بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 49 hadith
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے۔ اس نے ملک کے سب سے بڑے عالم کے بارہ میں پوچھا چنانچہ اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا۔ وہ شخص اس کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اس نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا اس کی توبہ ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس طرح سو پورے کر دئیے۔ اس نے پھر ملک کے سب سے بڑے عالم کے متعلق پوچھا۔ تو پھر اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا۔ اس نے کہا کہ اس نے سو آدمیوں کو قتل کیا ہے کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ بندہ اور اس کی توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے۔ فلاں علاقہ کی طرف چلے جاؤ۔ وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ پس تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرو اور واپس اپنے ملک مت لوٹنا کیونکہ وہ ملک بُرا ہے۔ پس وہ چل پڑا، ابھی اس نے آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ اسے موت نے آلیا۔ اس کے بارہ میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ اپنے دل سے توبہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف آرہا تھا۔ مگر عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی۔ اتنے میں ان کے پاس انسانی صورت میں ایک فرشتہ آیا۔ انہوں نے اسے اپنے درمیان حکم بنا لیا۔ اس نے کہا کہ دونوں زمینوں کی پیمائش کرو۔ پس جس کے وہ زیادہ قریب ہوگا وہ اسی کا ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی پیمائش کی تو انہوں نے اسے اس زمین کے زیادہ قریب پایا جس کی طرف جانے کا اس نے ارادہ کیا تھا۔ تو رحمت کے فرشتوں نے اسے قبضہ میں لے لیا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ حسن نے کہا ہمارے پاس ذکر کیا گیا ہے کہ جب اس کی موت آئی اس نے اپنا سینہ (مطلوبہ منزل کی طرف) بڑھا دیا۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل ایک یہودی یا عیسائی کو ہر مسلمان کے سپرد کر دے گا اور فرمائے گا کہ یہ تیرے لئے آگ سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے ننانوے آدمی قتل کئے۔ پھر وہ پوچھنے لگا کہ کیا اس کے لئے توبہ کی کوئی راہ ہے؟وہ ایک راہب کے پاس آیا اور اس سے پوچھا۔ اس نے کہا تیرے لئے کوئی توبہ نہیں۔ چنانچہ اس نے اس راہب کوبھی قتل کر دیا۔ پھر وہ سوال پوچھنے لگا اور وہ اس بستی سے نکل کر ایک اور بستی کی طرف گیا جس میں نیک لوگ تھے۔ ابھی وہ راستہ میں تھا کہ اسے موت نے آلیا اور اس نے اپنے سینہ کو(اپنی سابقہ بستی سے) دور کردیااور مرگیا۔ رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے بارہ میں جھگڑنے لگے۔ وہ اس (پرانی بستی) سے نیک بستی کے ایک بالشت زیادہ قریب تھا۔ اس لئے اسے (اس نیک بستی) کے باشندوں میں شمار کیا گیا۔ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ نے اس زمین کو وحی فرمائی کہ تودور ہو جا اور اس زمین کو وحی فرمائی کہ قریب ہوجا۔
ابو بردہ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کو بتایاعون اور سعید بیان کرتے ہیں کہ وہ دونوں موجود تھے جب نبیﷺ نے فرمایا کوئی مسلمان شخص نہیں مرتا مگر اللہ اس کی جگہ آگ میں ایک یہودی یا عیسائی کو ڈال دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے ابو بردہ کو تین بار اللہ کی قسم دی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ ان کے والدنے یہ حدیث رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کی ہے؟راوی کہتے ہیں انہوں نے ان کے سامنے قسم کھائی۔ راوی کہتے ہیں کہ سعیدنے مجھے نہیں بتایا کہ انہوں نے ان سے قسم طلب کی تھی اور عون کی بابت انکار نہیں کیا۔
حضرت ابو بردہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بعض لوگ مسلمانوں میں سے پہاڑوں جیسے گناہ لے کر آئیں گے۔ جنہیں اللہ بخش دے گا۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے ان گناہوں کو یہود و نصاریٰ پر ڈال دے گا۔ ابو روح نے کہا میں نہیں جانتا کہ شک کس کی طرف سے ہے۔ ابو بردہؓ نے کہا کہ میں نے یہ بات حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کو بتائی تو انہوں نے کہا کہ کیا تیرے والدنے تجھے یہ بات نبیﷺ سے روایت کر کے بتائی۔ میں نے کہا ہاں۔
صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمرؓ سے کہا کہ آپ نے رازداری سے بات کرنے کے بارہ میں رسول اللہﷺ کو کیا فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے آپؐ کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن مؤمن اپنے رب عزوجل کے قریب کیا جائے گا یہانتک کہ وہ(اللہ) اس پر (رحمت کا)ہاتھ رکھے گا۔ اور وہ اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروائے گا اور کہے گا کیا تو جانتا ہے؟ اس پر وہ کہے گا اے میرے رب! میں جانتا ہوں اللہ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے (ان گناہوں کی) پردہ پوشی کی اور میں آج بھی تجھے بخشتا ہوں۔ پھر اسے نیکیوں کا اعمال نامہ دے دیا جائے گا جہاں تک کافروں اور منافقوں کا تعلق ہے۔ انہیں خلقت کے سامنے بلایا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا۔
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ غزوئہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے۔ آپؐ کا قصد اہل روم اور شام کے عرب کے عیسائیوں کی طرف تھا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھے عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعبؓ بن مالک نے بتایا کہ عبداللہ بن کعب، کعبؓ کے نابینا ہونے کے بعد ان کے بیٹوں میں سے ان کے گائیڈ تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت کعبؓ بن مالک کو اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا جب وہ غزوئہ تبوک میں رسول اللہﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ حضرت کعبؓ بن مالک نے بیان کیا کہ میں سوائے غزوئہ تبوک کے کبھی کسی غزوہ میں رسول اللہﷺ سے پیچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوئہ بدر میں بھی میں پیچھے رہ گیا تھا۔ لیکن اس موقعہ پر آپؐ نے کسی پیچھے رہنے والے پر اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا تھا۔ اس وقت رسول اللہﷺ اور مسلمان صرف قریش کے ایک قافلہ کے ارادہ سے نکلے تھے یہانتک کہ اللہ نے انہیں اور ان کے دشمنوں کو پہلے سے طے کئے ہوئے وقت کے بغیر اکٹھا کردیا اور میں عقبہ کی رات بھی رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا جب ہم نے اسلام پر پختہ عہد کیا تھا اور میں پسندنہیں کرتاکہ اس (بیعت عقبہ) کی بجائے بدر میں حاضر ہوتا اگرچہ (اس بیعت عقبہ) کی نسبت جنگ بدر کا لوگوں میں زیادہ چرچا ہے۔ میرا واقعہ یوں ہے جب میں غزوئہ تبوک میں رسول اللہﷺ سے پیچھے رہ گیا تھا۔ میں کبھی اپنی زندگی میں اتنا مضبوط اور خوشحال نہیں تھا جتنا کہ اس وقت تھاجب میں اس غزوہ میں آپؐ سے پیچھے رہ گیا تھااور اللہ کی قسم اس سے قبل کبھی میں نے سواری کی دواونٹنیاں اکٹھی نہیں کی تھیں لیکن اس غزوہ کے وقت میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ رسول اللہﷺ سخت گرمی میں اس غزوہ کے لئے روانہ ہوئے اور آپؐ کو ایک لمبے سفر اور صحراء کا سامنا تھا اور ایک بڑی تعداد میں دشمن سے مقابلہ تھااور آپؐ نے مسلمانوں پر یہ صورت حال اچھی طرح واضح کر دی تھی تاکہ وہ اپنے غزوہ کے لئے خوب اچھی طرح تیاری کر لیں۔ آپؐ نے انہیں اس سمت کا بھی بتا دیا تھا جس کا آپؐ ارادہ رکھتے تھے اور رسول اللہﷺ کے ساتھ مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جن کا کسی محفوظ کرنے والی کتاب میں ذکر نہیں تھاان کی مراد اس سے رجسٹرتھی۔ حضرت کعبؓ کہتے ہیں کہ شاذ ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو پیچھے رہ کر یہ سمجھتا ہو کہ اس کا معاملہ آپﷺ پر اس وقت تک مخفی رہے گا جب تک اس کے بارہ میں اللہ عز ّوجل کی وحی نہ اترے۔ رسول اللہﷺ اس غزوہ کے لئے تشریف لے گئے جب پھل پک چکے تھے اور سائے خوشگوار لگتے تھے اور میں ان کی طرف مائل تھااوررسول اللہﷺ اور لوگ تیاری کرنے لگے اور میں نے کوئی تیاری نہ کی اور لوگوں کی کوشش جاری رہی۔ پھرمیں بھی صبح جاتا کہ ان کے ساتھ تیاری کروں لیکن واپس لوٹ آتا۔ میں اپنے دل میں سوچتا کہ میں اس پر قادر ہوں جب بھی چاہوں اور میرا یہ معاملہ طول پکڑتا تھا۔ پس رسول اللہﷺ ایک صبح روانہ ہو گئے اور مسلمان آپؐ کے ساتھ تھے اور میں نے کچھ تیاری نہ کی اور میں صبح نکلا اور واپس آگیا۔ اور میں نے کچھ نہ کیا اور دیر تک میری یہ کیفیت چلتی رہی یہاں تک کہ وہ تیزی سے چل پڑے اور اہلِ غزوہ دور نکل گئے اور میرے لئے ممکن نہ ہو سکااور میں نے ارادہ کیا کہ روانہ ہو جاؤں اور ان کو جا ملوں۔ اے کاش! میں نے ایسا کر لیا ہوتامگر میرے لئے یہ مقدرنہ تھا۔ رسول اللہﷺ کے جانے کے بعد جب بھی میں باہر لوگوں میں جاتا تو مجھے یہ بات غمگین کرتی کہ میں کوئی آدمی نہ دیکھتا جس میں اپنا نمونہ پاتا۔ صرف ایسا آدمی دیکھتایا تو وہ شخص جن پہ منافقت کا الزام تھا یاکمزورلوگوں میں سے کوئی شخص جنہیں اللہ نے معذور ٹھہرایا تھا۔ بہرحال رسول اللہﷺ نے میرا ذکر نہ فرمایا یہانتک کہ آپؐ تبوک(مقام پر) پہنچ گئے۔ تبوک میں جب آپؐ لوگوں میں تشریف فرما تھے آپؐ نے فرمایا کعب کو کیا ہوا؟ تب بنی سلمہ کے ایک شخص نے کہا یا رسولؐ اللہ! اس کو اس کی امارت اور اس کی خود پسندی نے روک لیا ہے٭۔ اس پر حضرت معاذ بن جبلؓ نے اس سے کہا کہ تم نے بہت بُرا کہا۔ اللہ کی قسم یا رسولؐ اللہ! ہم تو اس میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ اس پر رسول اللہﷺ خاموش رہے۔ اسی اثناء میں آپؐ نے سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص کو دور سے آتے ہوئے دیکھا جس سے سراب ہٹ رہا تھا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ابو خیثمہ ہو جا‘‘۔ تووہ ابو خیثمہؓ انصاری ہی تھے۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے کھجور کا ایک صاع صدقہ دیا تھا اور منافقوں نے ہنسی اڑائی تھی۔ کعب کہتے ہیں کہ جب ٭لفظی ترجمہ عربی محاورہ کا یہ ہے کہ’’اس کی دو چادریں اور اس کا اپنے دونوں پہلوؤں کو دیکھنا‘‘ مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہﷺ تبوک سے واپس تشریف لا رہے ہیں تو مجھے پریشانی پیدا ہوئی اور میں جھوٹے بہانے سوچنے لگا کہ کل کس طرح آپؐ کی ناراضگی سے بچ سکتا ہوں اور میں نے اس بارہ میں اپنے گھر کے تمام سمجھدار لوگوں سے مشورہ بھی کیا۔ جب مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہﷺ (مدینہ) پہنچنے والے ہیں تومجھ سے سب جھوٹ جاتا رہا اور میں سمجھ گیا کہ آپؐ کی ناراضگی سے میں کسی طرح بچ نہیں سکتا۔ میں نے آپؐ سے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ صبح کے وقت رسول اللہﷺ تشریف لائے۔ آپؐ کا طریق تھا کہ جب آپؐ سفر سے واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد سے شروع کرتے اور اس میں دو رکعت ادا کرتے۔ پھر لوگوں کی خاطر تشریف رکھتے۔ جب آپؐ نے ایسا کیا تو پیچھے رہنے والے لوگ آپؐ کے پاس آکر عذرپیش کرنے لگے اور قسمیں کھانے لگے۔ یہ سب اسّی 80 سے کچھ اوپر تھے۔ رسول اللہﷺ نے جو انہوں نے ظاہر کیا اس کو قبول فرمایا۔ ان سے بیعت لی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا پھر میں حاضر ہوا۔ جب میں نے سلام عرض کیا تو آپؐ نے یوں تبسم فرمایا جیسے ناراض شخص کا تبسم ہوتا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا آؤ۔ میں چل کر آیا یہانتک کہ میں آپؐ کے سامنے بیٹھ گیا تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری نہیں خریدی تھی؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اللہ کی قسم اگر میں آپؐ کے سوا کسی دنیا والے کے سامنے بیٹھا ہوتا تو میرا خیال ہے کوئی عذر پیش کر کے اس کی ناراضگی سے بچ سکتا تھا کیونکہ مجھے قوّت بیانیہ دی گئی ہے۔ لیکن اللہ کی قسم مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ اگر آج میں نے آپؐ کے سامنے جھوٹی بات بیان کی جس سے آپؐ مجھ سے راضی ہو جائیں تو بعیدنہیں کہ اللہ آپؐ کو مجھ سے ناراض کردے اور اگر میں آپؐ کو سچی بات بتاؤں جس سے آپؐ مجھ سے ناراض ہوں مگر میں اس میں اللہ کی طرف سے اچھے انجام کی امید رکھتا ہوں، اللہ کی قسم میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ جب میں آپؐ سے پیچھے رہ گیا تھا تواس سے پہلے میں اس سے زیادہ طاقتور اور خوشحال کبھی نہ تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا جہاں تک اس کا تعلق ہے، اس نے سچ بولا ہے۔ (پھر فرمایا) اب جاؤ یہانتک کہ اللہ تمہارے بارہ میں فیصلہ فرمادے۔ چنانچہ میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ بنی سلمہ کے کچھ لوگ تیزی سے اُٹھے، میرے پیچھے آئے اور مجھ سے کہا اللہ کی قسم اس سے قبل ہمارے علم کے مطابق تم نے کبھی کوئی قصور نہیں کیا۔ کیا تم اس بات سے عاجز آگئے کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں دوسرے پیچھے رہنے والوں کی طرح کوئی عذر پیش کردیتے اور تمہارے گناہ کے لئے رسول اللہﷺ کا تمہارے لئے استغفار کافی تھا۔ وہ کہتے ہیں خدا کی قسم وہ مجھے ملامت کرتے رہے یہانتک کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس لوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلاؤں۔ وہ کہتے ہیں پھر میں نے ان سے پوچھا کہ میرے ساتھ کوئی اور بھی (اس صورت حال) سے دوچار ہوا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں دو آدمی تمہارے ساتھ اس سے دوچار ہوئے ہیں۔ اور ان دونوں نے بھی وہی کہا ہے جو تم نے کہا اور انہیں بھی وہی جواب دیا گیا ہے جو تمہیں دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا وہ دونوں کون ہیں؟انہوں نے کہا مُرارہؓ بن ربیعہ عامری اور ہلالؓ بن امیہ واقفی۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے مجھ سے ان دو نیک شخصوں کا ذکر کیا جو بدر میں شامل ہو ئے تھے۔ ان میں میرے لئے نمونہ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے ان دو اشخاص کا مجھ سے ذکر کیا تو میں چلا گیااور پیچھے رہنے والوں میں سے ہم_ تینوں _ کے ساتھ کلام کرنے سے مسلمانوں کو منع فرما دیا۔ اس پر لوگ ہم سے اجتناب کرنے لگے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ ہمارے لئے بدل گئے یہاں تک کہ زمین بھی میرے لئے اوپری ہو گئی جسے میں نہیں پہچانتا تھا۔ پچاس راتیں ہم پراسی کیفیت میں گذریں۔ جہانتک میرے دونوں ساتھیوں کا تعلق ہے وہ نڈھال ہوگئے اور اپنے گھروں میں بیٹھے روتے رہتے۔ میں ان میں سے جوان اور مضبوط تھا۔ میں باہر نکلتا اور نماز میں شامل ہوتا اور بازاروں میں گھومتا مگر کوئی مجھ سے بات نہ کرتا۔ نماز کے بعد جب رسول اللہﷺ اپنی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو میں آپؐ کے پاس آکر سلام عرض کرتا اور دل میں کہتا پتہ نہیں رسول اللہﷺ نے سلام کے جواب میں اپنے ہونٹ ہلائے ہیں یا نہیں؟ پھر میں آپؐ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگتا اور مخفی نظر سے آپؐ کو دیکھتا۔ جب میں اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوتا آپؐ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپؐ کی طرف متوجہ ہوتا توآپؐ مجھ سے رُخ پھیر لیتے اور جب مسلمانوں کی بے رُخی کا عرصہ مجھ پرلمبا ہو گیا تو میں چلا یہانتک کہ اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہؓ جو لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا کے باغ کی دیوار پھلانگی اور اسے سلام کہا مگر خدا کی قسم اس نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا۔ تب میں نے اسے کہا اے ابو قتادہؓ !میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تمہیں پتہ نہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ خاموش رہا۔ میں نے پھر ایسا کہا اور اسے قسم دی مگر وہ خاموش رہا۔ میں نے پھریہی کہا پھر میں نے قسم دی تو اس نے کہا اللہ اور اس کے رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ اس پر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ چنانچہ میں پیچھے مڑا اور دیوار پھلانگ کر واپس آگیا۔ اس اثناء میں کہ میں مدینہ کے بازار میں جا رہا تھا کہ علاقہ شام کے نبطیوں میں سے ایک نبطی جو مدینہ میں اناج بیچنے کے لئے لایا تھا کہہ رہا تھا کعبؓ بن مالک کے بارہ میں کون بتائے گا۔ حضرت کعبؓ کہتے ہیں لوگ اس کو میری طرف اشارہ کر کے بتانے لگے پھر وہ میرے پاس آیا اور اس نے غسّان کے بادشاہ کا ایک خط مجھے دیا۔ میں خود لکھ پڑھ سکتا تھا۔ میں نے وہ پڑھا۔ اس میں تھا امابعد ہمیں خبر پہنچی ہے کہ تمہارے صاحب نے تم پر ظلم کیا ہے اور اللہ نے تمہیں ذلّت اور ضائع ہونے کے مقام پر نہیں رکھا۔ پس تم ہم سے آ ملو، ہم تم سے نیک سلوک کریں گے۔ وہ کہتے ہیں جب میں نے یہ خط پڑھا تو میں نے کہا کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے۔ پس میں وہ خط لے کر تنور کے پاس گیا اور اسے اس میں جھونک دیا۔ ابھی پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزری تھیں اور (ہمارے بارے میں ) وحی ابھی نہیں اُتری تھی کہ ایک روز میرے پاس رسول اللہﷺ کا ایک قاصد آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ تم اپنی بیوی سے الگ رہو۔ وہ کہتے ہیں میں نے اس سے پوچھا کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا نہیں بلکہ اس سے الگ رہو اور اس سے مقاربت نہ کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے دونوں ساتھیوں کو بھی آپؐ نے ایسا ہی حکم دیا۔ وہ کہتے ہیں میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنے ماں باپ کے ہاں چلی جاؤ اور اس وقت تک وہیں رہو جب تک اللہ میرے اس معاملہ میں کوئی فیصلہ نہ فرمادے۔ وہ کہتے ہیں ہلال بن امیہؓ کی بیوی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضرہوئی اور آپؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! ہلال بن امیہؓ بہت بوڑھے ہیں اور ان کا کوئی خادم نہیں۔ کیا آپؐ ناپسند تو نہیں فرمائیں گے اگر میں ان کی خدمت کروں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں لیکن وہ تم سے مقاربت نہ کرے۔ اس نے کہا اللہ کی قسم ان میں تو کسی بات کی طرف بھی حرکت نہیں رہی۔ بخدا جب سے یہ واقعہ ہوا ہے اس دن سے آج تک وہ رو رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میرے بعض گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ تم بھی رسول اللہﷺ سے اپنی بیوی کے بارہ میں اجازت لے لو۔ (کیونکہ) ہلال بن امیہؓ کی بیوی کو آپﷺ نے اس کی خدمت کرنے کے لئے اجازت دے دی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ میں تو اس بارہ میں آپؐ سے اجازت نہیں مانگوں گا۔ جب میں اس بارہ میں اجازت مانگوں نامعلوم آپﷺ کیا ارشاد فرمائیں اور میں ہوں بھی جوان آدمی۔ وہ کہتے ہیں میں اس طرح دس راتیں اور رہا اور یوں ہم پر پچاس راتیں پوری ہو گئیں۔ اس وقت سے جب ہم سے بات چیت منع کی گئی تھی۔ وہ کہتے ہیں پھر پچاسویں رات کی صبح فجر کی نمازمیں نے اپنے گھر کی چھت پر پڑھی اور اس اثناء میں کہ مَیں اس حال میں بیٹھا تھا جس کا ذکر اللہ عزوجل نے ہمارے بارہ میں فرمایا ہے کہ میرا دل بھی تنگ ہو رہا تھا اور زمین بھی باوجود اپنی فراخی کے مجھ پر تنگ تھی تو میں نے زور سے پکارنے کی آواز سنی جو ’’سلع‘‘ پہاڑ پر چڑھ کر انتہائی بلند آواز سے کہہ رہا تھا اے کعبؓ بن مالک!تجھے بشارت ہو۔ وہ کہتے ہیں میں نے یہ آواز سنی تو فورًا سجدہ میں گر گیااور میں جان گیا کہ کشائش آگئی ہے۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے جب فجر کی نماز ادا فرمائی تولوگوں کو اطلاع دی اور اللہ کاہم پر رجوع برحمت ہونے کا بتایا۔ لوگ ہمیں خوشخبری دینے کے لئے دوڑے۔ کچھ خوشخبری دینے والے میرے دوساتھیوں کی طرف گئے۔ ایک آدمی گھوڑادوڑاتے ہوئے میری طرف آیا لیکن قبیلہ اسلم کا ایک اور شخص میری طرف دوڑتا ہوا آیا اور پہاڑ پر چڑھ گیااورآواز گھوڑے سے زیادہ تیز رفتار تھی۔ جب وہ میرے پاس آیاجس کی خوشخبری کی آواز میں نے سُنی تھی تواس کے بشارت دینے کی وجہ سے میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے پہنا دئیے اور خدا کی قسم اس دن میرے پاس وہی کپڑے تھے۔ اور میں نے دو کپڑے کسی سے عاریۃ لئے اور پہنے اور پھر رسول اللہﷺ (کی خدمت میں حاضر ہونے) کے ارادہ سے چل پڑا۔ لوگ گروہ در گروہ مجھے ملتے اور توبہ کی قبولیت پر مبارک باد دیتے، کہتے کہ اللہ کی طرف سے توبہ کی قبولیت تمہیں مبارک ہویہانتک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ مسجد میں تشریف فرما ہیں اور آپؐ کے گرد اور لوگ بھی ہیں۔ حضرت طلحہؓ بن عبیداللہ اُٹھے اور دوڑتے ہوئے آئے، مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ اللہ کی قسم مہاجرین میں سے کوئی شخص ان کے علاوہ نہ اُٹھا۔ حضرت کعبؓ حضرت طلحہؓ کے اس نیک سلوک کو کبھی نہ بھولتے تھے۔ راوی کہتے ہیں وہ(حضرت کعبؓ کہتے ہیں ) جب میں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں سلام عرض کیا(کعبؓ کہتے ہیں ) تو خوشی سے آپؐ کا چہرہ چمک رہا تھا۔ آپؐ فرمارہے تھے کہ خوش ہو جاؤ اس بہترین دن پر جو تم پر چڑھا، جب سے تمہاری ماں نے جناہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا یہ آپؐ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے۔ حضورؐ جب خوش ہوتے توآپؐ کا چہرہ روشن ہوتاگویا آپؐ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہمیں اس کا پتہ چل جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں جب میں آپؐ کے سامنے بیٹھ گیا تو عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یقینا میری توبہ کا یہ حصہ ہے کہ میں اپنے مال سے دستبردار ہو جاؤں، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی خدمت میں بطور صدقہ پیش کرتے ہوئے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اپنے مال کا کچھ حصہ اپنے پاس رکھو یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ پھرمیں اپنا وہ حصہ جو خیبر میں ہے رکھ لیتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! اللہ نے مجھے میری سچائی کی وجہ سے نجات دی ہے۔ اب میری توبہ کا حصہ ہے کہ جب تک مَیں زندہ ہوں سچ ہی بولوں گا۔ وہ کہتے ہیں خدا کی قسم جب سے میں نے رسول اللہﷺ سے یہ کہا تھااس وقت سے لے کر اب تک میرے علم میں کوئی مسلمان نہیں جسے اللہ نے سچی بات کہنے کی وجہ سے ایسا آزمایا ہوجیسے مجھے آزمایا ہے۔ جب سے میں نے رسول اللہﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تھا اس وقت سے آج تک میں نے ارادۃً کبھی جھوٹ نہیں بولااور جو زندگی باقی ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ مجھے(جھوٹ سے) محفوظ رکھے گا۔ کعبؓ کہتے ہیں اور اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ لَقَدْ تَابََ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِِ الَّذِیْنَ۔ ۔ ۔ یقینا اللہ نبیؐ پر اور مہاجرینؓ اور انصارؓ پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا جنہوں نے تنگی کے وقت اس کی پیروی کی تھی بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل ٹیڑھے ہو جاتے پھر بھی اس نے ان کی توبہ قبول کی یقینا وہ ان کیلئے بہت ہی مہربان (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے اور ان تینوں پر بھی(اللہ توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا) جو پیچھے چھوڑ دئیے گئے تھے یہانتک کہ جب زمین ان پر باوجود فراخی کے تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں تنگی محسوس کرنے لگیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ نہیں مگر اسی کی طرف پھر وہ ان پر قبولیت کی طرف مائل ہوتے ہوئے جھک گیا تاکہ وہ توبہ کرسکیں یہانتک کہ جب زمین ان پر باوجود فراخی کے تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں تنگی محسوس کر نے لگیں 1یہانتک کہ وہ (حضرت کعبؓ ) اس آیت تک پہنچے۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ 2حضرت کعبؓ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! جب سے اللہ نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت کی۔ اس کے بعد سے اللہ نے مجھ پر میرے خیال میں رسول اللہﷺ کے سامنے سچ بولنے کی نعمت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کی کہ میں آپؐ سے جھوٹ نہ بولوں کہیں ہلاک نہ ہو جاؤ ں جس طرح وہ لوگ ہلاک ہو گئے جنہوں نے جھوٹ بولا۔ اللہ نے جب وحی نازل کی توجھوٹ بولنے والوں کے متعلق اس سے زیادہ اُن کو بُرا قرار دیا جیسا کسی اور کو قراردیا۔ اللہ نے فرمایا وہ یقینا تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف لوٹو گے تا کہ تم ان سے اعراض کرو۔ پس (بے شک) ان سے اعراض کرو وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اس کی جزاکے طور پر جو وہ کسب کرتے تھے۔ وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ۔ پس اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ تو اللہ بدکردار لوگوں سے ہر گز راضی نہیں ہوتا۔ 1حضرت کعبؓ کہتے ہیں کہ ہم تین اُن لوگوں کے بارہ میں پیچھے رکھے گئے تھے جن کا (عذر) رسول اللہﷺ نے قبول فرما لیا تھا۔ جب انہوں نے آپؐ کے سامنے حلف اٹھایا تھا۔ پس آپؐ نے ان سے بیعت لی اور اُن کے لئے مغفرت کی دعا کی اور رسول اللہﷺ نے ہمارے معاملہ کو اس وقت تک مؤخر فرمادیا جب تک کہ اس (اللہ عزوجل)نے اس بارہ میں کوئی فیصلہ نہ فرمایا۔ اس ضمن میں اللہ عزوجل نے فرمایا اور ان تینوں پر بھی (اللہ توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا) جو پیچھے چھوڑ دئیے گئے تھے۔ 2 در اصل اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ سے ہمارے پیچھے رہنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ ہمارے معاملہ کا التواء اور اسے پیچھے ڈالنے کا ذکران لوگوں کے مقابلہ میں ہے جنہوں نے آپؐ کے سامنے قسمیں کھائیں اور آپؐ کی خدمت میں عذر پیش کئے اور حضورؐ نے ان سے عذر قبول فرمالئے۔ ایک روایت میں (اَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ کَعْبٍ کَان قَائِدَ کَعْبٍ مِنْ بَنِیْہِ حِیْنَ عَمِیَ کی بجائے) اَنَّ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَ کَانَ قَائِدَ کَعْبٍ حِیْنَ عَمِیَ کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے کم ہی کسی غزوہ کا ارادہ فرمایا مگراس کو پوشیدہ رکھتے حتی کہ یہ غزوہ ہوا۔ اس روایت میں حضرت ابو خیثمہؓ کے نبیﷺ سے ملنے کا ذکر نہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عبیداللہ بن کعب جو کعب کی بینائی جانے کے بعدسے ان کی رہنمائی کرتے تھے اور اپنے لوگوں میں سب سے بڑے عالم اور رسول اللہﷺ کے صحابہؓ کی سب سے زیادہ باتیں یاد رکھنے والے تھے۔ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب بن مالکؓ کو جو ان تین میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول کی گئی کہ وہ کبھی بھی کسی غزوہ میں رسول اللہﷺ سے پیچھے نہیں رہے۔ سوائے دو غزوات کے۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہﷺ ایک جم غفیر کے ساتھ غزوہ کے لئے نکلے جو دس ہزار سے زیادہ تھے لیکن ان (ناموں کے)یکجا کرنے کے لئے کوئی رجسٹر نہیں تھا۔
زہری سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودؓ نے نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ کی روایت بیان کی جب بہتان لگانے والوں نے ان (حضرت عائشہؓ ) کے بارہ میں کہا جوکہاتواللہ نے اس سے جو کچھ انہوں نے کہا اُن (حضرت عائشہؓ ) کی بریت کردی۔ ان سب راویوں نے آپؓ کی روایت کا کچھ کچھ حصہ مجھے بتایا اور ان میں سے بعض اس روایت کو دوسروں کی نسبت زیادہ یاد رکھنے والے اور زیادہ پختگی سے بیان کرنے والے ہیں اور میں نے ان میں سے ہر ایک سے اس روایت کو جو انہوں نے مجھ سے بیان کی محفوظ رکھا اور بعض کی (بیان کردہ)روایت کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ جب رسول اللہﷺ کسی سفر پر جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ پھر ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا اسے اپنے ہمراہ لے جاتے۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ایک غزوہ کے موقعہ پر آپؐ نے قرعہ ڈالا تو میرا نام نکلاتومیں رسول اللہﷺ کے ساتھ گئی اور یہ پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ ہمارے سفر کے دوران میں مجھے میرے ہودج میں اٹھایا جاتا اور (اس ھودج) میں ہی اُتارا جاتا یہانتک کہ جب رسول اللہﷺ اپنے غزوہ سے فارغ ہوئے اور واپس لوٹے اور ہم مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو ایک رات آپؐ نے کوچ کا اعلان فرمایا۔ جب لوگوں نے کوچ کا اعلان کیا تو میں بھی کھڑی ہوئی اور چلنے لگی یہانتک کہ لشکر سے باہر نکل گئی۔ پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہو گئی تو اپنے ہودج کی طرف آئی اور میں نے اپنا سینہ چھؤا تومعلوم ہوا کہ میرا ظفار (شہر) کا بنا ہوانگینوں کا ہار مجھ سے گر گیا ہے۔ میں واپس گئی اور اپنا ہار تلاش کرنے لگی۔ اس تلاش میں مجھے کچھ دیر ہو گئی۔ اس اثناء میں وہ لوگ جو میرا ہودج اٹھانے پر متعین تھے آئے اور انہوں نے میرا ہودج اٹھایا اور اسے میرے اونٹ پر جس پر میں سوارہوتی تھی رکھ دیااور وہ سمجھتے تھے کہ مَیں اس میں ہوں۔ آپؓ نے فرمایا چونکہ اس زمانے میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں اور بھاری بھرکم نہیں ہوتی تھیں اور ان پر گوشت نہیں چڑھا ہوتا تھا۔ وہ صرف تھوڑا سا کھانا کھاتی تھیں اس لئے انہیں ہودج کے وزن پر تعجب نہیں ہو ا۔ جب انہوں نے اس کوسفر کی تیاری کے لئے اُٹھایا۔ میں اس وقت چھوٹی عمر کی لڑکی تھی۔ پس انہوں نے اونٹ کو کھڑا کیا اور روانہ ہوگئے اور لشکر کے روانہ ہونے کے بعد مجھے اپنا ہار مل گیا۔ میں لوگوں کے پڑاؤ کی جگہ پر آئی تو وہاں نہ تو کوئی پکارنے والا تھا نہ کوئی جواب دینے والا۔ چنانچہ میں نے اپنی اسی جگہ کا قصد کیا جہاں پر میں پہلے تھی اور میں نے خیال کیا کہ وہ لوگ ضرور مجھے نہ پاکر میرے پاس واپس آئیں گے۔ میں اپنی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھی کہ مجھے نیند آگئی اور میں سو گئی۔ صفوان بن معطل السلمی الذکوانی رات کا پچھلا حصہ گذارکر بعد صبح کے قریب میری جگہ پر پہنچے۔ انہوں نے جب ایک سوئے ہوئے انسان کا وجود دیکھا۔ وہ میرے پاس آئے انہوں نے جب مجھے دیکھا تو پہچان لیا کیونکہ وہ پروہ کے احکام کے نازل ہونے سے قبل مجھے دیکھ چکے تھے۔ جب انہوں نے مجھے پہچانا تو اُن کے اِنَّا لِلَّہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَکہنے سے میں بیدار ہو گئی اور اپنا چہرہ اپنی اوڑھنی سے ڈھانپ لیااور خدا کی قسم انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے اِنَّا لِلَّہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کے سوا ان کے منہ سے کوئی اور لفظ سنا۔ انہوں نے اپنا اونٹ بٹھایا اور اس کے اگلے پاؤں پر پاؤں رکھ دیا میں اس پر سوار ہوگئی اور وہ اونٹنی کو اس کی مہار تھامے آگے آگے چلنے لگے حتی کہ ہم لشکر میں آپہنچے بعد اس کے کہ انہوں نے دوپہر کے آغاز میں شدید گرمی کی وجہ سے پڑاؤ کیا تھا۔ پھر میرے اس معاملہ میں جس نے بھی ہلاک ہونا تھاوہ ہلاک ہو گیا۔ اور وہ جو اس کا بڑا ذمہ دار تھا وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا پھر ہم مدینہ آگئے اور جب ہم مدینہ آئے تو میں ایک ماہ بیمار رہی۔ اور لوگ بہتان لگانے والوں کے بارہ میں باتیں کرتے رہے لیکن مجھے اس بارہ میں کچھ علم نہ تھا ہاں مجھے یہ چیز میری بیماری میں بے چین کرتی تھی کہ میں ر سول اللہﷺ کی طرف سے وہ مہربانی نہ دیکھتی تھی جو میں آپؐ کی طرف سے دیکھا کرتی تھی جب میں بیمار ہوتی تھی۔ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لاتے تو سلام کرتے اور فرماتے تمہارا کیا حال ہے؟ پس یہ بات تھی جو مجھے بے چین کرتی تھی لیکن مجھے اس شر کا علم نہیں تھا یہانتک کہ میں بہت کمزوری کے بعد مناصع کی طرف گئی تو میرے ساتھ ام مسطح بھی نکلی یہ (مناصع) ہماری قضائے حاجت کی جگہ تھی جہاں ہم صرف رات کو ہی جاتے تھے اور یہ اس سے پہلے کی بات ہے جب ہم نے اپنے گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنائے۔ قضائے حاجت کے لئے ہمارا طریق بھی پہلے عربوں کا سا تھا اور ہمیں اپنے گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنانے سے تکلیف ہوتی تھی۔ پس میں اور امّ مسطح جو ابو رھم بن مطلب بن عبدمناف کی بیٹی تھیں اور ان کی والدہ جو فخر بن عامر کی بیٹی اور حضرت ابو بکرؓ کی خالہ تھیں اور ان کا بیٹا مسطح بن اثاثہ بن عباد بن المطلب تھا۔ میں اور ابو رھم کی بیٹی اپنے گھر سے چلیں۔ جب ہم فارغ ہوئے تو میں اور ابو رھم کی بیٹی اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔ ام مسطح اپنی چادر میں اُلجھ کر گرگئی۔ اس پر انہوں نے کہا ہلاک ہو مسطح۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ بہت بُری بات ہے جو آپ نے کہی ہے۔ کیا آپ ایسے شخص کو برا بھلا کہتی ہیں جو بدر میں موجود تھا۔ انہوں نے کہا اے بھولی ! تم نے سنانہیں کہ اس نے کیا کہا ہی؟ میں نے کہا اس نے کیا کہا ہے؟ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں تب انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں مجھے بتائیں۔ اس پر میری بیماری میں اور اضافہ ہو گیا۔ پھر جب میں اپنے گھر واپس آئی اور رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے اور سلام کہا اور فرمایا تمہارا کیا حال ہے؟ تو میں نے عرض کیا کیا آپؐ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے والدین کے ہاں جاؤں۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میرا ارادہ تھا کہ اس خبر کے بارہ میں مَیں ان سے تحقیق کروں گی۔ رسول اللہﷺ نے مجھے اجازت دے دی اور میں اپنے والدین کے ہاں آگئی۔ میں نے اپنی ماں سے کہا اے میری ماں لوگ یہ کیاباتیں کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا اے پیاری بیٹی حوصلہ رکھو۔ اللہ کی قسم بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کی خوبصورت بیوی ہو جس سے وہ محبت کرتا ہو اور اس کی سوتیں بھی ہوں مگر انہوں نے اس کے خلاف بہت باتیں نہ بنائی ہوں۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں میں نے کہا سبحان اللہ ! کیا لوگ میرے بارہ میں ایسی باتیں کر رہے ہیں ! آپؓ بیان فرماتی ہیں وہ ساری رات مَیں روتی رہی یہانتک کہ صبح ہوئی تو میرے آنسو تھمتے نہیں تھے۔ میں ذرہ بھربھی نہ سو سکی اور میں نے روتے روتے صبح کی۔ جب (اس بارہ میں ) وحی میں دیر ہوئی تو رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ بن ابی طالب اور اسامہ بن زیدؓ کو بُلایا _ تاکہ ان سے اپنی بیوی کی علیحدگی کے بارہ میں مشورہ کریں _ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں جہاں تک اسامہ بن زیدؓ کا تعلق ہے تو انہوں نے رسول اللہﷺ کو اسی کے مطابق مشورہ دیا جو حضورؐ کی حرم کے متعلق وہ جانتے تھے یعنی براءت اور اس محبت کے بارہ میں جو آپؐ کے دل میں اپنے اہل کے لئے تھی۔ وہ (حضرت اسامہؓ ) کہنے لگے یا رسولؐ اللہ! وہ آپؐ کی اہلیہ محترمہ ہیں اور ہم تو(اُن میں )نیکی کے سواکچھ نہیں جانتے اور جہاں تک حضرت علیؓ بن ابی طالبؓ کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپؐ پر کوئی تنگی نہیں فرمائی اور اُن (حضرت عائشہؓ )کے علاوہ بھی بہت عورتیں ہیں۔ اگر آپؐ خادمہ سے دریافت فرمائیں وہ آپؐ کو سچ بتائے گی۔ وہ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں تب رسول اللہﷺ نے بریرہؓ کو بلایا اور فرمایا اے بریرہؓ ! کیا تم نے عائشہؓ میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے تمہیں ان کے بارہ میں کوئی شک ہو۔ بریرہؓ نے حضورؐ سے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے ان کے خلاف اس سے زیادہ کوئی عیب والی بات نہیں دیکھی کہ وہ کم سن لڑکی ہیں اور آٹا گوندھا ہوا چھوڑ کر سو جاتی ہیں بکری آتی ہے اور وہ کھاجاتی ہے۔ آپؓ (حضرت عائشہؓ ) بیان فرماتی ہیں پھررسول اللہﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارہ میں معذرت چاہی۔ آپؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایاجبکہ آپؐ منبر پر تھے اے مسلمانوں کے گروہ! تم میں سے کون مجھے معذور سمجھے گا اس شخص کے بارہ میں جس کی ایذاء رسانی میرے اہلِ بیت تک پہنچ چکی ہے۔ خدا کی قسم مجھے تو اپنے اہل کے بارہ میں خیر کے سوا کچھ علم نہیں اور جس شخص کا انہوں نے ذکر کیا ہے اس کے متعلق بھی خیر کے سوا کچھ نہیں جانتا اور وہ میرے گھرمیں ہمیشہ میرے ساتھ ہی داخل ہوتا تھا۔ اس پر حضرت سعد بن معاذؓ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں آپؐ کو معذور ٹھہراؤں گا۔ اگر وہ اَوس میں سے ہے تو ہم اس کی گردن مار دیتے ہیں اور اگر یہ ہمارے بھائیوں خزرج میں سے ہے تو آپؐ جو حکم فرمائیں ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ وہ (حضرت عائشہؓ )فرماتی ہیں اس پر حضرت سعد بن عبادہؓ کھڑے ہوئے اور وہ خزرج کے سردار تھے۔ وہ ایک صالح آدمی تھے مگر اس وقت انہیں جاہلیت کی حمیّت نے آلیا اور انہوں نے حضرت سعد بن معاذؓ سے کہا تم غلط کہتے ہو، خدا کی قسم! نہ تو تم اسے قتل کرو گے اور نہ ہی اس کو قتل کرنے کی طاقت رکھتے ہو۔ اس پر حضرت اُسَید بن حضیرؓ کھڑے ہوئے جو حضرت سعدبن معاذؓ کے چچا زاد تھے اور سعد بن عبادہؓ سے کہنے لگے خدا کی قسم تم نے غلط کہا ہے ہم ضرور اسے قتل کریں گے۔ یقینا تم منافق ہو منافقوں کی طرف سے جھگڑا کرتے ہو۔ اس پر اوس و خزرج دونوقبیلے جوش میں آگئے یہانتک کہ انہوں نے لڑائی کا ارادہ کرلیا جبکہ رسول اللہﷺ منبر پر کھڑے تھے اور رسول اللہﷺ مسلسل انہیں دھیما ہونے کے لئے کہتے رہے یہانتک کہ وہ خاموش ہو گئے اور آپؐ بھی خاموش ہو گئے۔ وہ (حضرت عائشہؓ ) بیان فرماتی ہیں کہ میں اس روز بھی روتی رہی اور میرے آنسوتھمتے نہ تھے اور نہ ہی مجھے نیند آتی تھی۔ پھر میں اگلی رات بھی روتی رہی۔ میرے آنسو نہ تھمتے تھے اور نہ ہی میں سو سکی۔ میرے والدین کا خیال تھا کہ میرا یہ رونا میرے جگر کو پھاڑ دے گا۔ اس دوران جب وہ (میرے والدین) میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے اسے اجازت دی وہ بھی بیٹھ کر رونے لگی۔ وہ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں کہ ہم اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، سلام کیااور بیٹھ گئے۔ آپؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب سے میرے متعلق کہاگیا جو کہا گیا آپؐ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اور آپؐ اس حالت میں ایک مہینہ اسی طریق پر رہے۔ میرے اس معاملہ کے بارہ میں کوئی وحی آپؐ کو نہ ہوئی۔ آپؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب تشریف فرما ہوئے آپؐ نے تشہد پڑھا اور فرمایااما بعد اے عائشہؓ ! مجھے تمہارے متعلق یہ یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تم بَری ہو تو اللہ ضرور تمہاری بریت ظاہر فرمادے گا لیکن اگر تم سے کوئی لغزش ہوئی ہے تو خدا سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف جھکو کیونکہ یقینا بندہ جب اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ آپؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ اپنی بات مکمل کر چکے تو میرے آنسو خشک ہو گئے حتی کہ مجھے اس کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ ہوا۔ تب میں نے اپنے والد سے کہا جو رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے آپ میری طرف سے اس کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا خدا کی قسم میں تو نہیں جانتا کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں کیا عرض کروں۔ تب میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ میری طرف سے رسول اللہﷺ کو جواب دیں۔ انہوں نے بھی کہا کہ خدا کی قسم مجھے بھی کچھ پتہ نہیں کہ میں رسول اللہﷺ سے کیا عرض کروں۔ پھرمیں نے کہا اور میں ایک کم سن لڑکی تھی اور زیادہ قرآن پڑھی ہوئی نہیں تھی۔ خدا کی قسم مجھے علم ہے کہ آپ لوگوں نے یہ بات سُنی ہے حتی کہ یہ بات آپ لوگوں کے دل میں جم گئی ہے اور آپ لوگ اسے سچا سمجھ بیٹھے ہیں۔ پس اگر میں آپ لوگوں سے کہوں کہ میں بَری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ یقینا میں بَری ہوں تو آپ لوگ میری اس بات کی تصدیق نہیں کریں گے۔ اگر میں آپ کے سامنے اعتراف کرلوں جبکہ اللہ جانتا ہے کہ یقینا میں بَری ہوں توآپ ضرور میری بات مان لیں گے۔ میں اپنی اور آپ لوگوں کی حالت یہی پاتی ہوں جیسا کہ حضرت یوسفؑ کے باپ نے کہا تھاکہ صبر ہی اچھا ہے اور اللہ ہی ہے جس سے اس (بات) پر مدد مانگی جائے جو تم بیان کرتے ہو۔ آپؓ بیان فرماتی ہیں پھر میں نے کروٹ لی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی اور اس وقت بخدا مجھے یقین تھا کہ میں بَری ہوں اور یہ کہ اللہ ضرور میری بریت فرمائے گا لیکن بخدامجھے بالکل یہ گمان نہیں تھا کہ میرے بارہ میں کوئی وحی قرآن نازل ہوگی اور میرے خیال میں میرامقام اس سے کہیں کم تر تھا کہ اللہ عزوجل میرے بارہ میں وہ کلام فرمائے جس کی تلاوت کی جائے گی، لیکن مجھے یہ امید تھی کہ رسول اللہﷺ نیند میں کوئی ایسی رؤیا دیکھیں جس کے ذریعہ اللہ میری بریّت فرمادے۔ وہ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں خدا کی قسم ابھی رسول اللہﷺ نے اپنی جگہ سے نہیں اٹھے تھے نہ ہی گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ اللہ عزوجل نے اپنے نبیﷺ پر (وحی) نازل فرمائی اور آپؐ پرشدّت کی وہ کیفیت طاری ہوئی جو آپؐ پر وحی (کے نزول) کے وقت طاری ہوتی تھی حتی کہ سردیوں میں بھی آپؐ پرنازل ہونے والی وحی کے بوجھ سے آپؐ کے (چہرے سے) موتیوں کی طرح پسینہ ٹپکنے لگتا تھا۔ آپؓ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں جب رسول اللہﷺ سے وہ کیفیت جاتی رہی توآپؐ تبسم فرمارہے تھے تو پہلی بات جو آپؐ نے فرمائی وہ یہ تھی کہ اے عائشہؓ ! تمہیں خوشخبری ہواللہ نے تمہاری بریّت فرمادی ہے۔ مجھے میری ماں نے کہااُٹھوحضورؐ کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں حضورؐ کا شکریہ ادا نہ کروں گی، نہ ہی اللہ کے سوا میں کسی کی حمد کروں گی کیونکہ وہی ہے جس نے میری بریّت نازل فرمائی ہے۔ وہ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں اس وقت اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں اِنَّ الَّذِیْنَ جَآ ئُ وا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْ: یقینا وہ لوگ جو جھوٹ گھڑ لائے تم ہی میں سے ایک گروہ ہے۔ اللہ عزوجل نے یہ تمام آیات میری برأت کے لئے نازل فرمائیں۔ وہ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں کہ اس پر حضرت ابو بکرؓ نے جواپنی اس سے قرابت داری اور اس کی غربت کے باعث مسطح پر خرچ کرتے تھے کہا خدا کی قسم اب بعد اس کے جو اس نے عائشہؓ کے بارہ میں کہا ہے میں اس پر کبھی کچھ خرچ نہ کروں گا۔ اس پر اللہ عزوجل نے نازل فرمایا۔ وَلَا یَأْتَلِ أُوْلُوا الْفَضْلِ مِنکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُّؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی ترجمہ۔ ۔ ۔ اور تم میں سے صاحبِ فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں پس چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور در گزر کریں۔ کیا تم یہ پسندنہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے۔ راوی حبّان بن موسیٰ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہاکہ اللہ کی کتاب میں سب سے زیادہ امید افزا یہ آیت ہے۔ اس پر حضرت ابو بکرؓ نے کہا خدا کی قسم یقینا میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے۔ چنانچہ انہوں نے مسطح پر وہ(خرچ کرنا) دوبارہ شروع کر دیا جو وہ پہلے اس پر خرچ کیا کرتے تھے اور کہا کہ مَیں یہ (مدد) اس سے کبھی نہیں روکوں گا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے میرے متعلق اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحشؓ سے بھی پوچھاتھا کہ تمہیں کیا علم ہے یا تمہاری کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں تو اپنے کانوں اور آنکھوں کو محفوظ رکھتی ہوں۔ اللہ کی قسم میں نے تو ان میں نیکی ہی دیکھی ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں اور نبیﷺ کی ازواج میں سے صرف وہی تھیں جو میرا مقابلہ کیا کرتی تھیں مگر اللہ نے بوجہ ان کی پرہیزگاری کے انہیں بچا لیا۔ مگر ان کی بہن حمنہ بنت جحش ان کی طرف داری میں جھگڑتی تھی اور ہلاک ہوگئی اُن لوگوں کے ساتھ جو ہلاک ہوئے۔ زہری کہتے ہیں یہاں تک روایت ہمیں راویوں کے اس گروہ کے ذریعہ ملی ہے۔ ایک روایت میں (اِجْتَھَلَتْہُ الْحَمِیَّۃُ کی بجائے) اِحْتَمَلَتِ الْحَمِیَّۃُ کے الفاظ ہیں۔ ایک روایت میں مزید ہے کہ عروہ بیان کرتے ہیں حضرت عائشہؓ ناپسند کرتی تھیں کہ حضرت حسانؓ کو ان کے سامنے بُرا بھلا کہا جائے اور فرماتیں کہ(حسانؓ ) نے(اپنے شعر میں ) کہا کہ یقینا میرا باپ اور اس کا باپ اور میری عزت تمہارے مقابل محمدؐ کی عزت کے لئے بطور ڈھال کے ہے اس روایت میں مزید ہے عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ خدا کی قسم جس مرد کے ساتھ یہ تہمت لگائی گئی ہے وہ (صفوانؓ )کہتا تھا کہ سبحان اللہ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے کبھی کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا۔ آپؓ (حضرت عائشہؓ ) فرماتی ہیں پھر اس کے بعد وہ اللہ کی راہ میں شہید کیا گیا۔ اورایک روایت میں (مُوْغِرِیْنَ کی بجائے) مُوْعِرِیْنَ کے الفاظ ہیں۔ (راوی) عبد بن حمید کہتے ہیں میں نے عبدالرزاق سے پوچھا کہمُوْغِرِیْنَ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا ’’اَلْوَغْرَۃُ‘‘ سے مراد گرمی کی شدت ہے۔ ایک روایت میں ہے حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب میرے بارہ میں ایسا ذکر کیا گیا اور مجھے اس بارہ میں کچھ علم نہ تھا تو رسول اللہﷺ خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور تشہد کے بعد اللہ کی وہ حمدو ثناء بیان کی جس کا وہ اہل ہے پھر اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کے بارہ میں مشورہ دو جنہوں نے میرے اہل کے بارہ میں تہمت لگائی ہے۔ خدا کی قسم میں نے اپنے اہل میں کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی اور جس شخص کے ساتھ انہوں نے تہمت لگائی ہے خدا کی قسم میں نے اس میں بھی کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی جب بھی وہ میرے گھر میں آیا تو میرے موجودگی میں آیا۔ جب بھی میں سفر پر گیا تو وہ میرے ساتھ گیا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ بھی ہے کہ پھر رسول اللہﷺ میرے گھر میں تشریف لائے اور میری خادمہ سے استفسار فرمایا تو اس نے کہا خدا کی قسم سوائے اس کے میں ان میں کوئی عیب نہیں دیکھتی کہ وہ سو جاتی ہیں حتی کہ بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے_ انہوں نے عَجِیْن کی بجائے خَمِیْر کا لفظ استعمال کیا_ اس بارہ میں ہشام کو شک ہے۔ حضورؐ کے بعض صحابہؓ میں سے کسی نے اس پر اسے ڈانٹا اور کہا کہ رسول اللہﷺ کو صحیح صحیح بتاؤ اور انہوں نے اسے معاملہ کھول کر بتایا۔ تب اس نے کہا خدا کی قسم میں انہیں ایساجانتی ہوں جیسے سنار خالص سونے کی سرخ ڈلی کو جانتا ہے اور جب اس شخص تک یہ خبر پہنچی جس کے ساتھ یہ تہمت لگائی گئی تھی تو اس نے کہا سبحان اللہ ! اللہ کی قسم میں نے کبھی کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پھر انہیں راہِ خدا میں شہید کیا گیا۔ اس روایت میں یہ مزید ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے تہمت لگائی تھی ان میں مِسطح، حَمنہ اور حسّان تھے اور جہاں تک اُس منافق عبداللہ بن ابی (بن سلول) کا تعلق ہے وہ ان (افواہوں ) کو اکٹھا کرتا اور آگے پھیلاتااور وہی اس کے بڑے حصہ کا ذمہ دار تھااور ایک حمنہ۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہﷺ کی ام ولد سے متہم کیا جاتا تھا اس پر رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ جاؤ اور اس کی گردن اڑادو۔ حضرت علیؓ اس کے پاس گئے تو وہ ٹھنڈک کے حصول کے لئے ایک کنویں میں غسل کر رہا تھا۔ اس پر حضرت علیؓ نے اس سے کہا باہر آؤ۔ چنانچہ اس نے انہیں اپنا ہاتھ پکڑایا اور اسے باہر نکالا تو وہ ’’مجبوب‘‘تھا۔ اس کا عضو تناسل نہیں تھا۔ چنانچہ حضرت علیؓ اس سے رک گئے۔ پھر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! وہ تو ’’مجبوب‘‘ہے اور اس کا عضو تناسل نہیں ہے۔