بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 160 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ سب لوگوں میں سب سے زیادہ میرے حسنِ معاشرت کا حقدار کون ہے؟آپؐ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے عرض کیا کہ پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پھر عرض کیا کہ پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے کہا پھر کون؟ آپؐ نے فرمایاتیرا باپ۔ایک اور روایت میں ’’اَلنَّاسَ‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے پیاروں سے حسن سلوک کرے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے حسنِ سلوک کا حقدار کون ہے؟آپؐ نے فر مایا تیری ماں پھر تیری ماں، پھر تیری ماں پھر تیرا باپ پھر جو تیرے قریب ترہے۔ جو تیرے قریب تر ہے۔ ایک روایت ’’جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّﷺ‘‘ سے شروع ہوتی ہے اور اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ (راوی نے کہا) ’’نَعَمْ وَاَبیکَ لَتُنَبّاَنَّ‘‘۔ایک روایت میں (مَنْ أَحَقُُّّ ُّ کی بجائے) مَنْ أَبَرُُّّ ُّ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں (مَنْ أَحَقُّ النَّاسِکی بجائے) أَیُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّیْ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آپؐ سے جہاد میں (شمولیت کی) اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا تو حضورؐ نے فرمایا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا پھر اُن دونوں (کی خدمت) کرنے کا جہاد کرو۔
حضرت عبد اللہ بن عمربن العاصؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کیا کہ میں ہجرت اور جہاد پر آپؐ کی بیعت کرتا ہوں اس کا اجر اللہ سے چاہتے ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے عرض کیا جی ہاں بلکہ دونوں آپؐ نے فرمایاتم اللہ سے اجر چاہتے ہو؟اس نے عرض کیا جی ہاں آپؐ نے فرمایا اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ اور ان دونوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کرو۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں جریج راہب خانہ میں عبادت کررہا تھا کہ اس کی ماں آئی۔ حُمید کہتے ہیں کہ ابو رافع نے ہم سے حضرت ابو ہریرہؓ کی وہ کیفیّت بیان کی جو رسول اللہﷺ نے اس (جریج) کی ماں کی بیان کی تھی۔ جب اس نے اسے (جریج کو) پکارا کہ کس طرح اس نے اپنی ہتھیلی کو اپنے ابرو کے اوپر رکھا تھا۔ پھر اس نے اسے(جریج کو) بلاتے ہوئے اپنا سر اس کی طرف اُٹھایا اور کہا اے جُریج میں تیری ماں ہوں مجھ سے بات کر لیکن اس نے اسے نماز پڑھتے پایا اور اس نے کہا اے اللہ (ایک طرف) میری ماں ہے (دوسری طرف) میری نماز۔ اس نے اپنی نماز کو ترجیح دی۔ اس پر (اس کی ماں ) لوٹ گئی پھر دوبارہ واپس آئی اور کہا اے جریج تیری ماں ہوں مجھ سے بات کر اس نے کہا اے اللہ (ایک طرف) میری ماں ہے (دوسری طرف) میری نماز۔ اس نے پھر اپنی نماز کو ترجیح دی۔ تب اس(کی ماں ) نے کہا اے اللہ! یہ جریج ہے اور یہ میرا بیٹا ہے میں نے اس سے بات کرنی چاہی لیکن اس نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کردیا۔ اے اللہ اس کو نہ مارنا جب تک کہ تو اسے بدکار عورتیں نہ دکھادے۔ راوی کہتے ہیں اگر وہ اس کے لئے بد دعا کرتی کہ وہ کسی فتنہ میں ڈالا جائے تو وہ ضرور ڈالا جاتا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک بھیڑوں کا چرواہا تھا جو اس (جریج) کے راہب خانہ میں آکر ٹھہرا کرتا تھا بیان کرتے ہیں کہ بستی سے ایک عورت ادھر آنکلی تو چرواہا اس پر جا پڑا جس کے نتیجہ میں وہ حاملہ ہوگئی اور ایک لڑکے کو جنم دیا اس سے کہا گیا کہ یہ کیا ہے؟ اس (عورت) نے کہا اس راہب خانے والے کا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں پھر وہ اپنی کلہاڑیاں اور کسیاں لے آئے اور اسے آواز دی اور اُسے (جریج کو)انہوں نے نماز پڑھتے ہوئے پایا اس لئے اس نے ان سے کوئی بات نہ کی وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ (لوگ) جریج کے راہب خانہ کو گرانے لگے جب اس نے یہ دیکھا تو وہ ان کے پاس نیچے آیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ اس (عورت) سے پوچھو۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اس پر وہ مسکرایااور بچہ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس سے پوچھا تمہارا باپ کون ہے؟ اس (بچہ) نے کہا میرا باپ بھیڑوں کا چرواہا ہے۔ جب انہوں نے اس سے یہ سنا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تیرے راہب خانہ کا جو حصہ گرایا ہے۔ ہم اسے سونے چاندی کا بنائے دیتے ہیں۔ اُس نے کہا نہیں بلکہ پہلے کی طرح مٹی کا بنادو پھر وہ اس راہب خانہ کے اوپر چلا گیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ پنگھوڑے میں صرف تین نے کلام کیا حضرت عیسیٰ ابن مریمؑ نے اور جریج والے نے اور جریج عبادت کرنے والا آدمی تھا اور وہ ایک راہب خانہ میں رہتا تھا وہ اس میں تھا کہ اس کی ما ں اس کے پاس آئی جبکہ وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اور اس نے کہا اے جریج ! تب اس نے کہا اے میرے رب (ایک طرف)میری ماں ہے (تو دوسری طرف) میری نماز۔ پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا۔ وہ چلی گئی جب اگلا روز آیا وہ اس کے پاس آئی جبکہ وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اور اس نے کہا اے جریج! اس پر اس نے کہا اے میرے رب (ایک طرف) میری ماں ہے (تو ایک طرف) میری نماز۔ وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا۔ اس پر وہ چلی گئی پھر جب اگلا روز ہوا تو وہ اس کے پاس آئی جبکہ وہ نماز پڑھ رہا تھا اس نے کہا اے جریج ! اس پر اس نے کہا اے میرے رب (ایک طرف) میری ماں ہے (تو دوسری طرف) میری نماز۔ اور وہ اپنی نماز کی طرف ہی متوجہ رہا۔ اس پر (اس کی ماں ) نے کہا اے اللہ اس کو موت نہ دینا یہانتک کہ یہ بدکار عورتوں کے منہ نہ دیکھ لے۔ پھر بنی اسرائیل جریج اور اس کی عبادت کا تذکرہ کرنے لگے۔ اور ایک بدکار عورت تھی جس کی خوبصورتی کی مثال دی جاتی تھی اس نے کہا کہ اگر تم لوگ چاہو تو میں ضرور تمہارے لئے اسے آزمائش میں ڈال دوں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر اس نے جریج کو اپنا آپ پیش کیا۔ لیکن اس نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ پھر وہ ایک چرواہے کے پاس آئی جو اس کے راہب خانہ میں ٹھہرا کرتا تھا۔ اس عورت نے اسے اپنے پر اختیار دیا۔ اس چرواہے نے اس سے صحبت کی اور وہ حاملہ ہوگئی۔ جب اس نے بچہ کو جنم دیا تو کہنے لگی کہ یہ جریج کا بچہ ہے۔ اس پر لوگ اس کے پاس آئے اور اسے نیچے آنے کے لئے کہا اور اس کے راہب خانہ کو منہدم کردیا اور اسے مارنے لگے اس نے کہا کہ تمہیں ہوا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ تم نے اس بدکار سے بدکاری کی ہے۔ چنانچہ اس نے تجھ سے ایک بچہ کو جنم دیا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟وہ اسے لے آئے اس نے کہا کہ مجھے ذرا نماز پڑھ لینے دو اس نے نما ز پڑھی۔ جب وہ فارغ ہوا تو بچہ کے پاس آیا اور اس کے پیٹ میں انگلی چبھوئی اور کہا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا کہ فلاں چرواہا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ (لوگ) جریج کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے چومنے اور اس سے برکت حاصل کرنے لگے اور کہا کہ ہم تیرے لئے سونے کا راہب خانہ بنائے دیتے ہیں۔ اُس نے کہا نہیں، اسے اسی طرح مٹی کا بنادو جیسے پہلے تھا چنانچہ انہوں نے بنا دیا۔اس دوران میں کہ ایک بچہ اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا کہ ایک عمدہ خوبصورت جانور پر ایک آدمی گزرا تو اس کی ماں نے کہا کہ اللہ میرے بچہ کو اس جیسا بنادے۔ اس پر اس (بچہ)نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس(شخص) کی طرف متوجہ ہوا اور اس کی طرف دیکھ کر کہا۔ اے اللہ مجھے اس جیسا نہ بنانا۔ پھر وہ دودھ پینے لگا۔ راوی کہتے ہیں کہ گو یا میں رسول اللہﷺ کو اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈالے اس کے دودھ پینے کی کیفیت کو بیان کرتے دیکھ رہا ہوں۔ آپؐ اسے چوسنے لگے وہ کہتے ہیں پھر کچھ لوگ ایک لونڈی کو لئے گذرے وہ اسے مار رہے تھے اور کہتے تھے کہ تونے زنا کیا اور تونے چوری کی ہے اور وہ کہتی اللہ میرے لئے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے تب اس کی ماں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا اس پر اس(بچہ) نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس (عورت) کی طرف دیکھا اور کہا اے اللہ مجھے اس جیسا بنادے۔ چنانچہ اس وقت دونوں (ماں بیٹے) میں اس بات پر تکرار ہوئی۔ اس (عورت) نے کہا تیرا بھلا ہو کہ ایک خوبصورت شکل وصورت کا آدمی گذرا تو میں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس جیسابنادے تب تو نے کہا اے اللہ مجھے ایسا مت بنانا۔ پھر لوگ اس لونڈی کو لئے گذرے اور وہ اسے مار رہے تھے اور کہتے تھے کہ تونے زنا کیا اور تونے چوری کی ہے تو میں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس (عورت) جیسا مت بنانا اس پر تو نے کہا کہ اے اللہ مجھے اس جیسا بنادے۔ اس بچہ نے کہا کہ وہ شخص بہت ظالم تھا۔ تو میں نے کہا کہ اے اللہ مجھے اس جیسا نہ بنا نا اور یہ عورت جس کے بارہ میں کہتے تھے کہ تونے زنا کیا اور تونے چوری کی ہے جبکہ نہ اس نے زنا کیا اور نہ اس نے چوری کی تھی تب میں نے کہا اے اللہ مجھے اس (عورت) جیسا بنادے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاناک خاک آلود ہوئی پھر ناک خاک آلود ہوئی، پھرناک خاک آلود ہوئی۔ عرض کیا گیا کس کی یا رسولؐ اللہ؟ فرمایا جس نے اپنے والدین میں سے ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا پھر جنت میں داخل نہ ہوا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے تین مرتبہ رَغِمَ اَنْفُہُ فرمایا۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔
عبداللہ بن دینار حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ ایک بادیہ نشین آدمی انہیں مکہ کے رستہ میں انہیں ملا تو حضرت عبد اللہؓ نے اسے سلام کہا اور اسے اس گدھے پر سوار کرلیا جس پر وہ خود سوار ہوا کرتے تھے اور اسے وہ عمامہ بھی دیا جو ان کے سر پر تھا۔ ابن دینا ر کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے کہا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے، یہ بادیہ نشین لوگ ہیں اور تھوڑے پر بھی راضی ہوجا تے ہیں۔ اس پر حضرت عبد اللہؓ نے کہا کہ اس کا باپ، حضرت عمر بن خطابؓ کو پیارا تھا اور میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یقینا بیٹے کا اپنے باپ کے پیاروں سے حسن سلوک کرناسب سے بڑی نیکی ہے۔