بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 160 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنے بچہ کے ساتھ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ بیمار ہے اور اس کے بارہ میں مجھے اندیشہ ہے کیونکہ میں تین (بچوں ) کو دفن کر چکی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تم نے آگ سے بچاؤ کے لئے بڑی مضبوط روک بنا لی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ روحیں لشکر ہیں جو باہم ربط رکھتے ہیں۔ پس ان میں سے جن کی ایک دوسرے سے پہچان ہوجائے تو الفت ہوجاتی ہے اور جن کی آپس میں پہچان نہ ہو تو (ان میں ) اختلاف ہوجاتا ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک بدوی نے رسول اللہﷺ
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو بلاتا ہے اور کہتا ہے میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر۔ فرمایاتو جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر وہ آسمان میں منادی کرتے ہوئے کہتا ہے اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کے لئے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جب وہ کسی بندہ سے نفرت کرتا ہے۔ تو جبرائیل کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں فلاں کو ناپسند کرتا ہوں تو (بھی) اس کو ناپسند کر۔ فرمایاتو جبرائیل (بھی) اس کو ناپسند کرتا ہے پھر وہ آسمان والوں میں منادی کرتا ہے کہ یقینا اللہ فلاں کو پسندنہیں کرتا تم بھی اس کوناپسند کرو۔ فرمایا کہ وہ بھی اس کو ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ پھرزمین میں اس کے لئے نفرت رکھ دی جاتی ہے۔ ایک اور روایت میں ناپسندیدگی کا بیان نہیں ہے اور ایک روایت میں سہیل بن ابی صالح بیان کرتے ہیں کہ ہم عرفہ کے مقام پر تھے کہ عمر بن عبد العزیزؒ جو اس سال امیر الحجاج تھے گزرے تو لوگ کھڑے ہوکر انہیں دیکھنے لگے۔ میں نے اپنے والد سے کہا اے میرے باپ مجھے یقین ہے کہ اللہ عمر بن عبد العزیز سے محبت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا وہ کیسے؟ میں نے کہا کیونکہ لوگوں کے دلوں میں ان کی بڑی محبت ہے۔ انہوں نے کہا تیرا باپ تجھ پر قربان۔ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہوئے سنا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک حدیث مروی ہے جسے وہ مرفوع بیان کرتے ہیں کہ لوگ چاندی اور سونے کی معدنیات کی طرح ہیں ان میں سے جو جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں (بھی) اچھے ہیں بشرطیکہ (وہ دین میں ) سمجھ بوجھ رکھیں۔ اور روحیں لشکر ہیں جو باہمی ربط رکھتے ہیں جن کا آپس میں تعارف ہوجاتا ہے تو آپس میں الفت رکھتے ہیں اور ان میں سے جن کا تعارف نہیں ہوتا آپس میں اختلاف رکھتے ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! وہ گھڑی کب آئے گی؟ آپؐ نے فرمایا تو نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے؟اس نے کسی بڑی (نیکی) کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے کہا لیکن میں اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا پھر تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم نے محبت کی۔ایک روایت میں ہے کہ ایک بدوی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے بہت تیاری نہیں کی جس پرمَیں اپنے نفس کی تعریف کر سکوں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ!وہ گھڑی کب ہو گی؟ آپؐ نے فرمایا تم نے اس گھڑی کے لئے تیاری کیا کی ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت۔ آپؐ نے فرمایا پھر یقینا تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم نے محبت کی۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ہمیں اسلام لانے کے بعدکسی بات سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی نبیﷺ کے اس قول سے خوشی ہوئی کہ یقینا تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم نے محبت کی۔ حضرت انسؓ نے کہاکہ میں اللہ اور اس کے رسولؐ سے ابو بکرؓ اور عمرؓ سے محبت کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کے ان کے ساتھ رہوں گا خواہ ان کی طرح اعمال نہ بھی کئے ہوں۔ ایک روایت میں حضرت انسؓ کے قول أُحِبُّاور اس کے بعد کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اور میں مسجد سے باہر نکل رہے تھے کہ ہم مسجد کے دروازے پر ایک آدمی سے ملے اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! وہ گھڑی کب آئے گی؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے؟ راوی کہتے ہیں یہ سن کر گو یا وہ شخص دم بخود ہوگیا۔ پھر اس نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے اس کے لئے بہت زیاد ہ نمازیا روزہ یا صدقہ نہیں کیا لیکن میں اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم نے محبت کی۔
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسولؐ اللہ! آپؐ کا اس شخص کے بارہ میں کیا خیال ہے جس نے کسی قوم سے محبت کی لیکن وہ ان سے ابھی تک نہیں ملا؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آدمی اس کے ساتھ (ہی) ہے جس سے اس نے محبت کی۔
حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آپؐ کا اس شخص کے بارہ میں کیا خیال ہے جو نیک کام کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟آپؐ نے فرمایا یہ مومن کو جلد ملنے والی خوشخبری ہے۔ ایک روایت میں (یَحْمَدُہُ کی بجائے) یُحِبُّہُ النَّاسُ کے الفاظ ہیں۔ اور ایک روایت میں (یَحْمَدُہُ النَّاسُ عَلَیْہِکی بجائے) یَحْمَدُہُ النَّاسُ کے الفاظ ہیں۔