بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 36 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص لمبے عرصہ تک جنتیوں والے کام کرتا ہے پھراس کے اعمال دوزخیوں کے اعمال پر منتج ہوتے ہیں۔ اور یقینا ایک شخص ضرور لمبے عرصہ تک دوزخیوں والے کام کرتاہے پھر اس کے اعمال جنتیوں کے اعمال پر منتج ہوتے ہیں۔
حضرت سھلؓ بن سعدساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص لوگوں کی نظر میں بظاہر جنتیوں والے کام کرتا ہے جبکہ در حقیقت وہ دوزخ والوں میں سے ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص لوگوں میں بظاہر دوزخیوں والے کام کرتا ہے لیکن وہ در حقیقت جنتیوں میں سے ہوتاہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ حضرت آدمؑ اور حضرت موسیٰ ؑ میں بحث ہوئی تو موسیٰ ؑ نے کہا اے آدمؑ !آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ نے ہمیں محروم کردیا اور جنت سے نکلوادیا۔ اس پر آدمؑ نے ان سے کہا: آپ موسیٰؑ ہیں آپ کو اللہ نے اپنے کلام کے لئے چن لیا تھا اور آپ کے لئے اپنے ہاتھ سے لکھا تو کیا آپ مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہیں جسے اللہ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال قبل ہی میرے لئے مقدر فرمادی تھی۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایاپس آدمؑ موسیٰ ؑ پر غالب آگئے۔ آدمؑ موسیٰ ؑ پر غالب رہے۔ ایک روایت میں (خَطَّ لَکَ بِیَدِہِ کی بجائے) کَتَب لَکَ التَّورَاۃَ بِیَدِہِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آدم اور موسیٰؑ میں بحث ہوئی۔ پس آدمؑ موسیٰؑ پر غالب رہے۔ موسیٰؑ نے آدمؑ سے کہا: آپ وہ آدمؑ ہیں جنہوں نے لوگوں کوراستہ بھلادیا تھا اور انہیں جنت سے نکال دیا تھا۔ اس پر آدمؑ نے کہا: آپ وہ شخص ہیں جسے اللہ نے ہر چیز کا علم دیااور اسے لوگوں پر اپنی رسالت کے لئے پسند کیا۔ انہوں نے کہا : ہاں انہوں نے کہاتو آپ مجھے ایسے امر پر ملامت کرتے ہیں جو میری پیدائش سے قبل ہی مقدّر کیا گیا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آدمؑ اور موسیٰ ؑ کی اپنے ربّ کے حضور میں بحث ہوئی۔ تو آدمؑ موسیٰؑ پر غالب رہے۔ موسیٰؑ نے کہا: آپ وہ آدمؑ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور آپ کے لئے اپنے فرشتوں کو جھکادیا اور آپ کو اپنی جنت میں جگہ دی۔ پھر آپ نے اپنی غلطی کی وجہ سے لوگوں کو زمین پر اُتروادیا۔ اس پر آدم نے کہا آپ وہ موسیٰ ہیں جسے اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لئے چن لیااور آپ کوتختیاں عطا کیں ان میں ہر ایک چیز کابیان تھا اور اس نے سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو اپنا مقرب بنایا۔ آپ کے خیال میں کتنا عرصہ میری پیدائش سے قبل اللہ نے تورات لکھی؟موسیٰ ؑ نے کہا چالیس سال پہلے۔ آدم نے کہا کیا آپ نے اس میں یہ(لکھا ہوا) دیکھا ہے کہ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور وہ بے راہ ہوا۔ ٭انہوں نے کہا ہاں۔ انہوں (آدمؑ )نے کہا کہ آپ مجھے اس عمل پر جومیں نے کیا ملامت کر رہے ہیں جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے میرے پیدا ہونے سے چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا کہ میں وہ کروں گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آدمؑ موسیٰ ؑ پر غالب رہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آدمؑ اور موسیٰ میں بحث ہوئی۔ پس آدمؑ نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ وہی آدم ہیں جنہیں ان کی غلطی نے جنّت سے نکالا تھا۔ اس پر آدمؑ نے موسیٰ ؑ سے کہاآپ وہ موسیٰ ؑ ہیں جسے اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے خاص کیا تھا۔ پھرآپ مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جو میری پیدائش سے قبل ہی میرے متعلق مقدّر کر دیا گیا تھا۔ پس آدمؑ موسیٰ ؑ پر غالب رہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال قبل مخلوقات کی تقدیریں لکھ چکا ہے نیز فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر ہے۔ایک اور روایت میں عَرْشُہُ عَلََی الْمَائِ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: یقینا سب بنی آدم کے دل رحمٰن (خدا) کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں۔ وہ اسے جس طرف پھیرنا چاہے پھیر دے۔ پھر رسول اللہﷺ نے(دعا کرتے ہوئے) عرض کیااے اللہ، دلوں کو پھیرنے والے ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دے۔
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے صحابہؓ میں سے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے پایا کہ ہر ایک چیز ایک تقدیر کے مطابق ہے۔ وہ (طاؤس) کہتے ہیں: مَیں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہر ایک چیز ایک تقدیر کے مطابق ہے یہانتک کہ نادانی اور دانائی یا(فرمایا)دانائی اور نادانی۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ مشرکینِ قریش تقدیر کے بارہ میں جھگڑتے ہوئے رسول اللہﷺ کی خدمت میں آئے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے دوزخ کا مزہ چکھو، یقینا ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے مطابق پیدا کیا