بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال دو آدمیوں جیسی بیان فرمائی جن پر لوہے کی دو زرہیں ہوں جنکے بازو سینے اور ہنسلی کی ہڈیوں کے ساتھ جکڑے گئے ہیں پس صدقہ کرنے والا جب بھی کوئی صدقہ کرتا ہے تو وہ اس پر کشادہ ہوجاتی ہے یہانتک کہ وہ اس کے پوروں کو ڈ ھانپ لیتی ہے اور اس کے اثر کو مٹا دیتی ہے اور جب بخیل کبھی صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ تنگ پڑ جا تی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ لے لیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو اپنی انگلی سے اپنے گریبان میں اشارہ کرتے دیکھا اور اگر تم انہیں دیکھتے جب وہ انہیں کشادہ کررہے تھے اور وہ (کشادہ) نہیں ہورہی تھی۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال اُن دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں ہیں۔ جب صدقہ دینے والا صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس پر کشادہ ہوجاتی ہے یہانتک کہ وہ اس کے نقشِ قدم کو مٹا دیتی ہے اور جب بخیل صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس پر تنگ پڑ جا تی ہے اور اس کے دونوں ہاتھ گلے تک باندھے جاتے ہیں اور ہر حلقہ اپنے ساتھ والے حلقہ کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ اس کو کشادہ کرنے کی کو شش کرتا ہے مگر نہیں کرپاتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ایک شخص نے کہا کہ آج رات میں صدقہ کروں گا۔ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے ایک بد کار عورت کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک بدکار عورت کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا اے اللہ سب تعریف تیرے ہی لئے ہے _ ایک بدکار عورت کو_ میں ضرور(اور) صدقہ کروں گا۔ پھر وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک امیر آدمی کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک امیر کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا اے اللہ سب تعریف تیرے ہی لئے ہے_ (صدقہ)ایک امیر کو!!! اس نے کہامیں ضرور (اور) صدقہ کروں گا۔ پھر وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا اے اللہ سب تعریف تیرے ہی لئے ہے_صدقہ ایک بدکار عورت پر، ایک امیرآدمی پر، ایک چور پر!!!۔ اس کے پاس کوئی آیا اور کہاگیا کہ تمہارا صدقہ قبول ہوگیا ہے۔ جو تو بدکار عورت پرہے شاید کہ وہ اس ذریعہ سے اپنی بدکاری سے بچ جائے اور شاید امیر آدمی عبرت حاصل کرے اور اللہ نے جو اسے عطا کیا ہے اس میں خرچ کرے اور شاید چور اس صدقہ کے ذریعہ اپنی چوری سے بچ جائے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبیﷺ نے فرمایا یقینا وہ مسلمان امانتدار خزانچی جو صدقہ کرنے کے حکم کو نافذ کرتا ہے }راوی بسا اوقات کہتے دیتا ہے { جس کا اسے حکم دیا گیا اور وہ اس شخص کو مکمل اور پورا پورا اپنے دل کی خوشی کے ساتھ دیتا ہے اور جس شخص کیلئے اسے وہ چیز دینے کا حکم دیا گیا ہے وہ اس کے سپرد کر دیتا ہے وہ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی عورت اپنے گھر کے غلہ میں سے بغیر کوئی خرابی کئے خرچ کرتی ہے تو اس کے لئے اس خرچ کے عوض جو اس نے کیا اجر ملتا ہے اور اس کے خاوند کے لئے بھی اس کے عوض جو اس نے کمایا اجر ہوتا ہے اور خزانچی کیلئے بھی اسی طرح کا (اجر) ہے۔ ان میں سے ایک دوسرے کاکچھ بھی اجر کم نہیں کرتا۔ ایک دوسری روایت میں مِنْ طَعَامِ بَیْتِھَا کے بجائے مِنْ طَعَامِ زَوْجِھَا کے الفاظ کہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جب کوئی عورت بغیر کوئی خرابی کئے اپنے خاوند کے گھر سے خرچ کرتی ہے تو اس کے لئے اس کا اجر ہے اور اس (خاوند) کے لئے ویسا ہی (اجر) ہے۔ کیونکہ اس نے کما یااور اس عورت کے لئے بھی کیونکہ اس نے خرچ کیا اور خزانچی کیلئے بھی ویسا ہی(اجر) ہے۔ بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں سے کچھ کم ہو۔
آبی لحم کے آزاد کردہ غلام عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں غلام تھا میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کیا میں اپنے مالکوں کے مال میں سے کچھ صدقہ کروں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اور اجرتم دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا۔
آبی لحم کے آزاد کردہ غلام عمیرکہتے ہیں مجھے میرے آقا نے حکم دیا کہ میں گوشت سکھانے کے لئے کاٹوں۔ میرے پاس ایک مسکین آیا تو میں نے اس کو اس میں سے کھانے کودے دیا۔ میرے آقاکو اس بات کا پتہ چل گیا تو اس نے مجھے مارا۔ میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے اس معاملہ کا ذکر کیا آپؐ نے اسے بلایا اور فرمایا تو نے اسے کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا یہ میری اجازت کے بغیر میرا کھانا (دوسروں کو) دیتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تم دونوں کے درمیان اس کا اجر ہے۔
ہمام بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے حضرت محمد رسول اللہﷺ کی طرف سے ہم سے بیان کیں پھر انہوں نے کئی احادیث کا ذکر کیاان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے جبکہ اس کا خاوند موجود ہو اور اس کے گھر اس کی اجازت کے بغیر کسی کو آنے کی اجازت نہ دے جبکہ وہ موجود ہو اور جو کچھ وہ اس کی اجازت کے بغیر اس کی کمائی میں سے خرچ کرے تو اس کا آدھا اجر اس (خاوند) کو ملے گا۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ .