بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
احنف بن قیس سے روایت وہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور اس اثناء میں قریش کے سرداروں کے ایک حلقہ میں تھا کہ اچانک ایک کھردرے کپڑوں والا، کھردرے جسم والا اور کھردرے چہرے والا شخص آیا اور ان کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہا مال جمع رکھنے والوں کوایسے پتھر کی بشارت دیدو جسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا۔ پھر اسے ان کی چھاتی پر رکھا جائے گا یہانتک کہ وہ اس کے کندھوں کی ہڈی سے نکل آئے گا اور اسے اس کے کندھوں کی ہڈی پر رکھا جائے گا یہانتک کہ وہ اس کی چھاتی سے ہلتا ہواباہر نکل آئے گا۔ راوی کہتے ہیں لوگوں نے اپنے سر جھکا لئے اور میں نے ان میں سے کسی کو اسے جواب دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں وہ پیٹھ پھیر کر چلے گئے میں نے ان کا پیچھا کیا یہانتک کہ وہ ایک ستون کے پاس بیٹھ گئے میں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے اُسے جو آپ نے انہیں کہا ہے ناپسندکیا ہے۔ انہوں نے کہایہ لوگ توکچھ عقل نہیں کرتے۔ یقینا میرے دوست ابوالقاسمﷺ نے مجھے بلایا تو میں نے آپؐ کولبیک کہا پھر آپؐ نے فرمایا کیا تم احد کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے اپنے اوپر سورج کو دیکھا اور میرا خیال تھا کہ آپؐ مجھے اپنے کسی کام کے لئے بھیجنا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا’’مجھے یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ میرے پاس اس پہاڑ جتنا سونا ہو اور میں اس سارے کو خرچ کروں سوائے تین دینار کے۔‘‘ پھر بھی یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا آپ اور آپ کے قریشی بھائیوں کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ان کے پاس نہیں جاتے تاکہ ان سے کچھ لیں۔ انہوں نے کہا نہیں تیرے رب کی قسم! نہ میں ان سے کوئی دنیا مانگوں گا اور نہ ان سے دین کے بارہ کچھ پوچھوں گایہانتک کہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے جاملوں۔
احنف بن قیس سے روایت وہ کہتے ہیں کہ میں قریش کے ایک گروہ میں تھا کہ حضرت ابو ذرؓ یہ کہتے ہوئے گذرے مال جمع کرنے والوں کو اس داغ کی بشارت دو جو ان کی پیٹھ پر لگایا جائے گا اور وہ ان کے پہلوؤں سے نکل جائے گا اور اس داغ کی جو ان کی گردنوں کے پچھلے حصہ میں لگایا جائے گا اور ان کی پیشانیوں سے نکلے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ ایک طرف ہوکر بیٹھ گئے وہ کہتے ہیں میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟انہوں نے کہا یہ ابو ذرؓ ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں ان کی طرف گیا اور کہا یہ کیا بات ہے جو میں نے ابھی آپ کو کہتے سنی ہے؟ انہوں نے کہا میں نے وہی بات کہی ہے جو میں نے ان کے نبیﷺ سے سنی تھی۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا آپ کاان عطایا کے بارہ میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ لے لو کیونکہ آج ان سے مدد لی جاتی ہے لیکن اگر یہ تیرے دین کی قیمت ہو تو اسے چھوڑ دو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے جسے وہ نبیﷺ تک پہنچاتے ہیں آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے۔ اے ابن آدم! خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا اور فرمایا کہ اللہ کادایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ ابن نمیر نے _مَلْأَی کے بجائے مَلْآنُ کالفظ استعمال کیاہے _بہت دائمی طور پررات دن عطا کرنے والا ہے کوئی چیز اس میں کمی نہیں کرتی۔
وہب بن منبہ کے بھائی ہمام بن منبہ سے روایت ہے کہ یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیں اور انہوں نے کچھ احادیث کا ذکر کیاجن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے خرچ کرمیں تجھ پر خرچ کروں گا اور رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ رات دن کی عطاکی کثرت اس میں کچھ کمی نہیں کرتی۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے جو کچھ اس نے خرچ کیا ہے اس نے اس کے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کوئی کمی نہیں کی اور فرمایااس کاعرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں روکنے کی طاقت ہے وہ بلند کرتاہے اور نیچا کرتا ہے۔
حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا سب سے افضل دینارجو آدمی خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جس کو وہ آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جو آدمی اللہ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جسے وہ اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں آپؐ نے اہل و عیال سے شروع فرمایا۔ پھر ابو قلابہ نے کہا کہ اجر کے لحاظ سے اس شخص سے زیادہ بڑا کون ہو سکتا ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے وہ انہیں سوال کرنے سے بچاتا ہے یا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں نفع پہنچاتا ہے یا انہیں غنی کرتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایک دینارجو تم نے اللہ کی راہ میں خرچ کیااور ایک دینارجو تم نے گردن(آزاد کرنے کے لئے) خرچ کیا۔ ایک دینار جو تم نے مسکین کو صد قہ دیا۔ ایک دینار جسے تم نے اپنے اہل پر خرچ کیا۔ ان میں سے اجر کے لحاظ سے سب سے بڑا وہ ہے جسے تم نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا۔
خیثمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس ان کا خزانچی آیااور اندر داخل ہوا۔ انہوں (حضرت عبد اللہ بن عمروؓ ) نے کہا کیا تم نے غلاموں کوان کی خوراک دے دی ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا جاؤ اور انہیں دو۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے آدمی کے گنہگار ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ ان سے ان کی خوراک روک لے جن پر وہ اختیار رکھتا ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ بنی عذرۃ میں سے ایک شخص نے اپنے ایک غلام کو اپنے بعد آزاد کیا(یعنی یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔) یہ بات رسول اللہﷺ تک پہنچی تو آپؐ نے فرمایا کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس مال ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اس (غلام) کو مجھ سے کون خریدے گا؟ حضرت نعیم بن عبد اللہؓ العدوی نے آٹھ سو درہم کے عوض اسے خرید لیا اور وہ (درہم) لاکر رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کردئیے۔ آپؐ نے وہ (اس غلام کے مالک کو) دے دیئے پھر فرمایا اپنی ذات سے شروع کرو اور اس پر خرچ کرو پھرجوزائد ہو وہ تیرے اہل و عیال کے لئے اور پھر جو زائد ہو وہ تیرے قرابت داروں کے لئے، پھر جو اس سے زائد ہو وہ اس طرح اور اس طرح یعنی اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور اپنے بائیں۔ ایک دوسری روایت جوحضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ ایک انصاری شخص جسے ابو مذکور کہا جاتا تھا نے اپنے ایک غلام کو جسے یعقوب کہا جاتا تھا اپنے مرنے کے بعد آزاد کیا(یعنی یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے) باقی روایت لیث کی روایت کے مطابق ہے۔
اسحاق بن عبد اللہ بن ابو طلحہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت ابو طلحہؓ مدینہ کے انصارؓ میں سب سے مالدار تھے اور انہیں اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ محبوب بیرحاء (نامی باغ) تھا اور وہ مسجد کے سامنے تھا اور رسول اللہﷺ اس میں جایا کرتے تھے اور اس کا خوشگوارپانی پیا کرتے تھے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران: 93)کہ تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکوگے یہانتک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو تو حضرت ابوطلحہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران: 93)کہ تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہانتک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کروجن سے تم محبت کرتے ہو اور مجھے اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ پسند بیرحاء ہے اور یہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے اور میں اس کی خیر اور اللہ کے ہاں اس کے ذخیرہ ہونے کا امید وار ہوں یا رسولؐ اللہ! آپؐ اسے جہاں چاہیں خرچ فرمائیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا بہت خوب! یہ تو بڑا نفع مند مال ہے یہ تو بڑا نفع مند مال ہے جو تم نے اس کے بارہ میں کہا ہے میں نے سن لیا ہے میرا خیال ہے کہ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ چنانچہ حضرت ابو طلحہؓ نے اسے اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنے چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران: 93)کہ تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہانتک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کروجن سے تم محبت کرتے ہو۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے اموال مانگتا ہے۔ یارسولؐ اللہ!میں آپؐ کو گواہ بناتا ہوں۔ میں اپنی بریحاکی زمین اللہ کی راہ میں دیتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں کو دے دو۔ راوی کہتے ہیں تو انہوں نے حضرت حسانؓ بن ثابت اور حضرت ابی بن کعبؓ کودے دیا۔