حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ بیمار ہوئے اور آپؐ کی بیماری بڑھ گئی تو آپؐ نے فرمایا ابو بکرؓ سے کہو کہ وہ لوگو ں کو نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوبکرؓ ایک نرم دل آدمی ہیں۔ جب آپؐ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپؐ نے فرمایا ابوبکرؓ سے ہی کہوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تم یوسف والیاں ہو۔ راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ کی زندگی میں حضرت ابو بکرؓ نے ہی نماز یں پڑھائیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا رُخ محض اس طرف ہے۔ خدا کی قسم مجھ پر تمہارے رکوع و سجود مخفی نہیں اور یقینًا میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمُ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ فِي الصَّلاَةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ - وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي الصَّلاَةِ - فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ نَابَهُ شَىْءٌ فِي صَلاَتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ - كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ . وَفِي حَدِيثِهِمَا فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ . وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجَعَ الْقَهْقَرَى .
حضرت سہل بن سعدؓ الساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ بنی عمروبن عوف کی طرف گئے کہ ان کے درمیان صلح کرائیں۔ اور نماز کا وقت ہوگیا تو مؤذن حضرت ابو بکرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ کیا آپؓ لوگوں کونماز پڑھائیں گے کہ میں اقامت کہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوبکرؓ نماز پڑھانے لگے۔ ابھی لوگ نماز میں ہی تھے رسول اللہﷺ فارغ ہوکر تشریف لائے اور لوگوں میں سے راستہ بناتے ہوئے صف میں کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے تالی بجائی۔ حضرت ابو بکرؓ نماز میں (ادھر ادھر) توجہ نہ کرتے تھے مگر جب لوگوں نے زیادہ ہی تالیاں بجائیں تو انہوں نے توجہ کی اور رسول اللہﷺ کو دیکھا۔ تب رسول اللہﷺ نے آپ کو اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں۔ تو ابوبکرؓ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ بزرگ و برتر کی اس پر حمد کی جورسول اللہﷺ نے آپ کو ارشاد فرمایا تھا۔ پھر حضرت ابو بکرؓ پیچھے ہٹے اور صف میں شامل ہو گئے اور نبیﷺ آگے بڑھے اور آپؐ نے نماز پڑھائی۔ پھرجب آپؐ فارغ ہوئے توفرمایا اے ابو بکرؓ !جب میں نے آپ کو ٹھہرے رہنے کا کہا تھا تو کس بات نے آپ کو اس سے روکا؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا ابو قحافہ کے بیٹے کی مجال نہیں ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے آگے ہوکر نمازپڑھائے پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا بات ہے میں نے دیکھا کہ تم نے بہت تالیاں بجائیں۔ جسے نماز میں کوئی غیر معمولی بات پیش آئے تو اسے چاہیے کہ وہ سبحان اللہ کہے کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور تالیاں تو عورتوں کے لئے ہیں۔ ابو حازم نے حضرت سہلؓ بن سعد سے مالک کی روایت کی طرح روایت کی ہے۔ ان دونوں کی روایت کے مطابق کہ حضرت ابو بکرؓ نے ہاتھ اٹھائے اور اللہ کی حمد کی اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئے یہانتک کہ صف میں کھڑے ہو گئے۔ حضرت سہل بن سعدالساعدیؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ بنی عمرو بن عوف میں صلح کرانے گئے۔ راویوں کی روایت کے مطابق۔ لیکن اس میں مزید یہ ہے کہ ٭ رسول اللہﷺ تشریف لائے اور صفوں میں سے گزرے یہانتک کہ اگلی صف میں کھڑے ہو گئے اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابو بکرؓ الٹے پاؤں لوٹے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَبُوكَ - قَالَ الْمُغِيرَةُ - فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَىَّ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ . وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ - قَالَ الْمُغِيرَةُ - فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدُ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى لَهُمْ فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الآخِرَةَ فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُتِمُّ صَلاَتَهُ فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ أَحْسَنْتُمْ . أَوْ قَالَ قَدْ أَصَبْتُمْ . يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَالْحُلْوَانِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دَعْهُ .
حضرت مغیرہؓ بن شعبہ نے بیان کیاکہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ غزو ہ تبوک میں شریک ہوئے۔ حضرت مُغیرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ قضائے حاجت کے لیے فجر کی نماز سے پہلے تشریف لے گئے میں نے آپؐ کے ساتھ پانی کی چھاگل اٹھالی۔ جب رسول اللہﷺ میری طرف واپس آئے تو میں چھاگل سے آپؐ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا اور آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، پھر آپؐ نے اپنا چہرہ مبارک دھویا، پھر آپؐ اپنے بازوؤں کو اپنے جبّہ سے باہر نکالنے لگے لیکن جبہ کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے اپنے ہاتھ جُبّہ کے اندر داخل کئے۔ اور اپنے بازو جبّہ کے نیچے سے نکال کرکہنیوں تک دھوئے، پھر آپؐ نے اپنے موزوں پر (مسح کر کے) ان کو صاف کیا۔ پھر آگے چل پڑے۔ مغیرہؓ کہتے ہیں میں بھی آپؐ کے ساتھ آگے چلایہانتک کہ ہم نے لوگوں کو پایا کہ وہ حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف کوآگے کر چکے تھے وہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے۔ تو رسول اللہﷺ نے دو میں سے ایک رکعت پائی اور آپؐ نے دوسری رکعت لوگوں کے ساتھ پڑھی۔ جب حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے سلام پھیرا اور رسول اللہﷺ اپنی نماز پوری کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اس بات نے مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا کردی اور بکثرت تسبیح کرنے لگے جب نبیﷺ نے اپنی نماز ختم کر لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایاکہ تم نے ٹھیک کیایا اچھا کیا۔ آپؐ نے نماز اپنے وقت میں ادا کرنے کی وجہ سے ان پر رشک کا اظہار کیا۔ حضرت مغیرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیاتھا کہ حضرت عبدالرحمانؓ کو پیچھے کردوں مگر نبیﷺ نے فرمایارہنے دو۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ وَزَادَ
فِي الصَّلاَةِ
.
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تسبیح مردوں کے لئے ہے اور تالی بجاناعورتوں کے لئے ہے۔ حرملہ اپنی روایت میں مزید کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے کہا کہ میں نے بعض اہلِ علم مرددیکھے جو سبحان اللہ کہتے اور (اس طرح امام کو توجہ دلانے کے لئے) اشارہ کرتے۔ ہمام نے حضرت ابو ہریرہؓ کے واسطہ سے نبیﷺ سے اس جیسی روایت کی اور ’’نماز میں‘‘ کے الفاظ زائدکئے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا کہ اے فلاں !کیا تم اپنی نماز عمدگی سے ادا نہیں کر سکتے، کیا نماز پڑھنے والا جب نماز پڑھتا ہے دیکھتا نہیں کہ وہ کس طرح نماز پڑھ رہا ہے ! وہ تومحض اپنے لئے نماز پڑھ رہا ہے اور خدا کی قسم میں اپنے پیچھے دیکھتاہوں جس طرح میں اپنے آگے دیکھتا ہوں۔
نے فرمایا کہ رکوع وسجود کو صحیح طرح سے ادا کیا کرو کیونکہ بخداجب تم رکوع و سجود کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے دیکھ لیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں شاید مِنْ بَعْدِیْ فرمایا یا مِنْ بَعْدِ ظَہْرِیْ فرمایا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا رکوع وسجود مکمل کیا کرو۔ خدا کی قسم جب تم رکوع کرتے ہو، تم سجدہ کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے دیکھ لیتا ہوں۔ سعید والی روایت میں اِذَا رَکَعْتُمْ وَاِذَا سَجَدْتُمْ ہے۔ یعنی جب تم رکوع کرتے ہو اور جب تم سجدہ کرتے ہو۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ
وَلاَ بِالاِنْصِرَافِ
.
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپؐ نے نماز ختم کی تو اپناچہرہ مبارک ہماری طرف پھیرا اور فرمایاکہ اے لوگو! میں تمہارا امام ہوں۔ پس رکوع و سجود اور قیام اور سلام پھیرنے میں مجھ سے پہل نہ کیا کرو۔ یقینًا میں تمہیں اپنے آگے اور پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے کہ اگر تم وہ دیکھ لو جو کچھ میں نے دیکھا ہے تو تم لازمًا تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ ! آپؐ نے کیا دیکھا؟آپؐ نے فرمایا کہ میں نے جنت اور دوزخ دیکھی، جریر کی روایت میں وَلََا بِالِاْنصِرَافِ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ نے فرمایا کہ کیا وہ شخص جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سَر کو گدھے کے سر میں تبدیل کر دے!