بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 129 hadith
سعید بن ابی سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے سناوہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے کچھ سوار نجد کی طرف بھیجے۔ وہ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو لے کر آئے جو یمامہ کا سردار ثمامہ بن اُثال کہلاتاتھا۔انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ رسول اللہ ﷺاس کے پاس آئے اور فرمایا اے ثمامہ تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا اے محمدؐ میرے پاس خیر (ہی) ہے۔ اگر آپؐ مجھے قتل کردیں تو ایک قاتل کو قتل کریں گے اور اگر آپؐ احسان فرمائیں تو ایک شکر گزار پر احسان فرمائیں گے ۔ اگر آپؐ مال کا مطالبہ کریں تو جس قدر آپؐ فرمائیں گے آپ کودیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیا۔پھر اگلا دن آیا۔ آپؐ نے فرمایا اے ثمامہ! اس نے کہا وہی جو میںآپؐ سے کہہ چکا ہوں کہ اگر آپؐ احسان فرمائیں گے تو ایک شکر گزار پر احسان فرمائیں گے اور اگرآپؐ قتل کریں گے تو ایک قاتل کو قتل کریں گے اور اگرآپؐ مال چاہتے ہیں تو جس قدرآپؐ چاہیں گے دیا جائے گا رسول اللہ ﷺ نے اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیا یہانتک کہ اگلا دن ہوا تو آپؐ نے فرمایا اے ثمامہ! کیا خیال ہے؟ اس نے کہا میرے پاس وہی کچھ ہے جس کا میںآپؐ سے (پہلے)اظہارکرچکاہوںاگرآپؐاحسان فرمائیں تو ایک شکر گزار پر احسان فرمائیں گے اور اگرآپؐ قتل کریں تو ایک قاتل کو قتل کریں گے اور اگر آپؐ کو مال کی طلب ہے تو جس قدر آپؐ فرمائیں گے آپؐ کو دیا جائے گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ثمامہ کو آزاد کردو ۔ وہ مسجد کے قریب کھجور کے ایک باغ کی طرف گیاغسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔ اے محمد ؐ ! اللہ کی قسم ! سطحِ زمین پرآپؐ کے چہرہ سے بڑھ کر کوئی چہرہ مجھے زیادہ مبغوض نہیں تھا اور اب آپ ؐ کا چہرہ تمام چہروں سے بڑھ کر محبوب ہوگیا ہے۔ اللہ کی قسم ! کوئی دین آپؐ کے دین سے بڑھ کر مجھے ناپسند نہیں تھا لیکن اب تمام دینوں سے بڑھ کر آپؐ کا دین مجھے محبوب ہوگیا ہے اور خدا کی قسم آپؐ کے شہر سے بڑھ کر مجھے کسی شہر سے نفرت نہ تھی مگر آپؐ کا شہر مجھے سارے شہروں سے بڑھ کر پیا را ہو گیا ہے۔آپؐ کے گھڑ سواروں نے مجھے پکڑاجبکہ میں عمرہ پر جارہا تھا۔ اب آپؐ کا کیا ارشادہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے اسے بشارت دی اور اسے عمرہ کرنے کا ارشاد فرمایا جب وہ مکہ آیا تو ایک کہنے والے نے اسے کہا کیا تو صابی ہوگیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے۔ اللہ کی قسم !تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا یہانتک کہ رسول اللہ ﷺ اس بارہ میں اجازت مرحمت فرمائیں۔ ایک اور روایت میں( قِبَلَ نَجْدٍ کی بجائے) نَحْوَاَرْضِ نَجْدٍ کے الفاظ ہیں اور (مِنْ بَنِیْ حَنِیْفَۃَ یُقَالُ لَہُ ثُمَامَۃُ بْنُ اُثَالٍ کی بجائے )یُقَالُ لَہُ ثُمَامَۃُ بْنُ اُثَالٍ الْحَنَفِیُّ کے الفاظ ہیں اور (اِنْ تَقْتُلْ کی بجائے)اِنْ تَقْتُلْنِیْ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں اس اثناء میں کہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہود کی طرف چلو۔ہم آپ ؐکے ساتھ نکلے یہانتک کہ ان کے پاس پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور انہیںپکارا اور فرمایا اے یہود کے گروہ! اسلام قبول کرو ،سلامتی میں آجاؤ گے۔ انہوں نے کہا اے ابو القاسم! آپؐ نے (پیغام) پہنچا دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا میں یہی چاہتا ہوں تم اسلام قبول کرو تو سلامتی میں آجاؤ گے۔ انہوں نے کہا اے ابو القاسم! آپؐ نے (پیغام) پہنچا دیا۔ رسول اللہ ﷺنے انہیں فرمایا میں یہی چاہتا ہوں۔ پھر آپؐ نے انہیں تیسری مرتبہ فرمایا اور فرمایا جان لو زمین تو صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کی ہے اور چاہتا ہوں کہ تمہیں اس زمین سے جلاوطن کردوں تو تم میں سے جس نے اپنے مال سے کچھ حاصل کر لیا ہے وہ اس کو بیچ دے ،وگرنہ تم جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ؐکی ہے ۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ بنو نضیر اور قریظہ کے یہود نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کی رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو جلاوطن کر دیا اور قریظہ کو ٹھہرے رہنے دیا اور ان پر احسان فرمایا یہانتک کہ اس کے بعد قریظہ نے( بھی ) جنگ کی آپ نے ان کے آدمیوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں اور ان کی اولاد اور ان کے اموال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا سوائے اس کے کہ ان میں سے بعض رسول اللہ ﷺ سے مل گئے تو آپؐ نے انہیں امان دی اور انہوں نے اسلام قبول کیا ۔ اور رسول اللہ ﷺنے مدینہ کے سب یہودیوں بنو قینقاع جو حضرت عبداللہؓ بن سلام کی قوم تھی اور بنی حارثہ کے یہود اور ہر اس یہودی کو جو مدینہ میں تھا جلا وطن کر دیا۔
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں انہیں حضرت عمر ؓ بن خطاب نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میں یہود اور نصاریٰ کو ضرور جزیرئہ عرب سے نکال دوں گااور مسلمانوں کے سوا کسی کو نہ چھوڑوں گا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل قریظہ اس شرط پر نیچے اُترے کہ حضرت سعد بن معاذؓ (ان کا) فیصلہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعدؓ کو بلا بھیجا۔ وہ آپ کے پاس ایک گدھے پر (سوار) آئے جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تورسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا اپنے سرداریا اپنے بزرگ کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ پھر فرمایا یہ اس شرط پر اترے ہیں کہ تم فیصلہ کرو۔ انہوں نے کہا ان کے جو لڑتے رہیں ان کو قتل کیا جائے اور ان کی ذریت قیدی بنائی جائے ۔ راوی کہتے ہیںنبی ﷺ نے فرمایا تم نے اللہ کے حکم کے مطابق اور(راوی نے )بعض دفعہ کہاتم نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔ ابن مثنّٰی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ بعض اوقات۔ راوی نے کہاتم نے بادشاہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ۔ شعبہ بھی اسی سند سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے ان کے بارہ میں اللہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور(راوی نے ایک دفعہ) کہا تم نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ خندق کے دن سعد ؓزخمی ہوئے۔ ان کو قریش کے ایک شخص نے جس کا نام ابن عرقہ تھاتیر مارا ۔اس نے ان کی رگ میں مارا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا خیمہ مسجد میں لگوا دیا ۔آپؐ قریب سے ان کی عیادت کرتے۔ جب رسول اللہ ﷺ خندق سے واپس لوٹے آپؐ نے ہتھیار رکھ دئیے اور غسل کیا تو حضرت جبرائیل آپ ؐکے پاس آئے اور وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے ۔ انہوں نے کہا آپؐ نے ہتھیار رکھ دئیے ہیں اللہ کی قسم ! ہم نے نہیں رکھے ۔ ان کی طرف نکلئے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کدھر تو انہوں نے بنوقریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے لڑائی کی ۔وہ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر اُترے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارہ میں فیصلہ (کرنے کا اختیار ) سعد ؓ کے سپرد کیا۔ انہوں نے کہا میں ان کے بارہ میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے جو لڑتے رہیں قتل کئے جائیں اور ان کے بچے اور عورتیں قیدی بنائے جائیں اور ان کے اموال تقسیم کئے جائیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ہشام بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے بتایا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے اللہ عزّوجل کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعدؓ نے دعا کی جبکہ ان کا زخم مندمل ہونے کے لئے خشک ہونے کو تھا اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے اس بات سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں کہ میں تیری راہ میں اس قوم سے جنگ کروں جنہوںنے تیرے رسول ﷺ کی تکذیب کی ہے اور آپؐ کو (وطن سے )نکا لا۔ اے اللہ ! اگر قریش سے کوئی لڑائی باقی ہے تو مجھے باقی رکھ ،میں تیرے لئے ان سے جہاد کروں گا اے اللہ! میرا خیال ہے کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی ختم کردی ہے ۔ پس اگر تونے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی کو ختم کردیا ہے تو تُو اس زخم کو کھول دے اور اسی میں مجھے موت دے پھر وہ زخم سینہ کے اوپر کے حصہ سے کھل گیا اور لوگوں کو احساس نہ ہوا۔ اور مسجد میں ان کے ساتھ بنی غفار کاخیمہ تھااور خون ان کی طرف بہہ رہا تھا۔ انہوں نے کہا اے خیمے والو ! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے ہماری طرف آرہا ہے۔ دیکھا کہ سعدؓ کے زخم سے خون بہہ رہا ہے اور وہ اسی سے فوت ہو گئے۔ ایک اور روایت میں یہ ہے کہ فَانْفَجَرَ مِنْ لَیْلَتِہِ فَمَازَالَ حَتَّی مَاتَ اسی رات زخم کھل گیا اور خون بہتا رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے اور اس روایت میں یہ اضافہ ہے شاعر کہتا ہے۔ اے سعد ، بنی معاذ کے سعد، قریظہ اور نضیر نے کیا کیا تھا؟ تیری عمر کی قسم بنی معاذ کاسعدہی (دراصل تکلیف لے جانے والا تھا۔جس دن انہوں نے کوچ کیا اور تم اپنی ہانڈی خالی چھوڑ گئے جس میں کچھ نہیں جبکہ ان لوگوں کی ہنڈیا گرم اور جوش زن ہے۔اور معزز ابو حباب نے کہا اے قینقاع ٹھہرے رہنا اورچل نہ پڑنااور اپنے علاقہ میں مضبوطی سے قائم ہیں جس طرح میطان ٭ کی چٹانیں مضبوطی سے قائم ہیں۔
حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جس دن رسول اللہ ﷺ احزاب سے لوٹے آپؐ نے ہمارے درمیان منادی کروائی کہ تم میں سے ہر ایک بنی قریظہ میں نمازظہر ادا کرے بعض لوگ وقت نکل جانے سے ڈرے اور انہوں نے نماز بنی قریظہ سے ورے پڑھ لی۔ دوسرے لوگوں نے کہا ہم تو وہیں نماز پڑھیں گے جہاں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھنے کا ارشاد فرمایا ہے ۔ اگرچہ وقت نکل جائے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی ناراض نہ ہوئے۔
ابن شہاب حضرت انسؓ بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا جب مہاجر مکہ سے مدینہ آئے، وہ آئے اور وہ خالی ہاتھ تھے اور انصار زمینوں اور جائیداد کے مالک تھے۔ انصار ؓنے ان کے ساتھ اپنے اموال اس طرح تقسیم کئے کہ ہر سال اپنے اموال کی آدھی پیداوار انہیں دیتے اور ان کو کام اور محنت سے مستغنی کرتے اور حضرت انسؓ بن مالک کی والدہ جن کا نام امّ سلیم ؓ تھا اور جو حضرت عبداللہ ؓ بن ابی طلحہ کی (بھی ) والدہ تھیں اور وہ حضرت انسؓ کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔ امّ انسؓ نے رسول اللہ ﷺ کو کھجور کا پھلدار درخت دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ ام ّ ایمن ؓ کو جو آپؐ کی آزاد کردہ اور حضرت اُسامہ بن زید ؓ کی والدہ تھیں عطافرمادیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھے حضرت انس بن مالکؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جب اہل خیبر کی جنگ سے فارغ ہوئے اور مدینہ لوٹے تو مہاجروں ؓ نے انصار ؓ کو ان کے عطایاوہ جو انہوں نے ان کو اپنے پھلوں میں سے دئیے تھے واپس لوٹا دیئے۔ راوی کہتے ہیںرسول اللہ ﷺنے میری والدہ کو ان کے درخت واپس کردئیے اوررسول اللہ ﷺ نے ام ّ ایمنؓ کو اپنے باغ میں سے ان کے بدلہ دے دیا۔ابن شہاب کہتے ہیں ام ّ ایمنؓ حضرت اسامہ بن زیدؓ کی والدہ اور وہ حضرت عبد اللہؓ بن عبد المطلب کی خادمہ تھیں جن کا تعلق حبشہ سے تھا ۔جب حضرت آمنہؓ نے رسول اللہ ﷺ کو آپؐکے والد ؓ کی وفات کے بعد جنم دیا تو ام ایمنؓ آپؐ کی حضانت کرتی تھیں یہانتک کہ رسول اللہ ﷺ بڑے ہوئے تو آپؐ نے انہیں آزاد کردیا۔ پھر ان کا نکاح حضرت زید ؓ بن حارثہ سے کردیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے پانچ ماہ بعد فوت ہوئیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص (ابن شیبہ کی روایت میں رَجلُاً کا لفظ ہے حامد اور ابن عبد الاعلیٰ کی روایت میں اَلرَّجُل کا لفظ ہے ) رسول اللہ ﷺ کو اپنی زمین میں سے درخت دیتا تھا یہانتک کہ قریظہ اور نضیر پر آپؐ کو فتح عطا کردی گئی۔ تو آپؐ نے ہر شخص کو جو کچھ اس نے آپؐ کو دیا تھا واپس کرنا شروع کر دیا ۔حضرت انسؓ کہتے ہیں مجھے میرے گھر والوں نے کہا کہ میں نبی ﷺ کے پاس جاؤں اور جو کچھ ان کے گھر والوں نے آپؐ کو دیا ہے آپؐ سے مانگوں۔ رسول اللہ ﷺ وہ امّ ایمن کو عطا فرما چکے تھے۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ نے وہ مجھے دے دیا پھر ام ّ ایمن ؓ آئیں اور میری گردن میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں اللہ کی قسم !ہم تمہیں وہ نہ دیں گے جو آپؐ نے ہمیں دئیے ہیں۔اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے امّ ایمن اسے چھوڑدو اور تمہارے لئے یہ یہ ہوگا۔ انہوں نے کہا ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپؐ اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپؐ نے اسے دس گنا یا تقریباً دس گنا عطا فرمایا ۔