بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 112 hadith
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک باغ کے احاطہ میں داخل ہوئے۔ آپؐ کے پیچھے ایک لڑکا جو ہم میں سے کمسن تھاگیا۔ اس کے پاس ایک پانی کابرتن تھا۔ اس نے وہ ایک بیری کے پاس رکھ دیا۔ جب رسول اللہﷺ قضائِ حاجت سے فارغ ہوئے پانی سے استنجاء کیااور ہمارے پاس تشریف لائے۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے ساتھ تھا۔ آپؐ ایک قوم کی روڑی پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ میں ایک طرف ہٹ گیا۔ آپؐ نے فرمایا قریب آؤ، میں آپؐ کے قریب آیا یہانتک کہ آپؐ کے پیچھے آکھڑا ہوا۔ پھر آپؐ نے وضوء کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا۔ آپؐ (سواری سے) اُترے اور قضائِ حاجت سے فارغ ہوئے پھر تشریف لائے تو میں نے چھاگل سے جو میرے پاس تھی پانی انڈیلا۔ آپؐ نے وضوء کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ بیت الخلاء میں قضائِ حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو میں اور میرے ساتھ کاایک لڑکا پانی کی چھاگل اور برچھی اٹھائے ہوتے اور آپؐ پانی سے استنجاء کرتے تھے۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ قضائِ حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو میں آپؐ کے لئے پانی لے کر جاتا۔ پھر آپؐ اس سے طہارت فرماتے۔
ہمام سے روایت ہے کہ حضرت جریرؓ نے پیشاب کرنے کے بعد وضوء کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ کہا گیا آپؓ ایسا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا۔ آپؐ نے پیشاب کرنے کے بعد وضوء کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ اعمش کہتے ہیں کہ ابراہیم نے کہا کہ لوگوں کو یہ روایت پسندآتی تھی کیونکہ حضرت جریرؓ کا اسلام (سورۃ) المائدۃ اُترنے کے بعد کا ہے٭۔
(تشریح)ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ پیشاب کے معاملہ میں بہت متشدّدتھے اور ایک بوتل میں پیشاب کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب بنی اسرائیل میں سے کسی کی جلد پر پیشاب لگ جاتا تو وہ قینچیوں سے اسے کاٹ دیتے۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا میں چاہتا ہوں کہ تمہاراصاحب اسقدر شدّت نہ کرے۔ میں نے خود کو دیکھا کہ ایک دفعہ میں اور رسول اللہﷺ جارہے تھے کہ آپؐ ایک باغ کی دیوار کے پیچھے ایک روڑی کے پاس تشریف لائے اور یوں کھڑے ہوئے جس طرح تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے، پھر پیشاب کیا۔ میں آپؐ سے پیچھے ہٹ گیا۔ پھر آپؐ نے مجھے اشارہ فرمایا تو میں آیا اور آپؐ کے پیچھے کھڑا ہو گیا یہانتک کہ آپؐ فارغ ہوگئے۔
(تشریح)حضرت مغیرہ بن شعبہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ قضائِ حاجت کے لئے نکلے تو مغیرہ پانی کا برتن لے کر آپؐ کے پیچھے چلے۔ پس جب آپؐ حاجت سے فارغ ہوئے تو انہوں نے (وضوء کیلئے) آپؐ کے لئے پانی انڈیلا۔ آپؐ نے وضوء کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ ابن رُمح کی روایت میں حِیْنَ کی جگہ حَتّٰی کا لفظ ہے۔ عبد الوہاب بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحیٰ بن سعید سے اسی اسناد سے سنا ہے انہوں نے کہا کہ آپؐ نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا پھر موزوں پر مسح کیا۔
(تشریح)حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبیﷺ کے ساتھ تھا۔ آپؐ نے فرمایا اے مغیرہ! چھاگل لے لو۔ میں نے وہ لے لی۔ پھر میں آپؐ کے ساتھ ہولیا۔ رسول اللہﷺ چلے یہانتک کہ مجھ سے اوجھل ہوگئے۔ آپؐ قضائِ حاجت سے فارغ ہوئے۔ آپؐ تشریف لائے۔ آپؐ پر تنگ آستینوں والا شامی جبہّ تھا۔ آپؐ اس کی آستینوں سے اپنا ہاتھ باہر نکالنے لگے مگر وہ کچھ تنگ تھا۔ پس آپؐ نے اس کے نیچے سے اپناہاتھ نکالا پھر میں نے آپؐ پر پانی انڈیلا اور آپؐ نے نماز کے لئے وضوء کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا پھر نماز ادا فرمائی۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ قضائَِ حاجت کے لئے باہرتشریف لے گئے۔ جب آپؐ واپس تشریف لائے تو میں آپؐ کے لئے چھاگل لے کرآپؐ سے ملا اور آپؐ کے لئے پانی انڈیلا۔ آپؐ نے اپنے ہاتھ دھوئے۔ پھر اپناچہرہ دھویا پھر اپنے بازو دھونے لگے تو جّبہ تنگ تھا۔ چنانچہ آپؐ نے جبہّ کے نیچے سے دونوں ہاتھ نکالے اور انہیں دھویا اور اپنے سر کا مسح کیااور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔