بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیلتا ہے۔ایک روایت میں سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے اور پینے کا ذکر ہے۔
عبداللہ بن عبدالرحمان اپنی خالہ حضرت امّ سلمہؓ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں (حضرت ام سلمہؓ ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ
حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا۔ آپؐ نے ہمیں ارشاد فرمایامریض کی عیادت کا، جنازہ کے پیچھے چلنے کا، چھینک کے جواب دینے کا اور قسم پوری کرنے یا قسم کھانے والے کی قسم پوراکرنے میں مدد کرنے کا اور مظلوم کی مدد کرنے کا اور پکارنے والے کی پکار کے جواب دینے کا اور سلام کو رواج دینے کا اور آپؐ نے ہمیں انگوٹھیوں سے یا (فرمایا)سونے کی انگوٹھیاں پہننے سے اور چاندی کے برتنوں میں پینے سے اور ریشمی زین پوشوں سے، قسی بستی میں بننے والے ریشمی کپڑوں سے، ریشم کے پہننے سے، موٹے ریشم سے اور ریشمی لباس کے استعمال سے منع فرمایا۔ایک اور روایت میں (اِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِالْمُقْسِمِ کی بجائے) وَاِنْشَادِ الضَّالِ یعنی گمشدہ چیز کا اعلان کرنا۔ اور ایک روایت میں اِبْرَارِ الْقَسَم کے ساتھ شک کا ذکر نہیں مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ پانی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا کیونکہ جس نے دنیا میں ان میں پیا وہ آخرت میں ان میں نہ پئے گا۔ ایک اور روایت میں (اِفْشَائِ السَّلَامِ کی بجائے) رَدِّ السَّلَامِ یعنی سلام کا جواب دینے کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں نَھَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّہَبِ اَوْحَلَقَۃِ الذَّھَبِ کے الفاظ ہیں۔ یعنی آپؐ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا ring سے منع فرمایا۔ ایک اور روایت میں وَاِفْشَائِ السَّلَامِ وَخَاتَمِ الذَّہَبِ کے بارہ میں شک کا ذکر نہیں۔
عبداللہ بن عُکَیْم کہتے ہیں کہ ہم مدائن میں حضرت حذیفہؓ کے پاس تھے۔ حضرت حذیفہؓ نے پانی مانگا تو ایک گاؤں کا نمبردار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا۔ انہوں نے وہ برتن اس پر دے مارا اور کہا کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں اسے پہلے حکم دے چکا ہوں کہ یہ مجھے اس(چاندی کے) برتن میں (پانی) نہ پلائے کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیواور نہ ہی دیباج اور ریشم پہنو کیونکہ یہ دنیا میں ان کے لئے ہے اور قیامت کے دن آخرت میں تمہارے لئے ہے۔ ایک اور روایت میں (مَعَ حُذَیْفَۃَ کی بجائے) عِنْدَ حُذَیْفَۃَ کے الفاظ ہیں اور یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کالفظ نہیں ہے۔ایک اور روایت میں (کُنَّا مَعَ حُذَیْفَۃَ بِالْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقٰی حُذَیْفَۃُ فَجَائَ ہُ دِہْقَانٌ بِشَرَابٍ فِیْ اِنَائٍ مِنْ فِضَّۃٍ کی بجائے) شَہِدْتُ حُذَیْفَۃَ اِسْتَسْقٰی بِالْمَدَائِنِ فَاَتَاہُ اِنْسَانٌ بِاِنَائٍ مِنْ فِضَّۃٍ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہؓ نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے ایک چاندی کے برتن میں انہیں پینے کے لئے پیش کیا۔ اس پر حضرت حذیفہؓ نے کہا کہ مَیں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ریشم اور دیباج نہ پہنواور سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو، نہ ہی ان(سونا چاندی) کی رکابیوں میں کھاؤ کیونکہ وہ ان کے لئے اس دنیا میں ہیں۔ ۔ ۔ ۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے مسجد کے دروازہ کے پاس ایک ریشمی جوڑا دیکھاتو عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! اگر آپؐ اسے خریدلیں اور لوگوں کے لئے، جمعہ کے دن اور جب وفود آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوں زیب تن فرمالیا کریں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ تو وہ شخص پہنتاہے جس کا آخرت میں کوئی حصّہ نہیں ہے۔ پھر اس جیسے جوڑوں میں سے کچھ رسول اللہﷺ کے پاس آئے توآپؐ نے ان میں سے ایک حضرت عمرؓ کو عنایت فرمایا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیایا رسولؐ اللہ! آپؐ نے مجھے یہ(پہننے کے لئے) عطا کیا ہے جبکہ آپؐ نے عطارد کے جوڑے کے بارہ میں فرمایا تھا جو فرمایا تھا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نے وہ تمہیں اس لئے نہیں دیا کہ تم اسے خود پہنو۔ اس پر حضرت عمرؓ نے وہ(جوڑا) مکہ میں اپنے ایک مشرک بھائی کو پہننے کے لئے دے دیا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے عطارد تمیمی کو ایک دھاری دار ریشمی جوڑا بازار میں بیچتے ہوئے دیکھا۔ یہ ایسا شخص تھا کہ بادشاہوں کے پاس بکثرت جاتا تھا اور ان سے (انعام واکرام) پاتاتھا۔ اس پرحضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! مَیں نے عطارد کو بازار میں (فروخت کے لئے) ایک دھاری دار ریشمی جوڑا لئے ہوئے دیکھاہے۔ اگرآپؐ وہ خرید لیں اور جب عرب کے وفود آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوں آپؐ اسے پہن لیں۔ (راوی کہتے ہیں ) میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپؐ اسے جمعہ کے دن پہنیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے اُن سے فرمایا کہ اس دنیا میں ریشم وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصّہ نہیں۔ پھر بعد میں ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے پاس ریشمی دھاری دار جوڑے لائے گئے۔ تو آپؐ نے ایک جوڑا حضرت عمرؓ کو بھی بھجوایا۔ ایک جوڑا حضرت اسامہ بن زیدؓ کو اور ایک جوڑا حضرت علی بن ابی طالبؓ کو بھجوایااور فرمایا: انہیں پھاڑ کر اپنی عورتوں کے لئے اوڑھنیاں بنالو۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ اپنا جوڑا اٹھائے ہوئے آئے اور عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے مجھے یہ بھجوایااور کل عطارد کے جوڑے کے بارہ میں آپؐ نے فرمایا تھاجو فرمایا تھا۔ اس کے بعد یہ آپؐ نے مجھے بھجوادیا ہے۔ اس پر حضور (ﷺ )نے فرمایاکہ مَیں نے یہ تمہیں اس لئے تو نہیں بھیجاتھا کہ تم اسے پہنو بلکہ اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس سے کوئی فائدہ حاصل کرلو۔ جہاں تک اسامہؓ کا تعلق ہے جب وہ اپنا جوڑا پہنے ہوئے آئے اور رسول اللہﷺ نے ان کو غور سے دیکھا تو وہ جان گئے کہ رسول اللہﷺ نے ان کے اس فعل کو ناپسند فرمایاہے۔ اس پر انہوں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! آپؐ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں کیونکہ آپؐ ہی نے مجھے یہ بھیجا تھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہیں اس لئے نہیں بھیجا تھاکہ تم اسے پہنو بلکہ اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے اپنے گھر کی عورتوں میں اوڑھنیاں بنا کر تقسیم کردو۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بِکتے ہوئے پایا تو آپؓ نے اسے لے لیا۔ پھر اسے لے کر آپؓ، رسول اللہﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ!اسے خرید لیں اور عید اور وفود کے لئے بطورِ زینت استعمال فرمائیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ ان کا لباس ہے جن کا (آخرت میں )کوئی حصہ نہیں۔ پھرحضرت عمرؓ پر جب تک اللہ نے چاہا کچھ وقت گذرا۔ پھر رسول اللہﷺ نے انہیں ایک ریشمی جوڑا بھجوایا۔ حضرت عمرؓ اسے لے کررسول اللہﷺ کی خدمت میں گئے اور عرض کیا: یا رسولؐ اللہ!آپؐ نے فرمایا تھاکہ یہ تو اس کا لباس ہے جس کا (آخرت میں ) کوئی حصّہ نہیں یا (فرمایا) اسے تو وہ پہنتا ہے جس کا(آخرت میں ) کوئی حصّہ نہیں اور اب آپؐ نے یہ مجھے بھجوایا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم اسے بیچ سکتے ہو اور اپنی ضرورت پوری کرسکتے ہو۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے عطارد کے خاندان سے ایک شخص پر دیباج یا ریشم کی ایک قباء دیکھی۔ اس پر انہوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر آپؐ اسے خرید لیں۔ آپؐ نے فرمایا: اسے تو وہ پہنتا ہے جس کا(آخرت میں )کوئی حِصّہ نہیں ہے۔ پھر رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی دھاری دار جوڑا تحفۃً بھجوایاگیا۔ (حضرت عمرؓ کہتے ہیں ) آپؐ نے وہ مجھے بھجوادیا حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا آپؐ نے مجھے وہ (جوڑا) بھیج دیا ہے جبکہ میں نے اس کے بارہ میں آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا تھا جو آپؐ نے فرمایا تھا۔ حضورؐ نے (حضرت عمرؓ سے) فرمایا کہ میں نے تو تمہیں یہ صرف فائدہ اُٹھانے کے لئے بھیجا تھا اور تمہیں اس لئے نہیں بھجوایا تھا تاکہ تم اسے پہنو۔ ایک اور روایت میں (لِتَسْتَمِعَ کی بجائے) لِتَنْتَفِعَ کے الفاظ ہیں اور یہ بھی ذکر ہے کہ آپﷺ نے فرمایا میں نے یہ تمہاری طرف اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو۔ ایک اور روایت میں ہے یحیٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں مجھے سالم بن عبداللہ نے استبرق کے بارہ میں بتایاتھا۔ انہوں نے کہا میں کہتا ہوں کہ جو دیباج موٹا ہو اور سخت ہو۔ ایک اور روایت میں (قَبَائً مِنْ دِیْبَاجٍ أَوْحَرِیْرٍ) کی بجائے حُلَّۃٍ مِنْ اسْتَبْرَقٍ فَاَتَیْ بِھَا النَّبِیُّﷺ کے الفاظ ہیں۔ نیز یہ بھی ذکر ہے کہ مَیں نے تو تمہاری طرف یہ اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس کے ذریعہ کچھ مال حاصل کر لو۔
حضرت اسماء بنتِ ابو بکرؓ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ جو عطاء کے بیٹے کے مامو ں تھے سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت اسماءؓ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی طرف بھیجا اور کہا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں (1)کپڑوں پر نقش و نگار(2) کپڑے کے سرخ گدیلے (3) اور پورے رجب کے روزے۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے مجھ سے کہا کہ آپ نے جو رجب کے روزوں کا ذکر کیا ہے، توجو (دائمی) روزے رکھنے والا ہے اس پر(رجب کے روزے) حرام کیونکر؟ رہا کپڑوں پر نقش و نگار کا مسئلہ تو مَیں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو ریشم پہنتا ہے اس کا(آخرت میں )کوئی حصّہ نہیں۔ مجھے خدشہ ہوا کہ شایدنقش و نگار بھی ریشم سے بنائے جاتے ہیں۔ (باقی رہا) سرخ ریشمی گدا تو یہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا گدّاہے (راوی کہتا ہے) کہ وہ سرخ تھا۔ (راوی کہتے ہیں ) پھر مَیں حضرت اسماءؓ کی طرف گیا اور ان کو اس بارہ میں بتایا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ یہ رسول اللہﷺ کا جُبّہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک اونی ایرانی جُبّہ نکالا جس کے آستینوں اور گریبان پر ریشم کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ حضرت اسماءؓ نے کہا کہ یہ جُبہّ حضرت عائشہؓ کی وفات تک ان کے پاس تھا۔ جب ان کی وفات ہوئی تو مَیں نے اسے لے لیا۔ نبیﷺ اسے پہنتے تھے۔ چنانچہ ہم مریضوں کے لئے شفاء چاہتے ہوئے اسے دھوتے۔