حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے لوگو! اللہ پاک ہے اور وہ طیّب چیز کو ہی قبول کرتا ہے اور یقینا اس نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو حکم اس نے رسولوںؐ کو دیا ہے چنانچہ اس نے فرمایا یٰاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ (المؤمنون: 52)یعنی اے رسولو ! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو جو تم کرتے ہو میں خوب جانتا ہوں اور فرمایا یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْاکُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَارَزَقْنَاکُم (البقرۃ: 173) یعنی اے لوگو جو ایمان لائے ہو اُن پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں دی ہیں کھاؤ۔ پھر آپؐ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے پراگندہ بال اور غبار آلود ہ۔ آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتا ہے(اور کہتا ہے) اے میرے رب! اے میرے رب ! حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے اور اس کا پینا حرام ہے اور اس کالباس حرام ہے اور اس کی نشوونما حرام پر ہوئی ہے۔ اس وجہ سے اس کی دعا کیونکر قبول ہوگی۔
حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو تم میں سے طاقت رکھتا ہے وہ آگ سے بچے خواہ آدھی کھجور کے ذریعہ ہی۔ وہ ضرور ایسا کرے۔
اعرج حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اس کو رفع کرتے تھے٭ کہ سنو ایک شخص کسی کے گھرانہ کو ایک اونٹنی دیتا ہے جو دودھ کا ایک بڑا برتن صبح دیتی ہے اور دودھ کاایک بڑابرتن شام کو دیتی ہے اس کا اجر یقینا بہت بڑا ہے۔
حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی نہیں مگر اللہ اس سے ضرور کلام کرے گا اور اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ وہ اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو سوائے اس کے جو اس نے آگے بھیجا کچھ نہیں دیکھے گا اور وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا تو سوائے اس کے جو اس نے آگے بھیجا کچھ نہیں دیکھے گا اور وہ اپنے سامنے دیکھے گا توآگ کے سوا اپنے سامنے کچھ نہ دیکھے گا پس آگ سے بچو خواہ کھجورکے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی۔ خیثمہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ خواہ اچھی بات کے ذریعہ ہی۔
حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے آگ کا ذکر فرمایا پھر اعراض کیا اور کراہت سے منہ پھیرا اور فرمایاآگ سے بچو۔ پھر اعراض کیا اور کراہت سے منہ پھیرا یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوا کہ گویا آپؐ اسے (آگ کو) دیکھ رہے ہیں۔ پھر فرمایاآگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑا سے ہی ہو اور جو(یہ) نہ پائے وہ اچھی بات کے ذریعہ ہی سہی۔
حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے آگ کا ذکر فرمایا اور اس سے پناہ مانگی اور اپنا چہرہ ایک طرف پھیرا تین دفعہ (ایسا کیا) فر مایا آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور کے ذریعہ اور اگر تم کچھ نہ پاؤ تو اچھی بات کے ذریعہ(ہی)۔
منذر بن جریر اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس دن کے پہلے حصہ میں تھے وہ کہتے ہیں آپؐ کے پاس کچھ لوگ ننگے پاؤں ننگے بدن پھٹی ہوئی دھاری دار اونی چادریں یا چوغے پہنے ہوئے تلواریں لٹکائے ہوئے آئے۔ ان کی اکثریت مضر قبیلہ سے تھی بلکہ وہ سب کے سب مضر قبیلہ سے ہی تھے ان کے فاقہ کو دیکھ کر رسول اللہﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ آپؐ اندر تشریف لے گئے پھر باہر آئے اور بلالؓ کو ارشاد فرمایا انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی۔ آپؐ نے نماز پڑھائی اور پھرخطاب فرمایا اور فرمایا یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ۔ ۔ ۔ (النساء: 2) اے لوگو! اپنے اس رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں میں سے مردوں اور عورتوں کو بکثرت پھیلا دیا اور اللہ سے ڈرو جس کے نام کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رحموں کے (تقاضوں ) کا بھی خیال رکھو یقینا اللہ تم پر نگران ہے اور سورۃ الحشر کی یہ آیت تلاوت فرمائی یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ۔ ۔ ۔ (الحشر: 19) ترجمہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یقینا اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔ (اس پر) ایک شخص اپنے دینار سے صدقہ کرتا ہے، اپنے درہم سے، اپنے کپڑے سے، اپنی گندم کے صاع سے، اپنی کھجور کے صاع سے یہانتک کہ فرمایا خواہ کھجور کے ٹکڑے سے۔ راوی کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص ایک چھوٹی سی تھیلی لے کر آیا قریب تھا کہ اس کی ہتھیلی اس سے عاجز آجاتی بلکہ وہ عاجز تھی۔ راوی کہتے ہیں پھر لوگ پے در پے آنے لگے یہانتک کہ میں نے غلے کے اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے یہانتک کہ میں نے رسول اللہﷺ کا چہرہ دمکتا ہوا دیکھاگویا کہ وہ سونے کا ایک ٹکڑا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے اسلام میں اچھی سنت قائم کی اس کو اس کا اجر ہے اور ان کا اجر بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں سے کچھ کم کیا جائے اور جس نے اسلام میں بُرا طریق قائم کیا اس پر اس کا بوجھ ہوگا اور ان کا بوجھ بھی جنہوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا بغیر اس کے کہ ان کے بوجھوں میں سے کچھ کم کیا جائے۔ منذر بن جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس دن کے پہلے حصہ میں تھے آگے روایت ابن جعفر کی طرح ہے اور ابن معاذ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ نے نمازِ ظہر پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ منذر بن جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ آپؐ کے پاس کچھ لوگ آئے جنہوں نے پھٹی ہوئی اونی چادریں پہنی ہوئی تھیں پھر انہوں نے اس حدیث کا سارا قصہ بیان کیا ہے اور اس میں ہے پھر آپؐ نے ظہر کی نماز پڑھی پھر ایک چھوٹے منبر پر چڑھے پھر آپؐ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثناء کی پھر فرمایا اما بعد یقینا اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں نازل فرمایاہے اے لوگو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو (النساء: 2) جریر بن عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اعراب میں سے کچھ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے اونی کپڑے پہن رکھے تھے۔ آپؐ نے ان کے تکلیف دہ حال کو دیکھا ان کو سخت ضرورت آپڑی تھی۔ پھر باقی سابقہ (راویوں کی) روایت کی طرح روایت ہے۔
حضرت ابو مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہمیں صدقہ کا حکم دیا جاتا تھا وہ کہتے ہیں کہ ہم (بوجھ اٹھانے کی) مزدوری کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں ابو عقیل نے نصف صاع صدقہ دیا اور انہوں نے کہا ایک شخص اس سے کچھ زیادہ لے کر آیا تو منافقوں نے کہا کہ اللہ کو اس شخص کے صدقہ کی ضرورت نہیں اور اس دوسرے نے تو محض دکھاوا کیا ہے۔ تب یہ آیت اُتری اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِیْنَ لََا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُھْدَھُمْ (التوبۃ: 79) یعنی وہ لوگ جو مومنوں میں سے دلی شوق سے نیکی کرنے والوں پر صدقات کے بارہ میں طنزکرتے ہیں اور ان لوگو ں پر بھی جو اپنی محنت کے سوا اپنے پاس کچھ نہیں پاتے۔ اور سعید بن ربیع کی روایت میں ہے کہ ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ اُٹھایاکرتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے منع فرمایا پھر انہوں نے کئی باتوں کا ذکر کیااور فرمایا کہ جس شخص نے کسی کو دودھ دینے والا جانور عطیہ دیا تو وہ (عطیہ) صبح بھی صدقہ کا ذریعہ بنا اور شام بھی صدقہ کا ذریعہ بنا۔ یعنی اس کا صبح کا دودھ اور اس کا شام کا دودھ۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا خرچ کرنے والے اور صدقہ کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس پر دو جبے ّ ہوں یا دو ڈھالیں ہوں جو ان دونوں کے سینہ سے دونوں کی ہنسلی کی ہڈیوں تک ہوں پس جب خرچ کرنے والاارادہ کرتا ہے اور دوسرے راوی نے کہاجب صدقہ دینے والاارادہ کرتا ہے کہ صدقہ کرے تو وہ اس پر کشادہ ہو جاتے ہیں یا پھیل جاتے ہیں اور جب بخیل ارادہ کرتا ہے کہ خرچ کرے تو وہ اس پر تنگ پڑ جا تی ہیں اور ہر حلقہ اپنی جگہ لے لیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کی پوروں تک کو ڈھانک دیتی ہیں اور اس کے نقشِ قدم کو مٹا دیتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ آپؐ نے فرمایاوہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتی٭۔