حضرت جابر بن عبدا للہؓ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک بستر مرد کے لئے ہے۔ ایک اس کی بیوی کے لئے تیسرا مہمان کے لئے اور چوتھا(بستر)شیطان کا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو تکبّر سے اپنا کپڑا گھسیٹتاہے اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ ایک اور روایت میں قیامت کے دن (کے الفاظ) ہیں۔
قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثِيَابَهُ .
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے تکبّر سے اپنا کپڑا گھسیٹا اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ایک اور روایت میں (ثَوْبَہُ کی بجائے) ثِیَابَہُ کے الفاظ ہیں۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ
أَبِي
يُونُسَ عَنْ مُسْلِمٍ
أَبِي
الْحَسَنِ وَفِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا
مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ
. وَلَمْ يَقُولُوا ثَوْبَهُ .
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا کہ تم کس قبیلہ سے ہو؟ تو اس نے انہیں اپنا نسب بتایا تو وہ بنی لیث میں سے تھا۔ حضرت ابن عمرؓ نے اسے پہچان لیا اور کہا کہ مَیں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اپنے تہبند کومحض تکبّر کی وجہ سے گھسیٹا تو اللہ قیامت کے روز اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
- قَالَ - وَأَنَا جَالِسٌ بَيْنَهُمَا أَسَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ
لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
.
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ مَیں نے نافع بن عبدالحارث کے آزاد کردہ غلام مسلم بن یسارسے کہاکہ وہ حضرت ابن عمرؓ سے سوال کریں _ اس نے پوچھا اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا _ کہ جو شخص تکبّر سے چادر گھسیٹے کیا آپؓ نے اس کے بارہ میں نبیﷺ کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مَیں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ مَیں رسول اللہﷺ کے پاس سے گزرا جبکہ میری تہبند لٹک رہی تھی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: اے عبداللہ! اپنی تہبند اوپر اُٹھالو۔ مَیں نے اسے اوپر کرلیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا اور کرو۔ (حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں ): مَیں نے اور زیادہ اوپر کر لی۔ میں اس کے بعد بھی اس کا اہتمام کرتا رہا۔ کسی نے پوچھا کہاں تک؟ انہوں نے کہاآدھی پنڈلیوں تک۔
محمد بن زیاد سے روایت ہے کہ مَیں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو کہتے ہوئے سنا_اور انہوں نے ایک شخص کو اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے دیکھا۔ وہ (حضرت ابو ہریرہؓ ) بحرین کے امیر تھے۔ وہ زمین پر اپنے پاؤں مارتے ہوئے کہتا تھا امیر آگیاامیر آگیا_کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص تکبّر سے اپنا تہبند گھسیٹتا ہے۔ اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ابنِ جعفر کی روایت میں ہے کہ مَروَان حضرت ابوہریرہؓ کوگورنرمقرر کیاکرتا تھا۔ ابن المثنی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کو مدینہ کا گورنر مقرر کیا جاتا تھا۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ هَذَا .
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص اپنی زلفوں اور اپنی دونوں چادروں پر اِتراتا ہوا جا رہا تھاکہ اچانک اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ پس جب تک قیامت قائم نہ ہو جائے وہ زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔
قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جبکہ ایک شخص اپنی دو چادروں میں تکبّر سے چل رہاتھا اور اپنے جی میں خوش ہو رہا تھاتو اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا۔ پس وہ زمین میں قیامت کے دن تک دھنستا چلا جائے گا۔ ایک روایت میں یَمْشِیْ فِی بُُرْدَیْہِ کی بجائے) یَتَبَخْتَرُ فِیْ بُرْدَیْنِ کے الفاظ ہیں۔ ایک روایت میں (بَیْنَمَا رَجُلٌ یَتَبَخْتَرُ فِیْ بُرْدَیْہکی بجائے) اِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یَتَبَخْتَرُ فِیْ حُلَّۃٍ کے الفاظ ہیں۔ یعنی تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص اپنے جوڑے میں تکبر سے چل رہا تھا۔