بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 160 hadith
حضرت جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا کہ میں تو محض ایک بشر ہوں اور میں نے اپنے رب عزّوجل سے شرط رکھی ہے کہ مسلمانوں میں سے جس بندہ کو میں برا بھلا کہوں یا اس سے تلخ کلامی کروں تو وہ اس کے لئے پاکیزگی اور اجر بن جائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سے بد ترین دورنگی والا ہے۔ جو ان لوگوں کے پاس ایک رخ سے جاتا ہے تو دوسرے لوگوں کے پاس اور رخ سے جاتا ہے۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیمؓ کے پاس ایک یتیم بچی تھی اور وہ (حضرت ام سلیمؓ ) حضرت انسؓ کی والدہ ہیں۔ رسول اللہﷺ نے اس یتیم بچی کو دیکھا تو فرمایا تم وہی ہو، بہت بڑی ہو گئی ہو، اب تمہاری عمر نہ بڑھے۔ تب وہ یتیم بچی روتے ہوئے حضرت ام سلیمؓ کے پاس آگئی تو حضرت ام سلیمؓ نے پوچھا اے میری پیاری بیٹی تجھے کیا ہوا ہے؟ (اس) لڑکی نے کہا اللہ کے نبیﷺ نے میرے خلاف دعا کی ہے کہ میری عمر نہ بڑھے۔ اب کبھی میری عمر نہیں بڑھے گی۔ یا اس نے کہا میرا زمانہ۔ اس پر حضرت ام سلیمؓ جلدی سے اپنی اوڑھنی اوڑھتے ہوئے باہر آئیں اور رسول اللہﷺ سے جاملیں۔ رسول اللہﷺ نے ان سے پوچھا اے اُمّ سلیم! کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! کیا آپؐ نے میری یتیم بچی کے خلاف دعا کی ہے؟آپؐ نے فرمایا ام سلیمؓ ہوا کیا ہے؟ وہ کہنے لگیں اس کا خیال ہے کہ آپؐ نے اسے دعا دی ہے کہ نہ اس کی عمر بڑھے اور نہ اس کا زمانہ بڑھے۔ راوی کہتے ہیں اس پر رسول اللہﷺ مسکرائے پھر فرمایا اے ام سلیمؓ ! کیا تجھے میرے رب سے میری شرط کا پتہ نہیں جو میں نے اپنے رب سے کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا کہ میں تو ایک بشر ہوں اور ایک بشر کی طرح خوش ہوتا ہوں اور ایک بشر کی طرح ناراض (بھی) ہوتا ہوں۔ پس جس کسی کے خلاف میں اپنی امت میں سے اس کے خلاف دعا کروں جس کا وہ اہل نہ ہو تو(اللہ) اسے قیامت کے دن اس کے لئے طہارت، پاکیزگی اور اپنے قرب کا موجب بنادے جو اسے قیامت کے دن اس کے قریب کرے۔ ایک روایت میں (اَلْیَتِیْمَۃکی بجائے) اس کی تصغیر یُتَیِّمَۃ ہے۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہﷺ تشریف لائے تو میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔ وہ کہتے ہیں حضورؐ تشریف لائے اور اپنی ہتھیلی سے میری گردن پر تھپکی دی۔ پھر فرمایا جاؤ اور معاویہ کو میرے پاس بلالاؤ۔ وہ کہتے ہیں میں آیا اور میں نے کہاکہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔ ابن مثنیٰ کہتے ہیں میں نے امیہ سے کہا حَطَأَ نِیکا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا آپؐ نے میری گردن پر ہتھیلی سے تھپکی دی۔ ایک روایت میں (فَتَوَارَیْتُ خَلْفَ بَابٍ کی بجائے) فَاخْتَبَأْتُ کے الفاظ ہیں یعنی میں آپؐ سے چھپ گیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں میں سے بد ترین دو رنگی اختیار کرنے والا ہے۔ جو ان لوگوں کے پاس ایک رخ سے آتا ہے اور ان کے پاس دوسرے رخ سے آتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں میں سے بدترین دو رنگی اختیار کرنے والے کو پاؤ گے جو اِن کے پاس ایک رخ سے جاتا ہے اور اُن کے پاس اور رخ سے جاتا ہے۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حمید بن حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے مجھے بتایا کہ اس کی ماں حضرت ام کلثومؓ بنت عقبہ بن ابی معیط جو ابتدائی ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا جولوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے اور نیک باتیں کہتا ہے اور نیک باتیں پہنچاتا ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے نہیں سناکہ جسے لوگ جھوٹ کہتے ہیں اس بارہ میں رخصت دی گئی ہو سوائے تین موقعوں کے جنگ میں، لوگوں کے مابین اصلاح کروانے میں اور ایک آدمی کی اپنی بیوی سے اور ایک عورت کی اپنے خاوندسے بات کرنے میں۔ ایک روایت میں کَذِبٌ کا لفظ نہیں ہے اور ایک روایت میں (وَیَنْمِیْ خَیْرًا کی بجائے) نَمَی خَیْرًا کے الفاظ ہیں اور اس کے بعد کے الفاظ نہیں ہیں
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ محمدﷺ نے فرمایاکیا میں تمہیں العَضْہکے بارہ میں نہ بتاؤں؟ یہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان پھیلائی جائے اور محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ یقینا ایک شخص سچ بولتا ہے یہانتک کہ صدیق لکھا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے یہانتک کہ کذّاب لکھا جاتا ہے۔
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی یقینا جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ ایک شخص سچ بولتا ہے یہانتک کہ وہ صدیق لکھا جاتا ہے یقینا جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ آگ کی طرف لے جاتا ہے ایک شخص جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے یہانتک کہ کذّاب لکھا جاتا ہے۔
حضرت عبد اللہؓ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا صدق نیکی ہے اور یقینا نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص صدق کے لئے کوشش کرتا ہے یہانتک کہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھا جاتا ہے یقینا جھوٹ گناہ ہے اور گناہ آگ کی طرف لے جاتا ہے ایک شخص جھوٹ کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہانتک کہ کذاّب لکھا جاتا ہے۔