بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
حضرت عبد اللہ بن عمر وبن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کامیاب ہوگیا وہ شخص جو اسلام لایا اور اسے ضرورت کے مطابق رزق دیا گیا اور جو اللہ نے اسے عطا کیا اس پر اسے قناعت عطا کی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے(اللہ تعالیٰ کے حضور) عرض کی اے اللہ آلِ محمدؐ کوبنیادی ضرورت کی حد تک رزق عطا فرما۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مال تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا اللہ کی قسم یا رسولؐ اللہ! اس مال کے اِن کی نسبت کچھ اور لوگ زیادہ مستحق ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ انہوں نے میرے متعلق دو باتیں (عملًا) اختیار کر رکھی ہیں کہ وہ مجھ سے بدزبانی سے سوال کریں یا مجھے بخیل ٹھہرائیں جبکہ میں ہر گز ذرا بھی بخیل نہیں ہوں۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ جا رہا تھا اور آپؐ نے نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی جس کاکنارہ کھردرا تھا۔ آپؐ کو ایک بدوی شخص آملا اور اس نے آپؐ کی چادر کو بہت سختی سے کھینچا اور میں نے رسول اللہﷺ کی گردن کی ایک جانب دیکھا اور اس کے سختی سے کھینچنے کی وجہ سے اس چادر کے کنارہ نے اس پر نشان ڈال دیاتھا۔ پھر اس نے کہا اے محمدؐ اللہ کا جو مال آپؐ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دیئے جانے کاحکم دو۔ رسول اللہﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور ہنس پڑے اور پھر اسے عطا کرنے کاارشاد فرمایا۔ عکرمہ بن عمار کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اس نے آپؐ کو اپنی طرف(اس قدرزور سے کھینچا تھا)کہ نبیﷺ بدوی کے سینہ سے جالگے۔ اور ہمام کی روایت میں ہے کہ اس نے آپؐ کو اسقدر زور سے کھینچا کہ چادر پھٹ گئی اور اس کا کنارہ (border) رسول اللہﷺ کی گردن میں رہ گیا۔
حضرت مِسوَرؓ بن مخرمہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے کچھ قبائیں تقسیم فرمائیں اور مخرمۃؓ کو (کوئی قبا) نہ دی۔ مخرمۃؓ نے کہا اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ رسول اللہﷺ کے پاس چلو۔ میں ان کے ساتھ گیا۔ انہوں نے کہا اندر جا ؤ اور آپؐ کو میرے پاس بلاؤ۔ وہ کہتے ہیں میں نے آپؐ کو بلایا۔ آپؐ ان کے پاس تشریف لائے اور ان میں سے ایک قبا آپؐ کے (بازو پر) تھی۔ آپؐ نے فرمایامیں نے تمہارے لئے یہ چھپا کر رکھی تھی۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اس (مخرمہؓ ) کی طرف دیکھا اور فرمایامخرمہ خوش ہو گیا۔
حضرت مِسوَرؓ بن مخرمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس کچھ قبائیں آئیں۔ مجھے میرے والد مخرمہؓ نے کہا کہ ہمارے ساتھ رسول اللہﷺ کے پاس چلو، شاید آپؐ اُن میں سے ہمیں کچھ عطا فرمائیں۔ وہ کہتے ہیں میرے والد دروازہ پر کھڑے ہوئے اور باتیں کرنے لگے۔ نبیﷺ نے ان کی آواز پہچان لی اور باہر تشریف لائے۔ آپؐ کے پاس ایک قبا تھی۔ آپؐ اس کی خوبیاں ان کو دکھا رہے تھے اور فرمارہے تھے کہ میں نے یہ تمہارے لئے چھپا کررکھی ہوئی تھی، میں نے یہ تمہارے لئے چھپا کر رکھی ہوئی تھی۔
عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کچھ لوگوں کو عطا فرمایا۔ میں اُن میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے ان میں سے ایک شخص کو نظر انداز فرمایا، اسے نہ دیااور وہ میرے نزدیک ان میں سے بہترین تھا۔ میں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر آہستہ آواز سے عرض کیا۔ یا رسولؐ اللہ! آپؐ کا اس کے بارہ میں کیا خیال ہے۔ میں بخدا ضرور اس کو مؤمن سمجھتا ہوں۔ آپؐ نے فلاں شخص کوعطا نہیں فرمایااللہ کی قسم میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا یا مسلمان! میں پھر تھوڑی دیر خاموش رہا، پھر اس کے بارہ میں میرے علم نے مجھے مجبور کیا تو میں نے عرض کیا آپؐ کا اس کے بارہ میں کیا خیال ہے۔ میں اس کو مؤمن سمجھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا یا مسلمان! آپؐ نے فرمایا میں ایک شخص کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا شخص مجھے اس کی نسبت زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ میں اسے اس ڈر سے دیتا ہوں کہ کہیں وہ منہ کے بل آگ میں ہی نہ گرایا جائے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ (سعدؓ بن ابی وقاص نے بیان کیا) کہ رسول اللہﷺ نے میری گردن اور کندھے کے درمیان اپنا دستِ مبارک مارا اور پھر فرمایا کوئی لڑائی ہے؟ اے سعد میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ نے مجھے بتایا کہ فتح حنین کے دن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہوازن کے اموال میں کثرت سے مالِ غنیمت دیااور رسول اللہﷺ نے قریش کے بعض لوگوں کو سو سو اونٹ دیئے تو انصارؓ کے چند لوگوں نے کہااللہ، رسول اللہﷺ کی مغفرت فرمائے۔ آپؐ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں جبکہ ہما ری تلواروں سے ان کاخون ٹپک رہا ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں رسول اللہﷺ کو ان کی اس بات سے آگاہ کیا گیا توآپؐ نے انصارؓ کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے کے خیمہ میں جمع کیا جب وہ سب جمع ہوگئے تورسول اللہﷺ تشریف لائے اور فرمایا وہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ انصارؓ کے سمجھدار لوگوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم میں سے سمجھدار لوگوں نے کچھ نہیں کہا لیکن ہم میں سے چندنو عمر لوگوں نے کہا ہے اللہ اپنے رسولؐ کی مغفرت فرمائے وہ قریش کودے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا میں ایسے لوگو ں کو دے رہا ہوں جن کے کفر کا زمانہ قریب ہے۔ میں ان کی تالیف قلب کررہا ہوں کیا تم اس بات پرخوش نہیں کہ لوگ تو مال لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسولؐ کو لے کر اپنے گھروں کو جاؤ۔ اللہ کی قسم جو چیز تم لے کر لوٹو گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر لوٹیں گے۔ انصارؓ نے کہا ہاں یا رسولؐ اللہ! ہم راضی ہیں آپؐ نے فرمایا عنقریب تم سخت ترجیحی سلوک دیکھو گے پس تم صبر کرنا یہانتک کہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے مل جاؤ اور میں حوض پر ہوں گا۔ انہوں نے عرض کیاہم ضرور صبر کریں گے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں مگرہم صبر نہیں کر سکے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسو ل اللہﷺ نے انصارؓ کو اکٹھا کیا اور فرمایا کیا تم میں کوئی غیر(انصاری) شخص ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں سوائے ہماری بہن کے ایک بیٹے کے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا قوم کی بہن کا بیٹا بھی انہی میں سے ہوتا ہے۔ پھر فرمایا قریش کا جاہلیت اور مصیبت کا زمانہ ابھی ابھی گذرا ہے۔ میں ان کی دلجوئی اور تالیف قلب چاہتا ہوں کیا تم نہیں چاہتے کہ لوگ دنیا لے کر لوٹیں اور تم اللہ اور اس کے رسولؐ کو لے کر اپنے گھروں کو جاؤ۔ اگر سب لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصارؓ ایک گھاٹی میں تو میں انصارؓ کی گھاٹی میں چلوں گا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں جب مکہ فتح ہوا توآپؐ نے قریش میں مالِ غنیمت تقسیم فرمایا۔ اس پر انصار نے کہا عجیب ہے کہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے اور اموالِ غنیمت ان کو واپس دئے جا رہے ہیں۔ جب یہ بات رسول اللہﷺ تک پہنچی تو آپؐ نے انہیں اکٹھا کیا اور فرمایا یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے؟انہوں نے عرض کیا کہ بات وہی ہے جو آپؐ تک پہنچی ہے اور وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم رسولؐ اللہ کو اپنے گھروں میں لے کر جاؤ۔ اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصارؓ ایک اور گھاٹی میں تو میں انصارؓ کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔