بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک روز رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی دیکھی پھر لوگ بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا کر پہننے لگے۔ پھر جب نبیﷺ نے اپنی انگوٹھی پھینکی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشہ کا تھا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نبیﷺ کی انگوٹھی اس (انگلی) میں ہوتی تھی۔
حضرت ابو بردہؓ سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے مجھے منع فرمایا کہ میں اپنی اس انگلی یا اس انگلی میں انگوٹھی پہنوں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے اپنی درمیانی اور اس کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک غزوہ میں جو ہم نے کیا نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم زیادہ تر جوتیاں پہنے رکھا کرو کیونکہ آدمی جب تک جوتی پہنے ہووہ سوار ہی ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو بائیں سے ابتداء کرے اور چاہیے کہ یا دونوں جوتے پہنے یا دونوں ہی اتار دے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک جوتی میں نہ چلے یا تو دونوں پہنے یا دونوں اتار دے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی پہنی جس میں حبشہ کا نگینہ تھا۔ آپؐ اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کی طرف کر دیتے۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا آپؐ _یعنی نبیﷺ _نے مجھے منع فرمایا کہ میں اپنی انگوٹھی اس(انگلی) میں یا اس کے ساتھ والی میں پہنوں۔ عاصم کو یہ علم نہیں تھا کہ کونسی دو (انگلیاں ) مراد ہیں۔ اور مجھے ریشمی کپڑا پہننے اور ریشمی زین پوش پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا کہ قسی (سے مراد) وہ دھاری دار کپڑے ہیں جو مصر اور شام سے لائے جاتے تھے۔ اور میاثر وہ چیز ہے جو عورتیں کجاووں پر اپنے خاوندوں کے لئے ارغوانی گدیلے ڈال دیتی تھیں۔ ایک اور روایت میں (نَھَانِیْکی بجائے) نَھَی اَوْ نَھَانِیکے الفاظ ہیں۔
ابو رزین سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ ہمارے پاس باہر آئے اور اپنے ہاتھ کو اپنی پیشانی پر مار کر کہنے لگے خبردار!تم کہتے ہو کہ میں رسول اللہﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرتا ہوں تاکہ تم ہدایت پاجاؤ اور میں گمراہ ہو جاؤں۔ سنو! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی (کی جوتی) کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ(صرف) دوسری (جوتی) میں نہ چلے جب تک کہ اس(پہلی جوتی)کو ٹھیک نہ کرلے۔