بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 209 hadith
حضرت ابن ابی او فٰی ر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب سورج غروب ہو گیا آپؐ نے ایک آدمی سے فرمایا اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ شام ہونے دیتے۔ آپؐ نے فرمایا اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ اس نے کہا ابھی دن ہے۔ پھر وہ اترا اور اس نے آپؐ کے لئے ستو گھولے۔ آپؐ نے پیئے، پھر فرمایا جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے آگئی ہے اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا تو روزہ دار نے افطار کر لیا۔ ایک روایت میں ہے عبداللہ بن ابی اوفٰی ر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے اور آپؐ روزے سے تھے۔ جب سورج غروب ہو گیا توآپؐ نے فرمایا اے فلاں ! اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ ایک اور روایت میں ’’ماہِ رمضان‘‘ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی اس بات کا ذکر ہے کہ’’رات یہاں سے آجائے‘‘۔
حضرت ابن عمر ر ضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے وصال (کے روزوں ) سے منع فرمایا۔ لوگوں نے عرض کیا۔ آپؐ وصال(کے روزے) رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
حضرت عائشہ ر ضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ روزہ کی حالت میں اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لے لیتے تھے۔ پھر آپؓ مسکرائیں۔
سفیان کہتے ہیں میں نے عبدالرحمان بن قاسم سے پوچھا کیا تم نے اپنے باپ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت کرتے سناہے کہ نبی
حضرت ابن عمرر ضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے رمضان میں وصال کے روزے رکھے۔ لوگوں نے بھی وصال کے روزے رکھے۔ آپؐ نے انہیں منع فرمایا۔ عرض کیا گیا آپؐ وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں تمہارے جیسا نہیں۔ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں فِیْ رَمَضَانَ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے وصال (کے روزے رکھنے) سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا یارسولؐ اللہ! آپؐ وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایااور تم میں سے کون میرے جیساہے۔ میں رات گزارتا ہوں میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ پھرجب وہ وصال کے روزے رکھنے سے باز نہ آئے تو آپؐ نے ان کے ساتھ ایک دن وصال (کا روزہ) رکھا۔ پھر دوسرے دن بھی پھر انہوں نے نیاچاند دیکھ لیا۔ آپؐ نے فرمایا اگر نیا چاندتاخیرسے نکلتا تو میں تمہارے ساتھ مزید وصال کے روزے رکھتا۔ یہ بات آپؐ نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمائی کیونکہ انہوں نے (وصال کے روزوں ) سے نہ رکنے پر اصرار کیا۔
حضرت ابو ہریرہ ضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا وصال کے روزے رکھنے سے بچو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایاتم لوگ اس (بات) میں میری طرح نہیں ہو۔ میں تو رات گزارتا ہوں جبکہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے پس تم اپنے آپ کو اتنے ہی اعمال کا مکلّف بناؤ جن کی تم طاقت رکھتے ہو۔ ایک روایت میں (فَاکْلَفُوْا مِنَ الْاَعْمَالِ مَا تُطِیْقُوْنَکی بجائے) فَاکْلَفُوْا مَا لَکُمْ بِہِ طَاقَۃٌ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبیﷺ نے وصال (کے روزوں ) سے منع فرمایا۔
حضرت انس ر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ رمضان میں (نفل) نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آکر آپؐ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ ایک اور شخص آیا وہ بھی کھڑا ہو گیا یہاں تک ہم ایک جماعت ہو گئے۔ جب نبیﷺ نے محسوس کیا کہ ہم آپؐ کے پیچھے ہیں تو آپؐ نماز کو مختصر کرنے لگے۔ پھر آپؐ اپنے خیمہ میں چلے گئے اور آپؐ نے ایسی نماز پڑھی جو ہمارے پاس نہیں پڑھی تھی(لمبی اور خشوع وخضوع والی) انسؓ کہتے ہیں جب ہم نے صبح کی تو آپؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ آج رات آپؐ کو ہمارے بارہ میں پتہ چل گیا تھا؟آپؐ نے فرمایا ہاں، اسی چیز نے مجھے اس پر آمادہ کیا جو میں نے کیا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ نے وصال کے روزے رکھنے شروع کئے اور یہ مہینہ کا آخر تھا۔ آپؐ کے صحابہؓ میں بھی بعض وصال کے روزے رکھنے لگے تو نبیﷺ نے فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ تم میری طرح نہیں ہو۔ سنو !بخدا اگر میرے لئے مہینہ لمبا ہو جاتااور میں اس طرح مسلسل روزے رکھتا توشدت اختیار کرنے والے اپنی شدت چھوڑ جاتے۔
حضرت انس ر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے ماہِ رمضان کے ابتدا میں وصال کے روزے رکھے تو مسلمانوں میں سے بھی بعض لوگوں نے وصال کے روزے رکھے۔ آپؐ کو یہ بات پہنچی تو آپؐ نے فرمایا اگرہمارے لئے مہینہ لمبا کر دیا جاتا تو ہم ضرور وصال کے روزے رکھتے چلے جاتے تو شدت کرنے والے اپنی شدت چھوڑ دیتے۔ تم میری طرح نہیں ہو یا فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رہتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔
ضرت عائشہ ر ضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے لوگوں پر رحم فرماتے ہوئے انہیں وصال کے روزے رکھنے سے منع فرمایا۔ لوگوں نے کہا آپؐ وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔