوں نے کھایااور دوسروں نے نہ کھایا۔ پھر ہم حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ان لوگوں کو بُلایا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا تھا اور دوسروں کو پیچھے رکھایہانتک کہ اس کی بُو جاتی رہی۔
معدان بن ابو طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ بن خطاب نے جمعہ کے روز خطبہ دیااور اللہ کے نبیﷺ اور حضرت ابو بکرؓ کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں نے رؤیا میں دیکھا ہے گویا ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں اور میں اس کی یہی تعبیر سمجھتا ہوں کہ اب میری موت قریب ہے۔ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں اپنا جانشین مقرر کردوں اور اللہ تعالیٰ نہ تو اپنے دین کو ضائع کرے گا اور نہ اپنی خلافت کو اور نہ ہی اس کو جس کے ساتھ اس نے اپنے نبیﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اگرمیرے بارہ میں حکم جلدی آگیا تو ان چھ آدمیوں کے باہمی مشورہ سے خلافت ہوگی جن سے رسول اللہﷺ راضی تھے جب آپؐ کی وفات ہوئی۔ اور مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ جن کو میں نے اسلام (کے مطابق) اپنے ہاتھ سے سزا دی ہے اس معاملہ میں طعن کریں گے۔ اگر انہوں نے ایسا کیاتو یہ سب اللہ کے دشمن، کافر اور گمراہ ہوں گے۔ پھر میں اپنے بعداپنی رائے میں کلالہ (کے مسئلہ) سے اہم کوئی چیز نہیں چھوڑ رہااور میں نے کسی چیز کے بارہ میں رسول اللہﷺ سے اتنا زیادہ نہیں پوچھا جتنا کلالہ کے بارہ میں پوچھا اور آپؐ نے بھی مجھ سے کسی چیزکے بارہ میں اتنی شدت نہیں فرمائی جتنی اس میں فرمائی۔ یہانتک کہ آپؐ نے اپنی انگلی میرے سینہ پر مار کر فرمایا کہ اے عمر! کیا تجھے آیت الصیف (یعنی موسم گرماوالی آیت) جو سورۃ النساء کے آخر پر ہے کافی نہیں؟ (حضرت عمرؓ نے فرمایا)اگر میں زندہ رہا تو اس بارہ میں ایسا فیصلہ کروں گا جس کے مطابق کوئی خواہ وہ قرآن پڑھتا ہو یا نہ پڑھتا ہو فیصلہ کرسکے گا۔ پھر آپؓ نے فرمایا کہ اے اللہ! میں تجھے امراء ممالک پر گواہ ٹھہراتا ہوں۔ میں نے انہیں اس لئے لوگوں پر مقرر کیا ہے کہ وہ اُن میں انصاف کریں اور لوگوں کو اُن کا دین اور اُن کے نبیﷺ کی سنت سکھائیں اور اُن میں ان کے مالِ فے کو تقسیم کریں اور ان کے کام میں جو مشکل آن پڑے، وہ میرے سامنے پیش کریں۔ پھر اے لوگو! تم جو اِن دو پودوں یعنی پیاز اور لہسن میں سے کھاتے ہو۔ میں اِن دونوں کوتکلیف دہ سمجھتا ہوں اور میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے کہ جب آپؐ کو مسجد میں کسی آدمی سے ان دونوں کی بو آتی تو آپؐ کے ارشاد پر اسے بقیع بھیج دیا جاتا۔ پس جو کوئی ان دونوں کو کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بو مارلے۔
يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِهِ .
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی آدمی کو گمشدہ چیز کے بارہ میں مسجد میں اعلان کرتے ہوئے سنے تو اسے چاہیے کہ وہ کہے کہ’’اللہ اس چیز کو تیری طرف نہ لوٹائے‘‘ کیونکہ مساجد اس غرض کے لئے نہیں بنائی گئیں۔
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبیﷺ نے نماز پڑھائی تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ سرخ اونٹ کے لئے کس نے اعلان کیا تھا؟ تب نبیﷺ نے فرمایا کہ وہ تجھے نہ مِلے۔ مساجد اسی لئے بنائی جاتی ہیں جس مقصد کے لئے وہ بنائی جاتی ہیں۔ ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبیﷺ فجر کی نماز پڑھا چکے تو ایک اعرابی آیا اور اپنا سر مسجد کے دروازہ سے داخل کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آجاتا ہے اور اسے شک میں مبتلا کر دیتا ہے یہانتک کہ اسے یہ پتہ نہیں لگتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی۔ پس اگر تم میں سے کوئی ایسا محسوس کرے تو اسے چاہیے کہ جب وہ (تشہّد میں ) بیٹھا ہوا ہو دو سجدے کرلے۔
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان دُم دبا کر بھاگ جاتاہے تا کہ اذان کی آواز نہ سُنے۔ پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو آجاتا ہے۔ پھر جب اقامت کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر لیتا ہے پھر جب اقامت ہو جاتی ہے تو آکر آدمی اور اس کے دل میں حائل ہونے لگتا ہے یہ کہتا ہے فلاں چیز کو یاد کر فلاں چیز کو یاد کرجواسے یادنہیں تھیں یہانتک کہ آدمی کو یہ یادنہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی۔ پس جب تم میں سے کسی کو یہ یادنہ رہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے۔ عبدالرحمٰن الاعرج حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے اقامت کہی جاتی ہے تو شیطان دم دبا کر بھاگ جاتا ہے اور انہوں نے اضافہ کیا کہ وہ اسے رغبتیں دلاتا ہے، امیدیں دلاتا ہے اور اس کی ضروریات اسے یاد کراتا ہے جو اس کو یادنہیں تھیں۔
حضرت عبداللہؓ بن بُحَیْنَہسے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں ایک نماز میں دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے اور آپؐ کے ساتھ لوگ بھی کھڑے ہوگئے۔ جب آپؐ نے اپنی نماز ادا کر لی اور ہم آپؐ کے سلام کا انتظار کرنے لگے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے ہوئے آپؐ نے اللہ اکبر کہا اور دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاَتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ .
حضرت عبداللہؓ بن بُحَیْنَہ اسدی جوبنی عبدالمطلب کے حلیف تھے سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نماز ظہر میں بجائے بیٹھنے کے کھڑے ہو گئے۔ پھر جب آپؐ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپؐ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھنے کی حالت میں دو سجدے کئے اور ہر سجدہ کے وقت تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی آپؐ کے ساتھ دونوں سجدے کئے اس قعدہ کی جگہ جو آپؐ بھول گئے تھے۔
حضرت عبداللہؓ بن مالک بن بُحَیْنَہ ازدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ
ﷺ
دوسری رکعت کے بعد اپنی نماز میں کھڑے ہوگئے جبکہ آپؐ بیٹھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ چنانچہ آپؐ نے اپنی نماز جاری رکھی۔ جب آپؐ نماز کے آخر پر پہنچے تو قبل اس کے کہ آپؐ سلام پھیرتے۔ آپؐ نے سجدئہ (سہو)کئے پھر سلام پھیرا۔