بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 112 hadith
ابو حازم کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو ہریرہؓ کے پیچھے (کھڑا) تھا جبکہ وہ نماز کے لئے وضوء کر رہے تھے وہ اپنا ہاتھ بغل تک لے جاتے تھے۔ میں نے ان سے کہا اے ابوہریرہؓ ! یہ کیسا وضوء ہے؟ انہوں نے کہا اے بنی فروخ! تم یہاں ہو، اگر مجھے علم ہوتا کہ تم یہاں ہو تو میں اس طرح وضوء نہ کرتا میں نے اپنے دوستﷺ کوفرماتے ہوئے سناہے کہ مومن کا نور٭ وہاں تک پہنچے گا جہاں تک (اس کے) وضوء کا پانی پہنچے گا۔
مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ جب گھر تشریف لاتے تو کس چیز سے آغاز فرماتے؟ انہوں نے کہا مسواک سے۔
مقدام بن شریح اپنے والد سے او ر وہ حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ جب اپنے گھرتشریف لاتے تومسواک سے آغاز فرماتے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو (دیکھا کہ) مسواک کا ایک سرا آپؐ کی زبان پر ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ گناہ مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ !آپؐ نے فرمایا تمام قسم کی ناپسندیدگیوں کے باوجود پورا وضوء کرنا اور مساجد کی طرف زیادہ قدم اٹھا نا اور نماز کے بعدنماز کا انتظار کرنا۔ پس یہی رباط ہے۔ شعبہ کی روایت میں رباط کا ذکر نہیں۔ مالک کی روایت میں دو دفعہ ہے یہی رباط ہے یہی رباط ہے ٭۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا اگرمیں مؤمنوں پر مشقّت نہ ڈال دیتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت ضرور مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ زہیر کی روایت میں مومنین کی بجائے امتی (میری امت) کے الفاظ ہیں۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب تہجد کے لئے اُٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے۔ حضرت حذیفہؓ سے اس جیسی ایک روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب رات کو اُٹھتے۔ مگر راویوں نے اس میں لِیَتَہَجَّدَ کالفظ ذکر نہیں کیا۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب رات کو اُٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے۔
ابو المتوکل سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک رات نبیﷺ کے پاس گذاری۔ رات کے آخری حصہ میں اللہ کے نبیﷺ کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر آلِ عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی {اِنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلََافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ}یہاں تک کہ آپؐ فَقِنَا عَذَابِ النَّارِ (کے الفاظ)تک پہنچ گئے۔ (ترجمہ)یقینا آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بدلنے میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے رہتے ہیں۔ (اور بے ساختہ کہتے ہیں ) اے ہمارے رب! تُو نے ہرگز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ پاک ہے تُو۔ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ (آل عمران: 191-192)پھر آپؐ کمرہ میں پہنچے، مسواک کی اور وضوء کیا پھر کھڑے ہوئے نماز پڑھی پھر لیٹ گئے پھر اُٹھے، باہر تشریف لائے اور آسمان کی طرف دیکھا اور یہ آیت تلاوت کی، پھر واپس تشریف لائے، مسواک کی اور وضوء کیا پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا پانچ باتیں فطرت ہیں یا پانچ باتیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ، استرہ لینا، ناخن تراشنا، بغل صاف کرنا اور مونچھیں تراشنا۔