حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ اللہ نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، بال اکھیڑنے والیوں اور بال اکھڑوانے کا حکم دینے والیوں، خوبصورتی کے لئے دانتوں میں فاصلہ ڈالنے والی اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے والیوں پر لعنت کی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات بنی اسد کی ایک عورت جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا پہنچی۔ وہ قرآن پڑھا کرتی تھی۔ وہ حضرت عبداللہؓ کے پاس آئی اور کہا کہ میرے پاس ایک حدیث آپ سے پہنچی ہے کہ آپ نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، بال اکھیڑنے والیوں اور خوبصورتی کے لئے دانتوں میں فاصلہ کرنے والیوں، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے والیوں پر لعنت کی ہے۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر رسول اللہﷺ نے لعنت فرمائی ہے اور یہ اللہ کی کتاب میں ہے۔ اس پر اس عورت نے کہا کہ میں نے جو کچھ مصحف (قرآن) میں ہے سب پڑھ لیا ہے لیکن میں نے تو اسے نہیں پایا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اگر تم اسے پڑھتیں تو ضروراسے موجود پاتیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے جو تمہیں رسولؐ دے اسے لے لو اور جس سے وہ تمہیں روکے اس سے رُک جاؤ۔ اس پر اس عورت نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میں نے ابھی ان (باتوں ) میں سے آپؓ کی بیوی پر کچھ دیکھی ہیں۔ انہوں نے کہا جاؤ اور دیکھو۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ حضرت عبداللہؓ کی بیوی کے پاس گئی اور کچھ نہ دیکھا۔ پھر حضرت عبداللہؓ کے پاس آئی اور کہا کہ میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم اس سے تعلقات قائم نہ کرتے۔ ایک اور روایت میں (اَلْمَستَوْشَمَات کی بجائے) اَلْمَوْشُوْمَاتِ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت اُمِّ یعقوب کے ذکرسے خالی ہے۔
حمید بن عبدالرحمان بن عوفؓ سے روایت ہے جس سال معاویہ بن ابو سفیان نے حج کیا۔ انہوں نے ان سے سنا اور وہ منبر پر تھے جبکہ انہوں نے بالوں کا ایک گچھا لیا جو ایک سپاہی کے ہاتھ میں تھا وہ کہہ رہے تھے اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہﷺ کو ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بنی اسرائیل صرف اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کئے۔ ایک اور روایت میں (اِنَّمَا ھَلَکَتْ بَنُوْاِسْرَائِیلَ کی بجائے) اِنَّمَا عُذِّبَ بَنُوْاِسْرَائِیلَ کے الفاظ ہیں۔
قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلاَّ الْيَهُودَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ جب امیرمعاویہؓ مدینہ آئے اور انہوں نے ہم سے خطاب کیا اور بالوں کا ایک گُچھا نکالا اور کہا کہ میرا خیال نہیں تھا کہ یہود کے سوا بھی کوئی ایسا کرتا ہے۔ رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع ملی تھی تو آپؐ نے اس کا نام جھوٹ رکھاتھا۔
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ امیرؓ معاویہ نے کہاتم نے ایک بُرا فیشن شروع کیا ہے اور نبیﷺ نے’’جھوٹ‘‘ سے منع فرمایا ہے۔ راوی نے کہا کہ ایک شخص عصا تھامے ہوئے آیا۔ اس عصاکے سرے پر کپڑا تھا۔ امیرمعاویہؓ نے کہا سنو یہ ہے ’’جھوٹ‘‘ قتادہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ جو عورتیں کپڑے کے ٹکڑوں کے ذریعہ اپنے بالوں کو بڑھا لیتی تھیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا آگ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا۔ ایک تو وہ جن کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں جن سے وہ لوگوں کو مارتے ہیں اور وہ عورتیں جو لباس پہنے ہوئے (مگر) عریاں ہیں۔ (اپنی طرف) مائل کرنے والی اور (اپنے بدن) مٹکانے والی۔ ان کے سربختی اونٹوں کی جھکی ہوئی کوہان کی طرح ہیں وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو اتنے اتنے فاصلہ سے آتی ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں کہتی ہوں کہ میرے خاوندنے مجھے (یہ) دیا ہے حالانکہ اس نے مجھے (وہ) نہیں دیا۔ اس پر رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا وہ شخص جو اُس چیز سے خوب سیر ہونے کا اظہار کرتا ہے جو اس کو نہیں دی گئی وہ جھوٹ کے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔
حضرت اسماءؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبیﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا میری ایک سوت ہے کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے کہ میں اپنے خاوند کے مال سے خوب سیر ہونے کا اظہار کروں جو اس نے مجھے نہیں دیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اس چیز سے جو اس کو نہیں دی گئی سیر ہونے کا اظہار کرتا ہے وہ ایسا ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔