بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 168 hadith
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ناپسند سمجھا جاتا ہے کہ مرد اپنے سر اور داڑھی کا سفید بال اکھیڑے۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے کبھی خضاب نہیں لگایا۔ آپؐ کے نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان کچھ سفید بال تھے اسی طرح دونوں کن پٹیوں میں اور سر میں کوئی کوئی سفید بال تھا۔
حضرت جابر بن سمرہؓ سے نبیﷺ کے بالوں میں سفیدی کے بارہ میں پوچھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب آپؐ اپنے سر میں تیل ڈالتے تو کچھ سفیدی دکھائی نہ دیتی اور جب تیل نہ ڈالتے سفیدی دکھائی دیتی۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ان سے نبیﷺ کے بالوں کی سفیدی کے متعلق پوچھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپؐ (کے حسن)کو (بالوں کی) سفیدی سے ماندنہیں کیا
حضرت ابی جحیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ (کے بالوں ) میں یہ جگہ سفید دیکھی اور زہیر نے اپنی انگلی کواپنے نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان رکھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی عمر اس وقت کتنی تھی؟ انہوں نے کہا (اتنی) کہ میں تیر تراشتا تھا اور ان پر پَر لگاتا تھا۔
حضرت ابو جحیفہؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپؐ سفید رنگ کے تھے اور آپؐ کے بالوں میں سفیدی ظاہر ہو گئی تھی اور حضرت حسن بن علیؓ کی آپؐ سے شکل ملتی تھی۔ ایک اور روایت میں أَبْیَضَ قَدْ شَابَ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے سراور ریشِ مبارک کے سامنے کے حصہ میں کچھ بال سفید ہو گئے تھے اور جب آپؐ تیل ڈالتے تو(سفیدی)ظاہر نہ ہوتی اور جب کنگھی نہ کی ہوتی تو سفیدی نظر آجاتی اور آپؐ کی ریش مبارک میں خوب بال تھے۔ ایک آدمی نے پوچھا کیا آپؐ کا چہرہ تلوار کی مانند تھا؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ سورج اور چاند کی مانند تھا اور چہرہ میں گولائی تھی اور میں نے آپؐ کے کندھے پر کبوتری کے انڈے کی مانند مہر(نبوت)دیکھی تھی جوآپؐ کے بدن کے (رنگ)سے ملتی تھی۔
حضرت جابرؓ بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی پشت پر مہر دیکھی گویا وہ کبوتری کا انڈہ تھی۔
حضرت سائب بن یزیدؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری خالہ رسول اللہﷺ کے پاس لے گئیں اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ!میرا یہ بھانجا بیمار ہے۔ آپؐ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی۔ پھرآپؐ نے وضوء کیا تو میں نے آپؐ کے وضوء کے پانی میں سے پیا۔ پھر میں آپؐ کی پشت کے پیچھے کھڑا ہوا تو میں نے آپؐ کے کندھوں کے درمیان آپؐ کی مہر دیکھی جو چھپر کھٹ کے بٹن جیسی تھی۔
عاصم حضرت عبداللہ بن سرجسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ میں نے نبیﷺ کو دیکھا ہے اور میں نے آپؐ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایایا انہوں نے کہا ثرید۔ وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہؓ سے کہا کیا نبیﷺ نے آپؓ کے لئے مغفرت کی دعا کی تھی؟ انہوں نے کہا ہاں اور تمہارے لئے بھی۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ انہوں نے کہا کہ پھر میں گھوم کرحضورؐ کے پیچھے گیا توآپؐ کے کندھوں کے درمیان میں نے مہر نبوت دیکھی، بائیں کندھے کی ابھری ہوئی جگہ کے قریب۔ اس پر کچھ تل مسّوں کی طرح تھے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نہ تو بہت زیادہ لمبے تھے نہ چھوٹے قد کے تھے۔ نہ بہت زیادہ سفید تھے نہ ہی گندم گوں تھے۔ آپؐ نہ تو بہت گھنگریالے بالوں والے تھے نہ بالکل سیدھے بالوں والے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو چالیس سال کے سر پر مبعوث فرمایا۔ آپؐ دس سال مکہ میں رہے او ر دس سال مدینہ میں رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں اللہ نے آپؐ کو وفات دی۔ اس وقت آپؐ کے سر میں اور ریش مبارک میں بیس سفید بال بھی نہیں تھے۔ ایک اور روایت میں ہے آپؐ ِ کھلتے ہوئے رنگ کے تھے۔