حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مسلمانوں کی ایک بڑی مجلس میں تھے اور آپؐ نے فرمایا کیا میں تمہیں انصارؓ کے گھروں میں سے بہترین کے بارہ میں بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسولؐ اللہ! رسول اللہﷺ نے فرمایا بنو عبد الاشہل۔ انہوں نے عرض کیا پھر کون یا رسولؐ اللہ؟ آپؐ نے فرمایا پھر بنو نجار۔ انہوں نے عرض کیا پھر کون یا رسولؐ اللہ؟آپؐ نے فرمایا پھر بنو الحارث بن الخزرج۔ انہوں نے عرض کیا پھر کون یا رسولؐ اللہ؟ آپؐ نے فرمایا پھر بنو ساعدہ انہوں نے عرض کیا پھر کون یا رسول اللہ؟ آپؐ نے فرمایا پھر انصارؓ کے سب گھر وں میں بھلائی ہے۔ اس پر حضرت سعد بن عبادہؓ غصہ میں کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ ہم چاروں کے آخر میں ہیں جب رسول اللہﷺ نے ان کے گھر کا نام لیا۔ حضرت سعدؓ نے رسول اللہﷺ سے بات کرنے کا ارادہ کیا اس پر ان کی قوم کے آدمیوں نے کہا کہ بیٹھ جاؤ کیا تم اس پر راضی نہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان چار گھروں میں تمہارے گھر کا نام بھی لیا جن کا آپؐ نے ذکر فرمایا ہے۔ تو جن کو آپؐ نے چھوڑ دیا اور نام نہیں لیا وہ ان سے زیادہ ہیں جن کا آپؐ نے نام لیا ہے۔ اس پر حضرت سعدؓ بن عبادہ رسول اللہﷺ سے بات کرنے سے رک گئے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا اسلم! اللہ ان کو سلامتی عطا فرمائے اور غِفار! اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ اللہ عزّ وجل نے فرمایا ہے۔
مُغْضَبًا فَقَالَ أَنَحْنُ آخِرُ الأَرْبَعِ حِينَ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَارَهُمْ فَأَرَادَ كَلاَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ اجْلِسْ أَلاَ تَرْضَى أَنْ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَارَكُمْ فِي الأَرْبَعِ الدُّورِ الَّتِي سَمَّى فَمَنْ تَرَكَ فَلَمْ يُسَمِّ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَمَّى . فَانْتَهَى
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت جریرؓ بن عبد اللہ البَجَلِیّ کے ساتھ ایک سفر میں گیا۔ وہ میری خدمت کرتے تھے میں نے ان سے کہا کہ ایسا نہ کیجئے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے انصارؓ کو رسول اللہﷺ کی ایسی خدمت کرتے دیکھا کہ میں نے قسم کھائی کہ جب بھی میں اُن میں سے کسی کے ساتھ ہوں گا تو اس کی خدمت کروں گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جریرؓ حضرت انسؓ سے بڑے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت جریرؓ حضرت انسؓ سے عمرمیں زیادہ تھے۔
حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا کہ اپنی قوم کے پاس جاؤ اور کہو کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ اسلم !اللہ ان کوسلامتی عطا فرمائے اور غِفار ! اللہ ان کو بخش دے۔
خفاف بن اِیماء غِفاریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک نماز میں کہا اے اللہ! بنی لحیان، رعل، ذکوان اور عُصَیّہ پر لعنت کر۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کی اور غِفار کی مغفرت فرما اور اسلم کو سلامتی عطا فرما۔
قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . مِثْلَ حَدِيثِ هَؤُلاَءِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرما یا غِفار ! اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور اسلم! اللہ انہیں سلامتی عطا فرمائے۔ اور عُصَیّہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے یہ بات منبر پر فرمائی۔
نے فرمایا انصار اور مزینہ اور جہینہ اور غِفار اور اشجع اور وہ جوبنی عبد اللہ میں سے ہیں، دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں میرے مددگار ہیں اور اللہ اور اس کا رسولؐ ان کا مولیٰ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ر سول اللہﷺ نے فرمایا کہ قریش اور انصار اور مزینہ اور اسلم اور غِفار اور اشجع میرے مددگار ہیں اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے سوا ان کا کوئی مولیٰ نہیں۔