بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اسلم اور غِفار اور مزینہ اور وہ جو جہینہ سے ہیں یا(کہا) جہینہ، بنی تمیم اور بنی عامر اور دونوں حلیفوں اسد اور غطفان سے بہتر ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ طفیل اور اس کے ساتھی آئے اور عرض کیایا رسولؐ اللہ!دَوس (قبیلہ) نے کفر کیا ہے اور انکار کیا ہے۔ آپؐ اس کے خلاف دعا کریں۔ تو کہا گیا دَوس ہلاک ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا اے اللہ! دَوس کو ہدایت دے اور ان کو لے آ۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے غِفار اور اسلم اور مزینہ جس کا جہینہ سے تعلق ہے یا فرمایا جہینہ جس کا مزینہ سے تعلق ہے قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اسد، طے اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلم اور غِفار اور مزینہ میں سے کچھ یافرمایا جہینہ اور مزینہ میں سے کچھ اللہ کے نزدیک زیادہ بہتر ہیں۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے_آپؐ نے فرمایا قیامت کے دن _اسد غطفان، ہوازن اور تمیم سے۔
عبد الرحمان بن ابی بکرۃ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اقرع بن حابسؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اسلم غِفار اور مزینہ میں سے حاجیوں کا مال چوری کرنے والوں نے آپؐ کی بیعت کرلی ہے اور میرا خیال ہے کہ جہینہ کے بارہ میں محمد(راوی) نے شک کا اظہار کیا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر غِفار اور مزینہ _ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے جہینہ_ بہتر ہیں بنی تمیم اور بنی عامر اور اسد اور غطفان سے تو کیا یہ ناکام ہو گئے اور گھاٹے میں پڑ گئے تواس (اقرع بن حابس) نے کہا ہاں۔ آپؐ نے فرمایا مجھے اس کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ ان سے بہت بہتر ہیں۔ ایک اور روایت میں (أَحْسِبُ جُھَیْنَۃُ کی بجائے) جُھَیْنَۃُکے الفاظ ہیں اور أَحْسِبُ کے الفاظ نہیں ہیں اور ایک روایت میں مُحَمَّدُالَّذِیْ شَکَّ کا ذکر نہیں۔
حضرت عبد الرحمان بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلم اور غِفار اور مزینہ اور جہینہ بہتر ہیں بنی تمیم اور بنی عامر اور دو حلیفوں بنی اسد اور غطفان سے۔
حضرت عبد الرحمان بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تمہاراکیا خیال ہے کہ جہینہ اور اسلم اور غِفاربہتر ہیں، بنی تمیم اور بنی عبداللہ بن غطفان اور عامر بن صعصعہ سے۔ یہ فرماتے ہوئے آپؐ نے اپنی آواز بلند فرمائی۔ اس پر انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! پھر تو وہ یقینا خائب وخاسر ہوگئے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا وہ بہتر ہیں۔ ایک اور روایت میں مزینہ کا بھی ذکر ہے۔
حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطابؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے کہا سب سے پہلا صدقہ جس نے رسول اللہﷺ کے چہرہ کو اور آپؐ کے اصحابؓ کے چہروں کو روشن کردیا، طے (قبیلہ)کا صدقہ ہے جو تم نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ تین باتوں کی وجہ سے جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی میں ہمیشہ بنی تمیم سے محبت کرتا رہوں گا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ (بنی تمیم) میری امت میں سے دجال پر سب سے زیادہ سخت ہیں۔ وہ (حضرت ابو ہریرہؓ ) بیان کرتے ہیں کہ ان کے صدقات آئے تو نبیﷺ نے فرمایا یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک قیدی عورت حضرت عائشہؓ کے پاس تھی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا(اے عائشہؓ !)اسے آزاد کر دو کہ یہ اسماعیلؑ کی اولاد ہے۔ ایک روایت میں (مِنْ ثَلَاثٍ کی بجائے)بَعْدَ ثَلَاثٍ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں ہے حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ تین خصائل جو میں نے رسول اللہﷺ سے سُنا کہ بنی تمیم میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد میں ان سے ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ بھی ہے کہ آپؐ نے فرمایاکہ وہ جنگوں میں سب سے زیادہ مضبوطی سے لڑنے والے ہیں اور دجال کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں کومعدنیات٭ کے طور پر پاؤ گے۔ ان میں جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں اگر وہ (دین کی) سمجھ رکھیں اور اس معاملہ (یعنی امارت یا عہدہ) میں سب سے بہتروہ لوگ ہیں جو اس میں پڑنے کو سب سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔ اور تم لوگوں میں سے بدترین دو چہروں والے کو پاؤ گے جواِن کے پاس ایک چہرہ سے آتا ہے اور اُن کے پاس دوسرے چہرہ سے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں ’’تَجِدُوْنَ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ فِیْ ہٰذَا الشَأْنِ أَشَدَّھُمْ لَہُ کَرَاھِیَۃً حَتَّی یَقَعَ فِیْہِ‘‘