بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 49 hadith
عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابووائل کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو کہتے ہوئے سنا_ میں نے اس(عمرو بن مرہ) سے پوچھا کیا آپ نے یہ حضرت عبداللہؓ سے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں اور انہوں (حضرت عبداللہؓ ) نے اسے مرفوع بیان کیا کہ_ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مندنہیں ہے اور اسی لئے اس نے بے حیائی کے اعمال کو خواہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ حرام قراردیا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو اپنی مدح محبوب نہیں اسی لئے اس نے اپنی تعریف کی ہے۔
حضرت اسماءؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ اللہ عزوجل کو اپنی حمد محبوب ہے۔ اسی لئے اس نے اپنی تعریف کی ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مندنہیں ہے اسی وجہ سے اس نے بے حیائی کے اعمال کو حرام کیا ہے۔ اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں جسے پسند آتا ہو کہ (اس سے) معافی مانگی جائے۔ اسی لئے اس نے کتاب نازل فرمائی اور رسولوں کو بھیجا ہے۔
حضرت اسماء بنت ابو بکرؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل سے زیادہ کوئی غیرت مندنہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک مؤمن غیرت رکھتا ہے اور اللہ بہت زیادہ غیرت رکھتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا۔ پھر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کا ذکر آپؐ سے کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ آیت اتری۔ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِوَزُلَفًامِّنَ اللَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْ ھِبْنَ السَّیِّاٰتِ۔ ۔ اور دن کے دونوں کناروں پر نماز قائم کراور رات کے کچھ ٹکڑوں میں بھی۔ یقینا نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ذکر کرنے والوں کے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے۔ راوی کہتے ہیں اس پر اس شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا یہ (آیت) میرے لئے ہے؟آپؐ نے فرمایا میری امت میں سے ہر اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے۔ حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضرہوا۔ اور اس نے بیان کیا کہ اس نے کسی عورت کابوسہ لے لیا یا(کہا) ہاتھ سے چھو لیا یاکچھ اور (کہا) گویا وہ اس کا کفارہ پوچھ رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ کوئی آدمی ایک عورت سے بدکاری کے سوا کچھ کر بیٹھا۔ وہ حضرت عمرؓ بن خطاب کے پاس گیا۔ انہوں نے اسے بہت سنگین قرار دیا۔ پھر وہ حضرت ابو بکرؓ کے پاس گیا انہوں نے بھی اسے بہت سنگین قرار دیا۔ پھر وہ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ !میں نے مدینہ کے آخری کنارہ پر ایک عورت کو پکڑ لیا اور چھیڑ چھاڑ کی گو میں نے اس سے بدکاری نہیں کی۔ میں حاضر ہوں، میرے بارہ میں فیصلہ فرمادیں۔ حضرت عمرؓ نے اس سے کہا کہ اللہ نے تمہاری پردہ پوشی کی ہے۔ کاش تم بھی اپنا پردہ رکھتے۔ راوی کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ چنانچہ وہ شخص کھڑا ہوا اور چلا گیا۔ پھرنبیﷺ نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیجا جو اس کو بلا لایا۔ آپؐ نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اَقِمِ الصَّلََاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذھِبْنَ السَّیِّاٰتِ۔ ۔ ۔ اور دن کے دونوں کناروں پر نماز قائم کراور رات کے کچھ ٹکڑوں میں بھی۔ یقینا نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ذکر کرنے والوں کے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے۔ اس پر لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا اے اللہ کے نبی ! یہ بات اس کے لئے خاص ہے؟ آپؐ نے فرمایا(نہیں ) بلکہ سب لوگوں کے لئے ہے۔ ایک روایت میں (فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ یَا نَبِیَ اللَّہِ۔ ۔ ۔ کی بجائے) فَقَالَ مُعَاذٌ یَا رَسُوْلَ اللَّہِ کے الفاظ ہیں کہ حضرت معاذ ؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ (بات) اس شخص کے لئے مخصوص ہے؟ یا ہم سب کے لئے عام ہے؟ آپؐ نے فرمایا بلکہ تم سب کے لئے عام ہے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں حد کا مستحق ہو گیا ہوں۔ آپؐ اسے مجھ پر قائم فرمائیے۔ راوی کہتے ہیں اور نماز کا وقت ہوگیا۔ پھر اس (شخص) نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب اس نے نماز ادا کرلی تو اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ!میں ’’حد‘‘ کوپہنچا ہوں۔ آپؐ مجھ پر اللہ کا قانون نافذ فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا تجھے بخش دیا گیا ہے۔
حضرت ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم بھی آپؐ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! میں ’’حد‘‘ کوپہنچا ہوں۔ آپؐ اسے مجھ پرجاری فرمادیجئے۔ رسول اللہﷺ اس پر خاموش رہے۔ اس نے اپنی بات دہرائی اور کہا یا رسولؐ اللہ! میں ’’حد‘‘ کوپہنچا ہوں۔ ۔ آپؐ اسے مجھ پر جاری فرما دیجئے۔ لیکن آپؐ اس پربھی خاموش رہے۔ اتنے میں نماز کھڑی ہوگئی۔ پھر جب اللہ کے نبیﷺ فارغ ہوئے۔ حضرت ابو امامہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نماز سے فارغ ہوکر واپس لوٹے تو وہ شخص بھی آپؐ کے پیچھے پیچھے آیااور میں بھی یہ دیکھنے کے لئے پیچھے پیچھے آیا کہ آپؐ اس شخص کو کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص رسول اللہﷺ سے جا ملا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں ’’حد‘‘ کوپہنچا ہوں۔ اسے مجھ پر جاری فرمائیں۔ حضرت ابو امامہؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایایہ بتاؤ کہ جب تم اپنے گھر سے نکلے تو تم نے خوب اچھی طرح وضوء نہیں کیا تھا؟ اس نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا پھر تم نے ہمارے ساتھ نماز بھی پڑھی ہے؟اس نے عرض کیا جی ہاں یا رسولؐ اللہ!۔ راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایا یقینا اللہ نے تجھے تیری حد یا فرمایا تیرا گناہ بخش دیا ہے۔