حضرت عبد اللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے خیبر کے دن مجھے چربی کی ایک تھیلی ملی جسے میں نے سنبھال لیا اور میں نے کہا آج میں اس میں سے کسی کو کوئی چیز نہ دوں گا وہ کہتے ہیں میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ تبسم فرمارہے تھے ۔
حُمید بن ہلال کہتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن مغفلؓ سے سنا وہ کہتے تھے خیبر کے دن کسی نے ہماری طرف ایک تھیلی جس میں چربی اور کھانا تھا ہماری طرف پھینکی۔ میں اسے پکڑنے کے لئے لپکا۔ وہ کہتے ہیں میں نے پیچھے دیکھا تو رسول اللہ ﷺ (کو کھڑے پایا) میں آپؐ سے شرما گیا ۔شعبہ اسی سند سے روایت کرتے ہیں سوائے اس کے کہ انہوں نے چربی کی تھیلی کہا اور کھانے کا ذکر نہیں کیا ۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ابو سفیان نے انہیں براہ راست بتایا میں اس (صلح حدیبیہ کی ) مدت کے دوران جو میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان تھی۔ سفر پر چلا وہ کہتے ہیں جب میں شام میں تھا تو رسول اللہ ﷺ کا ایک خط ہرقل یعنی شاہِ روم کے پاس لایا گیا۔ وہ کہتے ہیں دَحیہ کلبی اسے لے کر آئے تھے۔ انہوں نے بُصریٰ کے حاکم کو وہ (خط)دیا اوربُصریٰ کے حاکم نے ہرقل کو دیا۔ ہرقل نے کہا کیا اس شخص کا جو گمان کرتا ہے میں نبی ہوں کی قوم کا کوئی شخص یہاں موجود ہے۔انہوں نے کہا ہاں وہ کہتے ہیں قریش کے گروہ کے ساتھ مجھے بلایا گیا ہم ہرقل کے پاس آئے۔ اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اس نے کہا تم میں سے نسب کے لحاظ سے کون اس شخص کا سب سے زیادہ قریبی ہے؟ جو گمان کرتا ہے کہ میں نبی ہوں۔ ابو سفیان کہتے ہیں میں نے کہا میں۔انہوں نے مجھے اس کے سامنے اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا۔ پھر اپنے ترجمان کو بلایا اور اسے کہا انہیں کہو میں اِس سے اُس شخص کے بارہ میں پوچھنے والا ہوں جس کا دعوٰی ہے کہ میں نبی ہوں۔ اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اس کی تکذیب کرو۔ راوی کہتے ہیں ابو سفیان نے کہا اللہ کی قسم ! اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ میرا جھوٹ بتا دیا جائے گا تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا اس سے پوچھو تم میں اس کا حسب نسب کیسا ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا وہ ہم میں سے اعلیٰ حسب والے ہیں۔ اس نے کہا کیا اس کے آباؤ اجداد میںسے کوئی بادشاہ تھا۔ میں نے کہا نہیں اس نے کہا اس کے دعوٰی سے قبل کیا تم اس پر جھوٹ کا اتہام لگاتے تھے ؟ میں نے کہا۔ نہیں اس نے کہا کیا اس کے متبعین بڑے لوگ ہیں یا کمزور ؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا بلکہ کمزور اس نے کہا کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہورہے ہیں؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں۔ اس نے کہا کیا کوئی شخص اس دین میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض ہونے اور اسے برا سمجھنے کی وجہ سے کوئی مرتد بھی ہوا ہے ؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا کیا تم نے اس کے ساتھ جنگ کی ہے؟ میں نے کہا ہاں اس نے کہا تمہاری اس سے لڑائی کا نتیجہ کیا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا ہمارے اور اس کے درمیان لڑائی ڈول کی مانند ہے ۔ کبھی ہم فتح مند ہوتے ہیں اور کبھی وہ۔ اس نے کہا کیا وہ بد عہدی کرتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں ہاں اب ہمارا اس کے ساتھ ایک معاہدہ ہے ہم نہیں جانتے کہ وہ اس سے متعلق کیا کریں گے ۔وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم ! اس کے علاوہ کوئی اور بات میرے لئے ممکن نہ ہوئی کہ میں اس میں داخل کروں۔ اس نے کہا کیا اس قسم کا دعوٰی اس سے پہلے بھی کسی نے کیا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا نہیں۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا اسے کہو میں نے تجھ سے اس کے حسب نسب کے بارہ میں پوچھا تو تم نے بتایا کہ تمہارے نزدیک وہ اعلیٰ حسب نسب کا مالک ہے ۔ اوررسول ایسے ہی ہوتے ہیں۔ وہ اپنی قوم کے اعلیٰ حسب میں مبعوث ہوتے ہیں اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا اس کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ ہوا ہے ؟ تم نے بتایا کہ نہیں میں کہتا اگر اس کے خاندان میں کوئی بادشاہ ہوتا تو یہ اپنے آبا ؤ اجداد کی بادشاہت چاہتا ہے اورمیں نے تجھ سے اس کے متبعین کے بارہ میں پوچھا کہ کیا ان میں سے کمزور ہیں یاان میں سے بڑے بڑے لوگ تو تم نے کہا بلکہ کمزور لوگ ہیں اور رسولوں کے متبعین ایسے ہی ہوا کرتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس کے دعوٰی سے پہلے تم اس پر جھوٹ کا الزام لگاتے تھے ؟ تو تم نے کہا نہیں تو میں نے جان لیا کہ وہ جو لوگوں پر جھوٹ نہیں بولتا وہ خدا پر جھوٹ کیسے بول سکتا ہے ۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کیا اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض ہونے اور اس کو برا سمجھنے کی وجہ سے کوئی مرتد بھی ہوا ہے ؟ تو تم نے جواب دیا نہیں اور ایمان ایسا ہی ہوتا ہے جب وہ دلوں کی بشاشت کے ساتھ مل جائے ۔ میں نے تجھ سے پوچھا کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہورہے ہیں ؟ تو تم نے جواب دیا کہ وہ بڑھ رہے ہیں ایمان کا معاملہ ایسا ہی ہے یہانتک کہ وہ مکمل ہوجا تا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کیا تم نے اس سے جنگ کی ہے تو تم نے جواب دیا کہ تم نے اس سے جنگ کی ہے اور تمہارے اور اس کے درمیان جنگ ڈول کی مانندہے کبھی تم فتح یاب ہوتے ہو کبھی وہ اور رسول اسی طرح سے آزمائے جاتے ہیں ۔انجام انہیں کا ہوتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کیا وہ عہد شکنی کرتے ہیں ؟تم نے جواب دیا کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتے اور اسی طرح رسول عہد شکنی نہیں کیا کرتے اور میں تم سے پوچھا کیا اس قسم کا دعوٰ ی اس سے پہلے بھی کسی نے کیا تھا ؟ تم نے کہا نہیں میں نے سوچا اگر کسی نے اس قسم کا دعوٰی پہلے کیا ہوتا میں کہتا اس نے بھی اس کی نقل کی ہے ۔ ابو سفیان کہتے ہیں پھر اس نے کہا وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے ؟ میں نے کہا وہ ہمیں نماز اور زکوٰۃ اور صلہ رحمی اور پاکیزگی کا حکم دیتا ہے ۔ اس نے کہا اگر وہ باتیں جو تم ان کے بارہ میں کہہ رہے ہو سچ ہیں تو یقینا وہ نبی ہیں اور میں جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں لیکن مجھے گمان نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوںگے اگر میں جانتا کہ میں ان تک صحیح سلامت پہنچ جاؤں گا تو میں ضروران سے ملنا چاہتا اور اگر میں ان کے پا س ہوتا تو میں ان کے پاؤں دھوتا اور ضرور ان کی حکومت میرے ان پاؤں کی جگہ پر بھی پہنچے گی ۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا اور اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت رحم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے ۔ محمدرسول اللہ( ﷺ) کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام، اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے ۔ اما بعد یقینا میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں تم مسلمان ہوجاؤ تم سلامت رہوگے اور تم مسلمان ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تمہیں دو دفعہ تمہارا اجر دے گا اور اگر تم منہ پھیر لو تو اریسّین (کسان رعایا)کا وبال بھی تم پر ہوگا اور ’’اے اہل کتاب اس کلمہ کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کہ سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اور نہ ہی کسی چیز کو اس کا شریک ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہیں بنائے گا پس اگر وہ پھر جائیں تو تم کہہ دو گواہ ر ہنا کہ یقینا ہم مسلمان ہیں ‘‘٭جب وہ خط پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند ہوئیںاور شور شرابا ہوا۔اس نے ہمار ے بارہ میں حکم دیا تو ہمیں باہر نکال دیا گیا۔ ابو سفیان کہتے ہیں جب ہم باہر نکلے میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ کا معاملہ توبہت بڑھ گیا ہے ۔ اب تو اس سے بنی اصفر کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ کے معاملہ میںیقین ہو گیا کہ آپؐ ضرور غالب آئیں گے یہانتک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ میں اسلام داخل کردیا۔ ایک اور روایت میں مزید ہے کہ اور قیصر سے جب اللہ تعالیٰ نے فارس کی فوجوں کو ہٹا دیا تو وہ حمص سے ایلیاء کی طرف شکر کرنے کے لئے پیدل روانہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مصیبت سے نجات دی ہے اور اس روایت میں (مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ کی بجائے) مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ اور( اِثْمُ الْاَرِیْسِیِّیْنَ کی بجائے) اِثْمُ الْیَرِیْسِیِّیْنَ اور (بِدِعَایَۃِ الْاِسْلَامِ کی بجائے ) بِدَاعِیَۃِ الْاِسْلَامِ کے الفاظ ہیں۔
أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى كِسْرَى وَإِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى النَّجَاشِيِّ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . وَحَدَّثَنَاهُ
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِي الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . وَحَدَّثَنِيهِ
وَلَمْ يَذْكُرْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کسریٰ اور قیصر اور نجاشی اور ہر ایک ڈکٹیٹر کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہوئے خط لکھا اور یہ نجاشی وہ نہیں تھا جس کی نبی ﷺ نے نماز (جنازہ) پڑھی تھی۔ دو روایتوں میں لَیْسَ بِالنَّجَاشِیِّ الَّذِیْ صَلَّی عَلَیْہِ النَّبِیُّﷺ کے الفاظ نہیں ہیں۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَالَ عَبَّاسٌ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَزِمْتُ أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ عَبَّاسٌ وَ أَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لاَ تُسْرِعَ وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ . فَقَالَ عَبَّاسٌ وَكَانَ رَجُلاً صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلاَدِهَا . فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ - قَالَ - فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَقَالُوا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ . فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ . قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ . قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى - قَالَ - فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلاً وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا . وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ . وَقَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ . وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ . وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ يُونُسَ وَحَدِيثَ مَعْمَرٍ أَكْثَرُ مِنْهُ وَأَتَمُّ .
ابن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے کثیر بن عباس بن عبد المطلب نے بتا یا وہ کہتے ہیں حضرت عباسؓ نے کہا میں حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ رہے اور آپؐ سے علیحدہ نہ ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی سفید خچر پر جو آپؐ کو فروہ بن نفاثہ جذامی نے تحفہ دیا تھا سوار تھے جب مسلمانوں اور کفار کی مٹھ بھیڑ ہوئی تو مسلمانوں نے پیٹھ پھیر لی۔رسول اللہ ﷺ نے اپنی خچر کو کفار کی طرف تیزی سے برابر بڑھاتے رہے۔حضرت عباسؓ کہتے ہیں۔ میںرسول اللہ ﷺ کی خچر کی لگام پکڑے ہوئے اسے تیز چلنے سے روک رہا تھا اور ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کی رکاب پکڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عباس اصحابِ سمرہ کو بلاؤ عباسؓ کہتے ہیں_ اور وہ بلند آواز آدمی تھے_ صحابِ سمرہ٭ کہاں ہیں ؟ وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم ! جب انہوں نے میری آواز سنی تو گویا ان کا لوٹنا ایسے تھا جیسے گائے اپنے بچوں کی طرف(شفقت کی وجہ سے ) جاتی ہے۔ انہوں نے کہالبیک لبیک پھر وہ کفار سے لڑے اور انصار کو یہ کہتے ہوئے بلایا! اے گروہِ انصار! وہ کہتے ہیں پھر یہ پکار، بنی حارث بن خزرج پر جا ٹھہری اور انہوں نے کہا اے بنی حارث بن خزرج !اے بنی حار ث بن خزرج! رسول اللہ ﷺ نے گردن اُٹھا کر ان کی جنگ کا نظارہ کیا اور آپؐ اپنی خچر پر سوار تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تنور کے جوش زن ہونے کا وقت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کنکر پکڑے اور انہیں کفار کے چہروں کی طرف پھینکا۔ پھر فرمایا محمدؐ کے رب کی قسم ! انہوں نے شکست کھائی۔ (حضرت عباس )کہتے ہیں میں دیکھنے لگا تو لڑائی ویسے ہی ہورہی تھی جیسے مَیں دیکھتا تھا ۔ وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم !جونہی آپؐ نے کنکریاں پھینکیں تو مَیں نے دیکھا کہ ان کی تیزی ماند پڑنے لگی اور ان کا معاملہ الٹنے لگا ۔ ایک اور روایت میں(فَرْوَۃُ بْنُ نُفَاثَۃَ الْجُذَامِیُّ کی بجائے ) فَرْوَۃُ بْنُ نُعَامَۃَ الْجُذَامِیُّ ہے اور آپؐ نے اِنْھَزَمُوْا وَرَبِّ مُحَمَّدٍؐ کی بجائے اِنْھَزَمُوْا وَرَبِّ الْکَعْبَۃ،ِ اِنْھَزَمُوْاا وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ فرمایا اور اس روایت میں یہ مزید ہے کہ اللہ نے (کفار) کو شکست دی ۔ حضرت عباس ؓکہتے ہیں کَاَنِّی اَنْظُرُ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ یَرْکُضُ خَلْفَہُمْ عَلَی بَغْلَتِہِ کہ میں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبی ﷺ تیزی سے اپنی خچر پر ان کے پیچھے جا رہے ہیں ۔ ایک اور روایت میں قَالَ عَبَّاسٌ شَہِدْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ حُنَیْنٍ کی بجائے قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ یَوْمَ حُنَیْنٍ کے الفاظ ہیں۔
ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نے حضرت براءؓ سے کہا اے ابو عمارہ کیا تم حنین کے دن فرار اختیار کر گئے تھے انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے پیٹھ نہیں دکھائی لیکن آپؐ کے صحابہ ؓ میں سے جلدباز نوجوان جن کے پاس ہتھیار نہ تھے یا بہت ہتھیار نہ تھے اور ان کی ایسی تیر انداز قوم سے مٹھ بھیڑ ہوئی جن کا کوئی تیر خطا نہ جاتا تھا یعنی ہوازن اور بنو نصر کے جتھے۔ انہوں نے مسلسل تیر اندازی کی کہ ان کا کوئی تیرشاذ ہی خطا جاتا۔اس وقت وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھے اور رسول اللہ ﷺ اپنی سفید خچر پر سوار تھے اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب اسے چلا رہے تھے۔ آپؐ اترے اور آپؐ نے (اللہ سے) مدد چاہی اور فرمایا میں نبی ہوں یہ کوئی جھوٹ نہیں میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں پھر آپؐ نے ان کی صف بندی کی ۔
. قَالَ الْبَرَاءُ كُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهِ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِي بِهِ . يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص حضرت براءؓ کے پاس آیا اور کہا اے ابو عمارہ! تم لوگ حنین کے دن پیٹھ دکھا گئے تھے۔ انہوں نے کہا میں نبی ﷺکے بارہ میں گواہی دیتا ہوں، آپؐنے پیٹھ نہیں دکھائی تھی لیکن جلد باز اور بغیر ہتھیاروں کے لوگ ہوازن قبیلہ کی طرف گئے اور وہ تیر انداز قوم تھی انہوں نے ایسے تیروں کی بارش کی گویا ٹڈی دَل ہیں جس کے نتیجہ میں وہ اپنی جگہیں چھوڑہوگئے۔ پھر لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے اور ابو سفیان بن حارث آپؐ کے خچر کو چلا رہے تھے ۔آپؐ اترے دعا کی اور اللہ سے مدد طلب کی اور آپؐ کہہ رہے تھے میں نبی ہوں یہ کوئی جھوٹ نہیں میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں اے اللہ! اپنی مدد نازل فرما ۔حضرت براء ؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم جب جنگ شدّت اختیار کر جاتی تو ہم آپؐ کے ذریعہ اپنے آپ کو بچاتے تھے اورہم میں سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آپؐ کے پہلو میں یعنی نبی ﷺ کے ساتھ کھڑا رہتا تھا ۔
وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَاءُ وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَفِرَّ وَكَانَتْ
ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت براءؓ سے سنا اور ان سے قیس قبیلہ کے ایک شخص نے پوچھا کیا تم حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے ؟حضرت براءؓ نے کہا لیکن رسول اللہ ﷺ نے ہر گز فرار اختیار نہیںکیا اور ہوازن قبیلہ والے اس زمانہ میں ماہر تیر انداز تھے اور جب ہم نے ان پر حملہ کیا وہ ہٹ گئے اور ہم غنیمتوں پر ٹوٹ پڑے تو انہوں نے ہمارا تیروں سے استقبال کیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سفید خچر پر دیکھا۔ اور ابو سفیان بن حارث اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور آپؐ یہ فرما رہے تھے میں نبی ہوں یہ کوئی جھوٹ نہیں میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُنَيْنًا فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَى عَنِّي فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَىَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالأُخْرَى فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَدْ رَأَى ابْنُ الأَكْوَعِ فَزَعًا . فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ شَاهَتِ الْوُجُوهُ . فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلاَّ مَلأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ .
ایاس بن سلمہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیّت میں غزوئہ حنین کیا جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا میں آگے بڑھا اور ایک گھاٹی پر چڑھا تو دشمن کے ایک شخص سے میرا سامنا ہوا ۔میں نے اسے تیر مارا تو وہ مجھ سے چھپ گیا۔ مجھے نہیں پتہ چلا کہ اسے کیاہوا؟ میں نے دیکھا کہ لوگ دوسری گھاٹی سے نکل رہے ہیں ان میں اور نبی ﷺ کے صحابہؓ میں جنگ ہوئی اور نبی ﷺ کے صحابہ ؓ واپس مڑ گئے۔ میں پسپا ہوکر لوٹا۔ مجھ پر دو چا دریں تھیں ایک میں باندھے ہوئے تھا اور دوسری اوپر لئے ہوئے تھا میری چادر کھلنے لگی تو میں نے دونوں کو اکٹھا کر لیا اور میں پیچھے ہٹتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گذرا۔آپؐ سیاہ و سفید رنگ کے خچر پر تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن اکوع نے کوئی پریشانی دیکھی ہے ۔لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو گھیر لیا تو آپؐ خچر سے اترے ۔ پھر زمین سے مٹی کی ایک مٹھی لی اور اسے ان کے چہروں کی طرف پھینکا اور فرمایا چہرے سیاہ ہوگئے ۔ پس ان میں سے کوئی شخص جسے اللہ نے پیدا کیا ہے ایسا نہیں تھا جس کی آنکھیں اس نے اس مٹھی کی مٹی سے نہ بھردی ہوں۔ پس وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور اللہ عزّ وجل نے انہیں شکست دی اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی غنیمتیں مسلمانوں میں تقسیم فرمائیں۔
قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ
إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
. قَالَ أَصْحَابُهُ نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ
. فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا
. قَالَ فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
حضرت عبد اللہ ؓ بن عمروسے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اہل طائف کا محاصرہ کیا مگر ان پر فتح نہ پائی ۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو ہم واپس لوٹنے والے ہیں۔آپؐ کے صحابہ ؓ نے عرض کیا کیا ہم بغیر فتح کے لوٹ جائیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صبح جنگ کے لئے نکلو تو صبح کے وقت وہ ان کے پاس تھے تو انہیں زخم پہنچے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کل ہم واپس لوٹنے والے ہیں۔ راوی کہتے ہیں یہ بات انہیں پسند آئی تو رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے ۔