بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 160 hadith
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا صدق اختیار کرو یقینا صدق نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ایک آدمی سچ بولتا چلا جاتا ہے اور سچ کے لئے طلب اور کوشش کرتا رہتا ہے یہانتک کہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھا جاتا ہے اور تم جھوٹ سے بچو یقینا جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ آگ کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک آدمی جھوٹ کیلئے کوشش کرتا رہتا ہے یہانتک کہ اللہ کے نزدیک کذاّب لکھا جاتا ہے۔ ایک روایت میں وَ یَتَحَرَّی الصِّدْقَ وَ یَتَحَرَّی الْکَذِبَ کے الفاظ نہیں ہیں اور (حَتَّی یُکْتَبَ عِنْدَ اللَّہِ کی بجائے) حَتَّی یَکْتُبَہُ اللَّہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایاکہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑ پڑے تواسے چاہئے کہ وہ چہرہ(پرمارنے) سے بچے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑ پڑے تو ہرگز چہرے پر طمانچہ نہ مارے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اپنے میں رقوب کس کو شمار کرتے ہو؟ راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کیا کہ وہ جس کی کو ئی اولادنہ ہو۔ آپؐ نے فرمایا رقوب یہ نہیں ہے بلکہ وہ شخص ہے جس نے اپنی اولاد میں سے کسی کو آگے نہ بھیجا ہو۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ تم اپنے میں پہلوان کسے شمار کرتے ہو؟ راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کیا وہ جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ بات نہیں بلکہ (پہلوان) وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ طاقتور وہ نہیں جو پچھاڑ دینے والا ہو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! پھر طاقتور کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے۔
سلیمان بن صرد سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس دو آدمیوں نے برا بھلا کہا تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں اور رگیں پھولنے لگیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر وہ یہ کہے تو جو وہ محسوس کرتا ہے ضرور اس سے جا تا رہے (یعنی) اَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجیم۔ اس پر اس نے(اس کو جس نے یہ پیغام پہنچایا تھا) کہا کیا آپ مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں؟ ابن العلاء نے کہا کہ اس نے کہا کیا آپ مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے الرّجُلُ کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت سلیمان بن صردؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا تو ان میں سے ایک غضبناک ہونے لگا اور اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔ نبیﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر وہ یہ کلمہ اَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجیم کہے تو یہ ضرور اس سے جاتا رہے۔ پھر ایک شخص جس نے نبیﷺ کی یہ بات سنی تھی اس شخص کی طرف چلا گیا اور کہا کیا تمہیں پتہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے ابھی کیا فرمایا ہے؟آپؐ نے فرمایا ہے کہ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں۔ اگر وہ یہ کلمہ (یعنی) اَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم کہے تو وہ ضرور اس (غصّہ) سے جاتا رہے اس پر اس شخص نے کہا کیا تم مجھے دیوانہ سمجھتے ہو؟
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ نے جنت میں آدم کو صورت دی تو جب تک اللہ نے چاہا اسے چھوڑے رکھا۔ تب ابلیس اس کے گرد چکر لگا کردیکھنے لگا کہ وہ کیا ہے۔ جب اس نے اسے دیکھا کہ یہ اندر سے کھوکھلا ہے تو وہ پہچان گیا کہ یہ ایک ایسی تخلیق کی گئی ہے جو اپنے پر قابو نہیں رکھ سکے گی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑپڑے تو اسے چا ہئے کہ وہ چہرہ (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔ ایک روایت میں (اِذَا قَاتَلَ اَحَدُکُم کی بجائے) اِذَا ضَرَبَ اَحَدُکُم کے الفاظ ہیں۔