بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 45 hadith
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے بقیع میں کسی آدمی کو یااباالقاسم (کہہ کر)پکارا، تو رسول اللہﷺ نے اس کی طرف توجہ فرمائی۔ اس پر اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میری مرادآپؐ سے نہیں تھی۔ میں نے تو فلاں کو پکارا تھا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میرا نام تورکھ لیا کرو لیکن میری کنیت مت رکھا کرو۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک تمہارے ناموں میں سب سے زیادہ پسندیدہ عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے ہاں بچہ پیدا ہواتو اس نے اس کا نام محمد رکھا۔ اس پر اس کی قوم نے کہا کہ ہم تجھے رسول اللہﷺ کے نام پر نام نہ رکھنے دیں گے۔ وہ اپنی پیٹھ پر اپنے بچہ کو اٹھائے ہوئے چل پڑا اور نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے ہاں لڑکا ہوا۔ میں نے اس کا نام محمدرکھا۔ اس پر میری قوم نے مجھ سے کہا کہ ہم تجھے رسول اللہﷺ کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے نام پرنام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر کنیت مت رکھو کیونکہ قاسم تو میں ہوں جو تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا ہوا تواس نے اس کا نام محمد رکھا۔ اس پر ہم نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کے نام پر تیری کنیت نہیں رکھیں گے جب تک کہ تم آپؐ سے اجازت نہ لے لو۔ راوی کہتے ہیں چنانچہ وہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے ہاں لڑکا ہوا ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ کے نام پر اس کا نام رکھا لیکن میری قوم نے انکار کر دیا کہ مجھے اس نام پر کنیت نہ دیں گے یہاں تک کہ تم نبیﷺ سے اجازت لے لو۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھ لو مگر میری کنیت پر کنیت مت رکھو کیونکہ مجھے قاسم بناکر بھیجا گیا ہے۔ میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ ایک روایت میں اس کا ذکر نہیں کہ مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے کہ تمہارے درمیان تقسیم کروں۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھا کرو کیونکہ میں ابو القاسم ہوں اور تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ ایک اور روایت میں (وَ لَا تَکَنَّوْا کی بجائے) وَلَا تَکْتَنُواکے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں (أَقْسِمُ بَیْنَکُمْکی بجائے) إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَیْنَکُمْ کے الفاظ ہیں۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری شخص کے ہاں ایک لڑکے کی ولادت ہوئی تو اس نے چاہا کہ اس کا نام محمد رکھے۔ چنانچہ وہ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے پوچھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا انصارؓ نے اچھا کیا۔ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔ ایک اور روایت میں ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ اورایک روایت میں (بُعِثْتُ قَاسِمًا کی بجائے) فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ کے الفاظ ہیں
حضرت جابرؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ اس پر ہم نے کہا کہ ہم تجھے ابو القاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے اور تیری آنکھیں ٹھنڈی نہ کریں گے۔ اس پر وہ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کا ذکرآپؐ سے کیا۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھ دو۔
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ ابو القاسمﷺ نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھ لو لیکن میری کنیت پر کنیت مت رکھو۔ عمرو نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے مگر یہ نہیں کہا کہ میں نے سنا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ جب میں نجران آیا تولوگوں نے مجھ سے سوال کئے۔ انہوں نے کہا کہ تم یَا أُخْتَ ہَارُونَ پڑھتے ہو جبکہ موسیٰؑ عیسٰیؑ سے اتنا اتنا پہلے تھے۔ پھر جب میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور آپؐ سے اس بارہ میں پوچھا توآپﷺ نے فرمایا وہ لوگ اپنے سے پہلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔
حضرت سمرہؓ بن جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں اپنے غلاموں کے چار نام رکھنے سے منع فرمایا افلح، رباح، یساراور نافع۔