بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 36 hadith
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق لَمَم 2سے زیادہ مشابہ کوئی چیزمیں نے نہیں دیکھی جس کے بارہ میں حضرت ابوہریرہؓ بیان کیاکرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا یقینا اللہ نے بدکاری سے ابن آدم کا حصّہ لکھ دیا ہے۔ جسے وہ لازمًا پالیتا ہے۔ پس آنکھوں کی بدکاری دیکھنا ہے اور زبان کی بدکاری بولنا ہے اور نفس خواہش اور تمنّا کرتا ہے اور جسمانی اعضاء اس کی تصدیق یا تکذیب کرتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے مشرکوں کے ان بچوں کے بارہ میں پوچھا گیا جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جاتے ہیں ہیں تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ زیادہ جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے مشرکوں کے بچّوں کے بارہ میں پوچھا گیاتو آپؐ نے فرمایا کہ جب اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے تو وہ اس بارہ میں خوب جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بنی آدم کے لئے بدکاری میں سے اس کا حصّہ لکھ دیاگیا ہے جسے وہ لازمًا پانے والا ہے۔ پس آنکھوں کی بدکاری نظر سے ہے اور کانوں کی بدکاری سننے سے ہے او ر زبان کی بدکاری بات کرنے سے ہے اور ہاتھ کی بدکاری پکڑنے سے ہے پاؤں کی بدکاری چلنے سے ہے۔ دل خواہش اور تمنّا کرتاہے اور جسمانی اعضاء اس کی تصدیق یا تکذیب کرتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت (صحیحہ) پر پیدا کیا جاتاہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی اور مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے ایک چوپایہ سالم چوپائے کو ہی جنم دیتاہے۔ کیا تم اس میں کوئی چیز کٹی ہوئی دیکھتے ہو؟ پھر حضرت ابو ہریرہؓ کہتے تھے کہ اگرتم چاہو تو(یہ آیت) پڑھ لو یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ 1ایک روایت میں جمعاء(سالم)کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت(صحیحہ) پر پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر وہ(ابو ہریرہؓ ) کہتے تھے (یہ آیت)پڑھو۔ یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہ قائم رکھنے اور قائم رہنے والا دین ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت(صحیحہ) پر پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی اور مشرک بنا دیتے ہیں۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! یہ تو بتائیے اگر وہ اس سے قبل مر جائے؟ آپؐ نے فرمایا اللہ اس بارہ میں زیادہ جانتا ہے جو وہ کام کرنے والے تھے۔ ایک روایت میں (اِلَّا وَھُوَ عَلَی الْمِلَّۃ کی بجائے) اِلاَّ عَلَی ھَذِہِ الْمِلَّۃِ حَتَّی یُبَیِّنَ عَنْہُ لِسَانُہُ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں اِلاَّ عَلَی ھَذِہِ الْفِطْرَۃِ حَتَّی یُعَبَّرَ عَنْہُ لِسَانُہُ کے الفاظ ہیں یعنی وہ فطرت ِ (صحیحہ) پر ہوتا ہے جب تک اس کی زبان اس کے خیالات کو بیان نہ کرنے لگے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو (بچہ) پیداہوتا ہے اِسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں جب تمہارے اونٹ بچہ جنتے ہیں۔ کیا تم ان میں کوئی اعضاء کٹا ہوا پاتے ہویہانتک کہ تم خود اُن کے اعضاء نہ کاٹو۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ ! جو بچپن میں مر جائے، اس کے بارہ میں فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ اس بارہ میں جو وہ کرنے والے ہیں خوب جاننے والا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ ہر انسان کو اس کی ماں فطرت پر جنتی ہے۔ بعد میں اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی اور مجوسی بنادیتے ہیں۔ پس اگر دونوں مسلمان ہوں تو وہ (بچہ) بھی مسلمان ہوتا ہے۔ ہر انسان کو جب اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کی کوکھوں میں مارتا ہے سوائے مریم اور اس کے بیٹے کے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا کرنے والے تھے۔ زہری کی روایت میں (اَوْلَادِ الْمُشْرِکِیْن کی بجائے) ذَرَارِیِّ الْمُشْرِکِیْنَ کے الفاظ ہیں۔