بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 49 hadith
حضرت حنظلہ الاُسَیَِِّّدِیِّؓ جو رسول اللہﷺ کے کاتبوں میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ مجھے ملے اور کہا حنظلہ تم کیسے ہو؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا سبحان اللہ! یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ حضرت حنظلہؓ کہتے ہیں میں نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس ہوتے ہیں تو آپؐ ہمیں دوزخ اور جنت یاد کراتے ہیں یہانتک کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں لیکن جب ہم رسول اللہﷺ کے پاس سے نکلتے ہیں اور بیوی بچوں اور جائیدادوں میں مشغول ہوتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ اس پر حضرت ابو بکرؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم! ہم پر بھی یہی گذرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر میں اور حضرت ابو بکرؓ چل پڑے یہانتک کہ ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم آپؐ کے پاس ہوتے ہیں تو آپؐ ہمیں دوزخ اور جنت یاد کرادیتے ہیں یہانتک کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں لیکن جب ہم آپؐ کے پاس سے جاتے ہیں اور بیوی بچوں اور جائیدادوں میں پڑ جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس میں تم میرے پاس ہوتے ہو اور ذکر میں ہوتے ہو تو ضرور فرشتے تمہارے بچھونوں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کرتے لیکن اے حنظلہ!یہ وقت وقت کی بات ہے۔ یہ آپؐ نے تین دفعہ فرمایا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں اور وہ اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ یقینا میری رحمت میرے غضب پر غالب ہوگی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تخلیق کر چکا تو اپنی کتاب میں اپنے اوپر واجب کر دیااور وہ اس کے پاس رکھی ہوئی ہے یقینا میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔
حضرت حنظلہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس تھے۔ آپؐ نے ہمیں وعظ فرمایا اور آگ یاد دلائی۔ وہ کہتے ہیں پھر میں گھر گیا تو بچوں سے ہنسنے لگا اور بیوی سے کھیلنے لگا۔ وہ کہتے ہیں پھر میں باہر آیا اور حضرت ابو بکرؓ سے ملا اور ان سے اس کا ذکر کیا توحضرت ابو بکرؓ کہنے لگے کہ جیسا تم ذکر کر رہے ہو۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ (حضرت حنظلہؓ کہتے ہیں ) پھر ہم رسول اللہﷺ سے ملے تو میں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ!حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایاجانے دو۔ پھر میں نے آپؐ کو وہ بات بتائی اور حضرت ابو بکرؓ نے بھی کہا کہ میں نے بھی ایسے ہی کیا ہے جیسے اس نے کیا ہے۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا اے حنظلہؓ ! یہ وقت وقت کی بات ہے۔ اگر تمہارے دل ایسے ہو جائیں جیسے وہ ذکر کے وقت ہوتے ہیں تو فرشتے تم سے مصافحہ کرتے یہانتک کہ وہ رستوں میں تمہیں سلام کرتے۔ ایک اور روایت میں (عَنْ حَنْظَلَۃَ قَالَ کُنَّاعِنْدَ رَسُوْلِ اللَّہِﷺ فَوَعَظَنَا فَذَکَّرَنَا النَّارَ کی بجائے) عَنْ حَنْظَلَۃَ التَّمِیْمِیِّ الْاُسَیِّدِیِّ الْکَاتِبِ قَالَ کُنَّا عَنْدَ النَّبِیِّﷺ فَذَکَّرَنَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے کئے اور ننانوے حصے اپنے پاس روک لئے اور زمین پرایک حصہ اتارا۔ اسی ایک حصہ کی وجہ سے سب مخلوقات آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے یہانتک کہ ایک چوپایہ بھی اپنے بچہ پر سے اپنا کھُراٹھا لیتا ہے تا کہ اسے تکلیف نہ پہنچائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے سورحمتیں تخلیق کیں۔ ایک(رحمت) اس نے اپنی مخلوق میں رکھ دی اور ایک کم سو اپنے پاس محفوظ رکھ لیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی سو رحمتیں ہیں جن میں سے اس نے صرف ایک رحمت جنّ و انس، چوپائیوں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتاری ہے۔ اس کی وجہ سے وہ آپس میں ایک دوسرے سے شفقت کا سلوک کرتے ہیں۔ اسی (رحمت) کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور اسی (رحمت) کی وجہ سے جنگلی جانور اپنے بچے پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ نے ننانوے رحمت کو مؤخّر فرمارکھا ہے جس کے ذریعہ قیامت کے دن وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔
حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یقینا اللہ کی سو رحمتیں ہیں۔ ان میں سے ایک رحمت ہے جس کی وجہ سے مخلوق باہم ایک دوسرے سے نرمی سے پیش آتی ہے۔ (باقی)ننانوے قیامت کے دن کے لئے ہیں۔
حضرت سلمانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس دن اللہ نے آسمانوں او ر زمین کو پیدا کیا اس وقت سو رحمتیں پیدا کیں۔ ہر رحمت آسمانوں اور زمین کے درمیان تہ بتہ ہے۔ ان میں سے صرف ایک رحمت اس نے زمین میں رکھی۔ اسی ایک (رحمت)کی وجہ سے والدہ اپنے بچہ پر شفقت کرتی ہے اور جنگلی جانور اور پرندے ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں۔ پھر جب قیامت کادن ہوگاوہ ان (99رحمتوں ) کواس رحمت کے ساتھ مکمل کر دے گا۔