بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 49 hadith
حضرت عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے۔ تو ان قیدیوں میں سے ایک عورت کچھ تلاش کرنے لگی۔ جب بھی وہ قیدیوں میں سے کسی بچہ کو پاتی تو اسے پکڑتی اور اسے اپنے پیٹ کے ساتھ چمٹاتی اور اسے دودھ پلانے لگتی۔ اس پر رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا کیا تم خیال کرسکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں پھینک سکتی ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم جہاں تک اس کی طاقت ہے، اسے نہیں پھینکے گی۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایایقینا اللہ اپنے بندوں پر اس عورت کے اپنے بچہ پر رحم کرنے سے زیادہ رحم کرتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایااگر مؤمن جان لے کہ اللہ کے پاس عقوبت میں سے کیا ہے تو کوئی اس کی جنت کی امیدنہ کرے۔ اور اگر کافر جان لے جو اللہ کے پاس رحمت ہے تو وہ اس کی جنت سے مایوس نہ ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلادینا پھر اس کی نصف(راکھ) خشکی میں اڑا دینا اور نصف (راکھ) سمندرمیں۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے اس پر قابو پا لیا تو وہ ضرور اسے ایسا عذاب دے گا کہ جہانوں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہ دیا ہوگا۔جب وہ شخص مر گیا تو انہوں نے وہی کیا جس کااس نے انہیں حکم دیا تھا۔ پھر اللہ نے خشکی کو حکم دیا تو اس نے سب اکٹھا کر دیا جو اس میں تھا اور سمندر کو حکم دیا تو اس نے سب اکٹھا کر دیا جو اس میں تھا۔ پھر اللہ نے (اس سے) پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا محض تیرے ڈرکی وجہ سے۔ اے میرے رب !اور تو زیادہ جانتا ہے۔ تو اللہ نے اسے بخش دیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے اپنے نفس پر زیادتی کی پھر جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا اور مجھے ریزہ ریزہ کر دینا اور مجھے ہوا میں سمندر پر بکھیر دیناکیونکہ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھ پرقابو پالیا تو ضرور وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہ دیا ہوگا۔ فرمایا انہوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ اللہ نے زمین سے فرمایا جو تو نے لیا ہے وہ دے دے تودیکھو وہ شخص کھڑا تھا۔ اللہ نے اس سے پوچھاکہ تجھے کس چیزنے ایسا کرنے پر آمادہ کیا؟ اس پر اس نے کہا تیری خشیت نے اے میرے رب! یا اس نے کہا تیرے خوف نے۔ اس نے اس وجہ سے اسے بخش دیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک عورت ایک بِلی کے باعث آگ میں گئی جسے اس نے باندھ دیاتھا۔ نہ تو اسے کھلاتی تھی نہ ہی چھوڑتی تھی کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھائے یہاں تک کہ وہ کمزور ہو کر مر گئی۔ زہری کہتے ہیں یہ اس لئے ہے تاکہ کوئی شخص تکیہ نہ کرے نہ ہی کوئی مایوس ہو. ایک روایت میں (أَسْرَف رَجُلٌکی بجائے) أَسْرَفَ عَبْدٌ کے الفاظ ہیں اور یہ روایت فَغَفَرَ اللَّہُ لَہُ تک ہے۔ اس روایت میں عورت کا واقعہ جس میں بلی کا ذکر ہے بیان نہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ عزوجل نے ہر چیز سے جس نے اس آدمی سے کچھ اخذ کیا تھا فرمایا جو تو نے اس سے لیا ہے وہ دے دے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جسے اللہ نے مال و اولاد سے نوازا تھا اس نے اپنی اولاد سے کہا کہ تم ضرور و ہی کرنا جس کا تمہیں حکم دیتا ہوں ورنہ میں تمہارے سوا کسی اور کو اپنی وراثت کا مالک بنا دوں گا۔ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا (راوی کہتے ہیں ) میں زیادہ سے زیادہ یہ جانتا ہوں کہ اس نے کہا پھر مجھے ریزہ ریزہ کر دینا پھر ہوا میں بکھیر دینا کیونکہ میں نے نیکی کی خاص کوشش نہیں کی اور یقینا اللہ اس پر قادر ہے کہ وہ مجھے عذاب دے۔ آپؐ نے فرمایا پھر اس نے ان سے پختہ عہد لیا۔ اور میرے رب کی قسم انہوں نے اس کے ساتھ و ہی کیا۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ تجھے کس چیز نے ایسا کرنے پر آمادہ کیا؟ اس نے کہا تیرے خوف نے۔ آپؐ نے فرمایا اس بات کے سوا اس کو اور کسی چیز نے نہ بچایا۔ ابو عوانہ سے روایت ہے کہ لوگوں میں سے ایک شخص جسے اللہ نے مال و اولاد سے نوازا تھا۔ ایک روایت میں (اِنَّ رَجُلًا فِیْمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَاشَہُ اللَّہُ مَالًا وَوَلَدًاکی بجائے) أَنَّ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ رَغَسَہُ اللَّہُ مَالًا وَوَلَدًاکے الفاظ ہیں۔ ایک روایت میں فَاِنِّیْ لَمْ اَبْتَھِرْ کی بجائے فَاِنَّہُ لَمْ یَبْتَئِرْ کے الفاظ ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ قتادہ نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس نے اللہ کے حضور کوئی نیکی جمع نہ کی تھی۔ ایک روایت میں فَاِنَّہُ وَاللَّہِ مَاابْتَأَرَکے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں مَا امْتَأَرَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اپنے رب عزوجل سے حکایت کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ ایک بندہ نے گناہ کیا اور پھر عرض کیا اے اللہ ! مجھے میرا گناہ بخش دے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندہ نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کاایک رب ہے اور گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے۔ پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندہ نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور کہا اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔ اللہ نے فرمایا میرے بندہ نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ (تو فرمایا) تو جو چاہے کر میں نے تجھے بخش دیا۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں مجھے نہیں پتہ آیا(یہ) اِعْمَلْ مَا شِئْتَ تیسری پر فرمایا یا چوتھی پر. ایک اور روایت میں (أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا کی بجائے) أَنَّ عَبْدًا اَذْنَبَ ذَنْبًا کے الفاظ ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ (ﷺ ) نے تین مرتبہ فرمایا اَذْنَبَ ذَنْبًا اور تیسری دفعہ فرمایا میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا اب جو چاہے وہ کرے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ یقینا اللہ عزوجل رات کو اپنا ہاتھ پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے یہ (عمل) اس وقت تک ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع ہو۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ سے بڑھ کر کسی کو اپنی تعریف پسندنہیں۔ اسی وجہ سے اس نے اپنی تعریف کی۔ نہ ہی اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند ہے اور اس لئے اس نے بے حیائی والے اعمال کو حرام قرار دیا ہے۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں ہے۔ اسی لئے اس نے بے حیائی کے اعمال کو خواہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ حرام قرار دیا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں جسے اپنی مدح پسند ہو۔