بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 112 hadith
حضرت ابو ایوبؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایاجب تم قضائِ حاجت کے لئے جاؤ تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کیا کرو نہ اس کی طرف پشت کیا کرو بلکہ شرقاًغرباً بیٹھا کرو٭۔ حضرت ابو ایوبؓ کہتے ہیں پھر جب ہم شام آئے تو وہاں بیوت الخلاء کو قبلہ رخ بنے ہوئے پایا۔ پس ہم ان سے انحراف کرتے اور اللہ سے بخشش طلب کرتے۔ یحیٰ بن یحیٰ نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا آپ نے یہ بات زہری سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی بہن حفصہؓ کے گھر(کی چھت) پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ
حضرت عبداللہ بن ابو قتادہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بیت الخلا جائے تو اپنی شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا اور اس سے کہ کوئی اپنی شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے چھوئے اور اپنے دائیں ہاتھ سے طہارت کرے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب وضوء اور غسل فرماتے تو وضوء اور غسل میں اور اپنی کنگھی کرنے میں جب کنگھی کرتے اور اپنا جوتا پہننے میں جب جوتا پہنتے دائیں طرف سے (شروع کرنا) پسند فرماتے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ اپنے ہر کام میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے جوتے پہنتے وقت، کنگھی کرتے وقت، اور وضوء و غسل کرتے وقت۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی حاجت کے لئے بیٹھے تو نہ قبلہ کی طرف رخ کیا کرے نہ اس کی طرف پشت کرے۔
واسع بن حبان کہتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ قبلہ کی طرف دیوار کے ساتھ پشت لگائے بیٹھے تھے۔ جب میں نے اپنی نماز پڑھ لی، میں نے ان کی طرف اپنا پہلوپھیرا حضرت عبد اللہؓ نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ جب تم اپنی حاجت کے لئے بیٹھو تو اپنا منہ قبلہ یا بیت المقدس کی طرف کرکے نہ بیٹھو۔ حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپؐ حاجت کے لئے دو اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے بیٹھے ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دو لعنت کرنے والوں (کی لعنت کا باعث بننے والے کام) سے بچو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ!وہ دو لعنت کرنے والے کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا(اس شخص پر لعنت کرنے والے) جولوگوں کے رستہ میں یا ان کے سایہ کی جگہ میں قضائے حاجت کرتا ہے۔