بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے سب سے بہتر وہ ہیں جو میری صدی کے ہیں پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں، پھر وہ لوگ آئیں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے پہلے ہو گی اور قسم گواہی سے پہلے۔ایک اور روایت میں القَرْن کے الفاظ نہیں ہیں اور ایک روایت میں (یَجِیئُ قَوْمٌ کی بجائے) یَجِیئُ اَقْوَامٌ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے سوال کیا گیا کون سے لوگ بہترین ہیں؟آپؐ نے فرمایا میری صدی (کے لوگ) پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور اُن کی قسم اُن کی گواہی سے آگے نکل رہی ہوگی۔ راوی ابراہیم کہتے ہیں جب ہم لڑکے تھے تو وہ ہمیں عہد اور گواہیوں سے ر وکا کرتے تھے۔ ایک روایت میں سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سے بہترین میرے زمانہ کے(لوگ) ہیں؟ پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں۔ پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا رسول اللہﷺ نے تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آئیں گے جن کی گواہی ان کی قسم پر سبقت لے جائے گی اور ان کی قسم ان کی گواہی پر سبقت لے جائے گی۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت کے بہترین لوگ اس صدی کے ہیں جن میں مجھے بھیجا گیا پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں۔ (راوی کہتے ہیں ) اللہ بہتر جانتا ہے کہ آپؐ نے تیسری مرتبہ بھی یہ فرمایا، یانہیں۔ پھر (ان کے بعد) ایسے لوگ آئیں گے جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور قبل اس کے کہ ان سے گواہی طلب کی جائے وہ گواہی دیں گے۔ ایک اور روایت میں (أَذَکَرَ الثَّالِثَ اَمْ لَا کی بجائے) فَلَا اَدْرِیْ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً کے الفاظ ہیں۔
حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے بہترین میری صدی کے لوگ ہیں پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں۔ پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔ حضرت عمرانؓ کہتے ہیں میں نہیں جانتا آیا رسول اللہﷺ نے یہ اپنی صدی کے بعد دو مرتبہ فرمایا یا تین دفعہ پھرفرمایا ان کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی اور وہ خیانت کریں گے اور انہیں امین نہ سمجھا جائے گااور وہ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے اور ان میں فربہی آجائے گی۔ ایک اور روایت میں (راوی نے) کہا میں نہیں جانتا کہ (آپﷺ نے) اپنی صدی کے بعد دو صدیوں کا ذکر کیا یا تین کا۔اور ایک روایت میں (یَنْذِرُوْنَ وَلَایُوْفُوْنَ کی بجائے) یَنْذُرُوْنَ وَلَا یَفُوْنََکے الفاظ ہیں۔ اور ایک روایت میں (اِنَّ خَیْرَکُمْ قَرْنِیْ کی بجائے) خَیْرُہٰذِہِ الْاُمَّۃِ الْقَرْنُ الَّذِیْنَ بُعِثْتُ فِیْہمِْ ہے اور اس روایت میں یہ اضافہ ہے وَاللّٰہُ اَعْلَمُ أَذَکَرَ الثَّالِثَ اَمْ لَا۔ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے وَ یَحْلِفُوْنَ وَلَا یُسْتَحْلَفُوْنَکہ وہ قسم کھائیں گے جبکہ ان سے قسم لی نہیں جائے گی۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبیﷺ سے سوال کیا کہ لوگوں میں سے بہترین کون ہے؟آپؐ نے فرمایا اس صدی کے لوگ جس میں مَیں ہوں پھر دوسری پھر تیسری۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہﷺ نے ہمیں اپنی زندگی کے آخری حصہ میں عشاء کی نماز پڑھائی جب آپؐ نے سلام پھیرا توآپؐ کھڑے ہوگئے اور فرمایا تم اپنی اس رات کو دیکھتے ہو؟آج جو زمین کی سطح پر موجود ہے اس رات سے لے کرصدی کے سر پر ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہے گا۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ لوگوں کو رسول اللہﷺ کی بات سے غلطی لگی جو وہ سو سال والی احادیث کے بارہ میں باتیں کرتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے تو محض یہ فرمایا تھا جو آج کی زمین کی پشت پر ہے، اس میں سے کوئی باقی نہ رہے گا اس سے آپؐ کی مراد تھی کہ یہ صدی ختم ہوجائے گی (یعنی اس کے لوگ۔)
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے فرماتے ہوئے سنا کہ تم مجھ سے ’’اَلسَّاعَۃ‘‘ کے بارہ میں پوچھتے ہوجبکہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں زمین پر کوئی جان ایسی نہیں جس پر سو سال گذریں۔ ایک اور روایت میں قَبْلَ مَوْتِہِ بِشَھْرٍ (یعنی اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے) کے الفاظ نہیں۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل یا اس کے قریب قریب فرمایاآج کوئی جان ایسی نہیں جس پر سو سال گزریں اور وہ زندہ ہو۔ راوی عبد الرحمان جو پانی پلانے والے تھے اس کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد عمر کا کم ہونا ہے۔
حضرت ابو سعیدؓ بیان کرتے ہیں کہ جب نبیﷺ تبوک سے واپس لوٹے تو لوگوں نے آپؐ سے ’’اَلسَّاعَۃ‘‘ کے بارہ میں پوچھا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آج زمین پر سانس لینے والے وجود پر سو سال نہیں آئیں گے۔