بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حنین کا معرکہ پیش آیا تو ہوازن اور غطفان وغیرہ (قبائل) اپنے بچوں اور جانوروں کے ساتھ آئے اور اس دن نبیﷺ کے ساتھ دس ہزار افراد تھے اور آپؐ کے ساتھ وہ بھی تھے جن کو(فتحِ مکہ کے بعد)آزاد کردیا گیاتھا وہ آپؐ کوچھوڑ کر بھاگ گئے اور آپؐ اکیلے رہ گئے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اس دن دو آوازیں دیں اور دونوں آوازوں کے درمیان کچھ وقفہ تھا۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے دائیں طرف رخ کیااور فرمایا اے انصارؓ کے گروہ! انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ!لبیک اور آپؐ کوخوشخبری ہو! پھر آپؐ بائیں طرف متوجہ ہوئے اور فرمایااے گروہِ انصارؓ ! انہوں نے کہا لبیک یارسولؐ اللہ! خوشخبری ہو ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ سفید خچر پر سوار تھے۔ آپؐ نیچے اترے اور فرمایا میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مشرکوں کو شکست ہوگئی اور رسول اللہﷺ کے ہاتھ بہت سامالِ غنیمت آیا۔ آپؐ نے اسے مہاجروں اور آزاد کردہ لوگوں میں تقسیم فرما دیا اور ا نصارؓ کو کچھ نہ دیا۔ اس پر انصار نے کہا کہ جب مشکل وقت ہوتا ہے تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور مالِ غنیمت اور وں کو دے دیا جاتا ہے۔ آپؐ کو یہ بات پہنچی تو آپؐ نے انہیں ایک خیمہ میں اکٹھا کیا اور فرمایااے گروہِ انصارؓ ! یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خاموش رہے۔ آپؐ نے فرمایا اے گروہِ انصارؓ ! کیاتم اس بات پر خوش نہیں کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم محمدؐ کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! ہم توراضی ہیں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا اگر سب لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں تو میں انصارؓ کی گھاٹی اختیار کروں گا۔ ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اے ابو حمزہ کیا آپ اس وقت موجود تھے؟ انہوں نے کہا کیا میں آپؐ سے علیحدہ ہو سکتا تھا؟ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے مکہ فتح کیا پھر ہم غزوہ حنین کے لئے گئے میں نے دیکھا کہ مشرکوں نے بہترین صف بندی کی ہے جو میں نے کبھی دیکھی ہو۔ وہ کہتے ہیں پہلے گھڑ سواروں کی صف بنائی گئی تھی پھر جنگجوؤں کی صف بنائی گئی تھی، پھر ان کے بعد عورتوں کی صف بنائی گئی تھی۔ پھر بکریوں کی صف بندی کی گئی پھراونٹوں کی۔ وہ کہتے ہیں ہم لوگ بھی کثیر تعداد میں تھے ہم چھ ہزار تک پہنچ چکے تھے ہماری دائیں طرف کے گھڑ سواروں پر خالد بن ولیدؓ مقررتھے۔ راوی کہتے ہمارے گھوڑے ہمارے پچھلی جانب مڑنے لگے اور تھوڑی دیر میں ہمارے سواروں سے میدان خالی ہوگیا اور بدّو بھاگ گئے اور وہ لوگ بھی جنہیں ہم جانتے تھے۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے بلند آواز سے پکارا اے مہاجرینؓ ! اے مہاجرینؓ ! پھر فرمایا اے انصارؓ ! اے انصارؓ ! راوی کہتے ہیں حضرت انسؓ نے کہا یہ عام روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے کہایارسولؐ اللہ! لبیک راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ نے پیش قدمی فرمائی۔ راوی کہتے ہیں اللہ کی قسم ابھی ہم ان تک پہنچے ہی نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دے دی۔ راوی کہتے ہیں پھر ہم نے اس مال پر قبضہ کیا پھر ہم طائف کی طرف گئے اور چالیس رات تک ان کا محاصرہ کیا پھر ہم مکہ کی طرف واپس آئے اور پڑاؤ کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہﷺ ایک شخص کو سو اونٹ عطا فرمانے لگے۔
حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ابو سفیان بن حرب اور صفوان بن امیّہ اور عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ عطا فرمائے اور عباس بن مرداس کو اس سے کم دیئے۔ اس پر عباس بن مرداس نے کہا ’’کیا آپؐ میرا حصّہ غنیمت اور (میرے گھوڑے) عبیدکاحصہء غنیمت عیینہ اور اقرع کے درمیان مقرر کرتے ہیں حالانکہ بدر ٭اور حابس مرداس سے معرکہ میں بڑھ کر نہ تھے اور نہ ہی میں ان دونوں آدمیوں سے کم ہوں اور جسے آج آپؐ پست کردیں گے وہ کبھی بھی بلندنہ کیا جائے گا۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اس کے بھی سوپورے کردئیے۔ ایک اور روایت ہے کہ نبیﷺ نے حنین کی غنائم تقسیم فرمائیں اور ابو سفیان بن حرب کو سو اونٹ عطا فرمائے اور مزید یہ کہ آپؐ نے علقمہ بن علاثہ کو بھی سو عطا فرمائے۔ ایک اور روایت میں علقمہ بن علاثہ اور صفوان بن امیہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی اشعار کاذکر ہے۔
حضرت عبد اللہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے حنین فتح کیا اور مالِ غنیمت تقسیم فرمایا اور اُنہیں جن کی تالیف قلب مقصود تھی دیا۔ حضورؐ کو معلوم ہوا کہ انصارؓ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی وہ کچھ ملے جو دوسرے لوگوں کو ملا ہے۔ رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور ان سے خطاب فرمایا آپؐ نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا اے انصارؓ کے گروہ! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ نے تمہیں میرے ذریعہ ہدایت دی۔ تمہیں مفلس پایا اللہ نے تمہیں میرے ذریعہ مالدار بنایا تمہیں بٹا ہوا پایا اللہ نے تمہیں میرے ذریعہ اکٹھا کر دیا۔ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ سب سے بڑھ کر احسان کرنے والے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا تم مجھے جواب کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ سب سے بڑھ احسان کرنے والے ہیں۔ آپؐ نے فرمایااگر تم چاہوتو یہ یہ کہہ سکتے ہو اور یوں ہوا، یوں ہوا۔ (راوی کہتے ہیں ) بہت سی باتیں گنوائیں۔ عمرو نے کہا وہ انہیں یادنہیں رکھ سکے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں کواللہ کے رسولؐ کولے جاؤ۔ انصارؓ شِعار ہیں اور دوسرے لوگ دِثار۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصارؓ میں سے ایک شخص ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور ایک گھاٹی میں چلیں تو میں انصارؓ کی وادی یاان کی گھاٹی میں چلوں گا تم میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے پس تم صبر کرنا یہانتک کہ تم مجھے حوض پر آمِلو۔
حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ حنین کے موقعہ پر رسول اللہﷺ نے مال تقسیم فرماتے ہوئے بعض لوگوں کو ترجیح دی۔ آپؐ نے اقرع بن حابس کو سو اونٹ عطا فرمائے اور عیینہ کوبھی اتنے ہی دئیے اور بعض عرب سرداروں میں سے کچھ لوگوں کو بھی عطا فرمایا اور ان کو اس دن تقسیم میں ترجیح دی۔ اس پر ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم یہ ایسی تقسیم ہے جس میں نوٹ: شعار وہ لباس ہے جو بدن سے ملا ہوا ہو اور دثار وہ لباس ہے جو شعار کے اوپر ہوتا ہے۔ انصاف سے کام نہیں لیا گیا اور نہ اس میں اللہ کی رضا مقصود ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم میں ضرور رسول اللہﷺ کو یہ بات بتاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں میں آپؐ کے پاس گیا اور آپؐ کو وہ بات بتائی جو اس شخص نے کہی تھی راوی کہتے ہیں آپؐ کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوگیا یہانتک کہ وہ سرخ ہو گیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا اگر اللہ اور اس کا رسولؐ انصاف نہیں کریں گے تو اور کون انصاف کرے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے فرمایا اللہ موسیٰ ؑ پر رحم فرمائے انہیں اس سے زیادہ تکلیف دی گئی اور انہوں نے صبر کیا۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا بلا شبہ اس کے بعد (ایسی) کوئی بات آپؐ تک نہیں پہنچاؤں گا۔
حضرت عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ ر سول اللہﷺ نے خوب مال تقسیم فرمایا۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کی رضا نہیں چاہی گئی۔ وہ کہتے ہیں میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ کو چپکے سے بتادیا۔ آپؐ اس بات سے شدیدناراض ہوئے اور آپؐ کا چہرہ سرخ ہو گیا یہانتک کہ میں نے خواہش کی کہ اے کاش میں نے اس کا آپؐ سے ذکر نہ کیا ہوتا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے فرمایا کہ موسیٰ ؑ کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی تھی مگر انہوں نے صبر کیا۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جِعرانہ مقام پر رسول اللہﷺ کے پاس آیا جبکہ آپؐ حنین سے لوٹ رہے تھے اور حضرت بلالؓ کے کپڑے میں چاندی تھی اور رسول اللہﷺ اس میں سے لے کر لوگوں میں تقسیم فرما رہے تھے اس نے کہا اے محمدؐ ! عدل سے کام لیں۔ آپؐ نے فرمایا تیرا بھلا ہو، اگر میں عدل نہ کروں تو اور کون عدل کرے گا۔ اگر میں عدل نہ کروں تو تم خائب و خاسر ہو گئے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے اس منافق کو قتل کرنے دیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کی پناہ تاکہ لوگ یہ کہنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں یقینا یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور یہ اس سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ ایک روایت میں یَقْسِمُ مَغَانِمَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہﷺ کی خدمت میں سونا بھیجا جو اپنی مٹی سمیت تھا۔ رسول اللہﷺ نے اسے چار آدمیوں اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فزاری اور علقمہ بن علاثہ عامری بنی کلاب میں سے ایک شخص اور زید الخیر طائی بنو نبھان میں سے ایک شخص کے درمیا ن تقسیم فرمادیا۔ راوی کہتے ہیں اس پر قریش ناراض ہوگئے اور کہنے لگے کہ آپ نجد کے بڑے آدمیوں کو دیتے ہیں اور ہمیں نظر انداز کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ اس لئے کیا ہے کہ ان کی تالیفِ (قلب) کروں۔ پھر ایک گھنی داڑھی والا شخص آیا جس کے گال کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں، آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی اُبھری ہوئی اور سر منڈا ہوا تھا۔ اس نے کہا اے محمدؐ اللہ کا تقوٰی اختیا ر کرو۔ راوی کہتے ہیں اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو پھر کون اس کی اطاعت کرے گا۔ اس نے مجھے زمین والوں پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت مانگی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ حضرت خالدبن ولیدؓ تھے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا اس کی نسل سے ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کوچھوڑ دیں گے وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اگر میں ان کو پاؤں تو میں ضرور انہیں عاد کی ہلاکت کی طرح ہلاک کردوں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں حضرت علیؓ بن ابی طالب نے یمن سے رسول اللہﷺ کی خدمت میں چمڑے میں جسے ببول کی چھال سے رنگا گیا تھا سونا بھیجا جو ابھی مٹی سے نکالا نہیں گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اسے چار افراد عیینہ بن حصن، اقرع بن حابس، اور زید الخیل اور چوتھے علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل تھے میں تقسیم فرمادیا۔ آپؐ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہم ان سے اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ راوی کہتے ہیں یہ بات نبیﷺ تک پہنچی تو آپؐ نے فرمایا کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ حالانکہ میں اس کا امین ہوں جو آسمان میں ہے اور صبح و شام میرے پاس آسمان کی خبریں آتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی رخسار اُبھرے ہوئے پیشانی اونچی داڑھی گھنی، سر منڈاہوا، اِزارکس کر اٹھائے ہوئے کھڑا ہو ااور اس نے کہایارسولؐ اللہ! اللہ کا تقوٰی اختیار کریں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ بھلا کرے۔ کیا میں زمین کے باشندوں میں سب سے زیادہ اللہ کا تقوٰی اختیار کرنے کا اہل نہیں ہوں ! راوی کہتے ہیں پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ مار دوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو۔ حضرت خالدؓ نے عرض کیا کتنے ہی نمازی ہیں جو زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے یہ حکم نہیں دیا کہ لوگوں کے دلوں میں نقب لگاؤں اور ان کے پیٹ چاک کروں۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے اس کی طرف دیکھا جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا آپؐ نے فرمایا اس کی نسل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو آسانی سے اللہ کی کتاب پڑھیں گے مگر وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اُترے گی وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکارمیں سے پار ہو جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپؐ نے فرمایا اگر میں ان کو پاؤں تو ثمود کی طرح تباہ و برباد کردوں۔ ایک اور روایت میں علقمہ بن علاثہ کا ذکر ہے اور عامر بن طفیل کا ذکر نہیں اور نَاشِزُالْجَبْہَۃَ)کی جگہ نَاتِیٔ الْجَبْہَۃ کا لفظ ہے اور مزید بیان ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ آپؐ کی طرف گئے اور عرض کیا یارسولؐ اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ ماردوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ پھر وہ لوٹ آئے اور خالد بن ولیدؓ سیف اللہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ!کیا میں اس کی گردن نہ مار دوں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے فرمایا اس کی نسل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ کی کتاب کو سہولت اور آسانی سے پڑھیں گے۔ راوی کہتے ہیں عمارہ نے کہا میرا خیال ہے آپؐ نے فرمایا اگر میں انہیں پاؤں تو انہیں ثمود کی طرح تباہ و برباد کردوں۔ عمارہ بن قعقاع سے اسی سند سے روایت ہے انہوں نے کہا چار آدمیوں زید الخیر اور اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل کے درمیان (تقسیم فرمایا) اور انہوں نے عبدالواحد کی روایت کی طرح نَاشِزُ الْجَبْہَۃَ کا لفظ استعمال کیا ہے اور انہوں نے یہ الفاظ بیان کئے ہیں ’’کہ یقینا اس کی نسل سے ایسے لوگ نکلیں گے‘‘ اور انہوں نے یہ الفاظ نہیں کہے ’’اگر میں ان کو پاؤں تو ضرور ثمود کی طرح تباہ و برباد کردوں‘‘۔
ابی سلمہ اور عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ وہ دو نو ں حضرت ابو سعید خدریؓ کے پاس آئے اور ان سے حروریہ کے بارہ میں پوچھا کیا آپؓ نے رسول اللہﷺ کو ان کا ذکر کرتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا کہ حروریہ کون ہیں؟ لیکن میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ کچھ لوگ نکلیں گے اس امت میں سے ایک قوم _ یہ نہیں فرمایا اس میں سے ایک قوم نکلے گی _تم اپنی نماز کو ان کی نماز کی نسبت حقیر جانو گے وہ قرآن پڑھیں گے (مگر) وہ ان کے حلقوں یاگلوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے اور تیر انداز اپنے تیرکو، اپنے تیرکے پھل کواور اس کے رصاف1کو دیکھتا ہے اور اس کے فوق2 کے بارہ میں شک کرتا ہے کہ کیا اس کے ساتھ کچھ خون لگا ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس تھے۔ آپؐ مالِ (غنیمت) تقسیم فرمارہے تھے کہ آپؐ کے پاس ذوالخویصرۃ جو بنی تمیم کا ایک شخص تھا آیا اس نے کہایا رسولؐ اللہ! عدل کریں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ بھلا کرے اگر میں نے عدل نہ کیا تو اور کون عدل کرے گا؟ میں ناکام ہوا اور گھاٹے میں پڑگیا اگر میں نے عدل نہ کیا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو، یقینا اس جیسے اور بھی(نکلنے والے) ہیں تم میں سے کوئی اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلہ میں اور اپنے روزہ کو ان کے روزہ کے مقابلہ میں حقیر جانے گا وہ قرآن پڑھیں گے (مگر) وہ ان کے گلے سے تجاوز نہیں کرے گا وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکارمیں سے پار ہو جاتاہے۔ اس کے پھل کو دیکھا جا تا ہے تو اس میں کچھ نہیں پایا جاتا، پھر اس کے رصاف کو دیکھاجائے تواس میں کچھ نہیں پایا جاتا۔ پھر اس کی نضیّہ یعنی لکڑی کو دیکھا جائے (جس کو قدح بھی کہتے ہیں ) تو اس میں کچھ نہیں پایا جاتا۔ پھر اس کے پروں کو دیکھا جاتا ہے اس میں بھی کچھ نہیں پایا جاتا۔ وہ گوبر اور خون سے بھی گذر گیا ہوتا ہے ان کی نشانی ایک سیاہ شخص ہے اس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح ہے یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہے جوہلتاہے۔ وہ لوگوں میں اختلاف کے وقت خروج کریں گے۔ حضرت ابو سعیدؓ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے خود یہ رسول اللہﷺ سے سنا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی اور میں ان کے ساتھ تھا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارہ میں حکم دیا تو اسے تلاش کیا گیا اور وہ مل گیااور اسے لایا گیا اور میں نے اسے رسول اللہﷺ کی بیان فرمودہ صفت کے مطابق دیکھا جو آپؐ نے بیان فرمائی تھی۔