بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
ابو سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا کہ جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں۔ وہ فرماتی ہیں میں نے کہا اُن پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عائش! یہ جبرائیل ہیں جو تمہیں سلام کہتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے کہا اُن پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ وہ دیکھتے تھے جو میں نہیں دیکھتی تھی۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ (ایک مرتبہ) گیارہ عورتیں بیٹھیں اور انہوں نے باہم عہد و پیمان کیا کہ وہ اپنے خاوندوں کے حالات میں سے کچھ نہ چھپائیں گی۔ پہلی نے کہا میرا خاوند تو لاغر اونٹ کا گوشت ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر ہو، نہ وہ (پہاڑ) اتنا آسان ہے کہ اس پر چڑھا جائے اور نہ وہ گوشت اتنا اچھا موٹا تازہ ہے کہ (وہ نیچے) منتقل کیا جائے۔ دوسری نے کہا اور میرا خاوند! مَیں تو اس کی خبر نہیں پھیلاؤں گی کیونکہ میں ڈرتی ہوں کہ اگر میں اس کا ذکر کروں تو اس کے ظاہری و باطنی سب عیوب بیان کر دوں گی۔ تیسری نے کہا میرا خاوند غیر معمولی طور پر لمبا ہے اگر میں اس کے بارہ میں کچھ بیان کروں تو مجھے طلاق ہو جائے گی اور اگر چپ رہوں تو یوں ہی لٹکتی رہوں۔ چوتھی نے کہا میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح نہ گرم ہے نہ ٹھنڈا نہ اس سے کوئی خوف ہے نہ اکتاہٹ۔ پانچویں نے کہا میرا خاوند گھر داخل ہو تو چیتا ہے باہر نکلے تو شیر ہے اور جس بات کو دیکھتا ہے اس کے بارہ میں پوچھ گچھ نہیں کرتا۔ چھٹی نے کہا میرا خاوند کھانے لگے تو سب کچھ سمیٹ جائے اور اگر پینے لگے تو سب کچھ چڑھا جائے اور جب لیٹتا ہے کپڑے میں لپٹ کر سوتا ہے اور وہ میرے ہم و غم کو جاننے کے لئے میری طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا۔ ساتویں نے کہا میرا خاوند نامرد ہے یا (کہا) بھٹکا ہوا ہے، احمق ہے۔ ہر قسم کی مرض کا مارا ہوا ہے اور وہ تیرا سر پھوڑے یا ہاتھ پاؤں توڑے یا دونوں کام تیرے ساتھ کرے۔ آٹھویں نے کہا میرے خاوند کی خوشبو زعفران کی خوشبو اور اسے چھوؤ تو خرگوش کی طرح (نرم)۔ نویں نے کہا میرا خاوند بلند عمارت والا سردار ہے اور قد آور بہادر ہے اور بہت مہمان نواز ہے۔ مجلس مشورہ کے قریب ہی اس کا گھر ہے۔ دسوِیں نے کہا میرا خاوند مالک ہے اور مالک کے کیا کہنے ! مالک اس سے کہیں بہتر ہے۔ اس کے بہت سے اونٹ ہیں جو زیادہ باڑوں میں رہتے ہیں، چراگاہوں میں کم ملتے ہیں۔ جب وہ باجے کی آواز سنتے ہیں تو یقین کر لیتے ہیں کہ اب وہ ذبح ہونے والے ہیں۔ گیارہویں نے کہا میرا خاوند ابو زرع ہے اور کیا بات ہے ابو زرع کی۔ اُس نے زیورات سے میرے کان جھکا دئیے اور چربی سے میرے بازو موٹے کر دئیے اُس نے مجھے خوش رکھا تو میں خوش ہو کر اپنے آپ پر فخر کرنے لگی۔ اُس نے مجھے چند بکریوں والوں کے پاس پایا جو سخت زندگی گزار رہے تھے اور مجھے گھوڑوں اور اونٹوں گائیوں بیلوں اور مختلف پالتو پرندوں والا بنا دیا میں اس کے سامنے بات کرتی ہوں تو مجھے برا نہیں کہا جاتا۔ میں سوتی ہوں تو صبح کر دیتی ہوں اور پیتی ہوں تو سیر ہو جاتی ہوں کہ مزید پینے سے جی اکتاتا ہے۔ ابو زرع کی ماں ! کیا ہی خوب ہے ابو زرع کی ماں۔ اس کے غلہ کے تھیلے بڑے بڑے اور بھاری ہیں اور اس کا گھر کشادہ ہے ابو زرع کا بیٹا! کیا ہی اچھا ہے ابو زرع کا بیٹا! اس کا بستر سونتی ہوئی تلوار کی مانند ہے اور بکری کے بچے کی ایک دستی بھی اسے سیر کر دیتی ہے۔ ابو زرع کی بیٹی! اور ابو زرع کی بیٹی کیا ہی خوب ہے۔ اپنے باپ کی فرمانبردار اور اپنی ماں کی فرمانبردار۔ ایسی موٹی تازی کہ اپنی چادر کو بھر دے جو ہمسائی کے لئے باعث رشک ہے۔ ابو زرع کی خادمہ! ابو زرع کی خادمہ بھی کیا خوب ہے۔ نہ ہماری باتوں کی تشہیر کرتی ہے اور نہ ہمارا کھانا چراتی ہے اور ہمارا گھر گندا نہیں ہونے دیتی۔ اُس نے کہا ایک دن ابو زرع (گھر سے) نکلا جب کہ دودھ کے برتن بلوئے جا رہے تھے۔ وہ ایک عورت سے ملا جس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے جیسے دو چیتے۔ وہ اس کے پہلو کے نیچے دو اناروں سے کھیل رہے تھے۔ تو اس نے مجھے طلاق دے دی اور اس کے ساتھ نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے بھی ایک شریف آدمی سے نکاح کر لیا جو بہترین گھڑ سوار اور نیزہ باز تھا۔ اُس نے مجھے بہت سے اونٹ دئیے اور ہر قسم کے مویشیوں میں سے جوڑا مجھے عطا کیا اور کہا اے ام زرع !خود بھی کھاؤ اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلاؤ۔ وہ کہتی ہے کہ اگر میں اس کی ہر چیز جمع کر لوں جو اُس نے مجھے دی ہے تو ابو زرع کا سب سے چھوٹا برتن بھی اس سے نہ بھرے۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’میں تیرے لئے ایسا ہی ہوں جیسا ام زرع کے لئے ابو زرع‘‘۔ ایک روایت میں (طَبََاقَائُ کی بجائے) عَیَایَائُ طَبَاقَائُ کے الفاظ ہیں مگر اس میں شک کا اظہار نہیں۔ ایک اور روایت میں وَصِفْرُ رِدَائِھَا وَخَیْرُ نِسَائِھَا وَ عَقْرُ جَارَتِھَا کے الفاظ ہیں یعنی اس کی چادر خالی ہے (یعنی وہ دبلی ہے) اور وہ اس کی عورتوں میں بہترین ہے اور اپنی پڑوسن کے لئے حسد کا باعث ہے۔ ایک روایت میں (تُنَقِّثُ کی بجائے) تَنْقُثُ ہے۔ اور اس نے مجھے ذبح کئے جانے والے جانور کا جوڑا دیا۔
حضرت مِسور بن مخرمہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ بنی ہشام بن مغیرہ نے اپنی بیٹی کا نکاح علیؓ بن ابو طالب سے کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی لیکن میں انہیں اجازت نہیں دوں گا، میں انہیں اجازت نہیں دوں گا، میں انہیں اجازت نہیں دوں گا، سوائے اس کے ابن ابی طالب یہ پسند کرے کہ میری بیٹی کو طلاق دے اور ان کی بیٹی سے نکاح کرے کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے۔ جو چیز اسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے پریشان کرتی ہے۔ جو اسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔
حضرت مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا فاطمہؓ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جو بات اسے تکلیف دے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔
علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ جب وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے ہو کر وہ لوگ (اہلِ بیت) مدینہ منورہ آئے تو مِسورؓ بن مخرمہ انہیں ملے اور ان سے کہا کیا آپ کو مجھ سے کوئی خدمت چاہئے جس کا آپ مجھے حکم دیں۔ وہ کہتے ہیں میں نے انہیں کہا نہیں۔ انہوں نے ان سے کہا کیا آپ مجھے رسول اللہﷺ کی تلوار دیں گے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ آپ پر قوم غالب نہ آجائے۔ لیکن خدا کی قسم اگر آپ مجھے یہ (تلوار) دے دیں تو جب تک میں زندہ ہوں کوئی اس تک پہنچ نہ سکے گا۔ حضرت علی بن ابو طالبؓ نے حضرت فاطمہؓ کی موجودگی میں ابو جہل کی بیٹی کو شادی کا پیغام بھیجا تو میں نے رسول اللہﷺ سے اس بارہ میں اپنے اس منبر پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سنا اور میں ان دنوں بالغ ہو چکا تھا۔ آپؐ نے فرمایا یقینا فاطمہؓ مجھ سے ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ اپنے دین کے بارہ میں کسی آزمائش میں نہ ڈالی جائے۔ پھر آپؐ نے بنی عبد شمس سے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا اور بطور داماد اس کے حسنِ سلوک کی تعریف فرمائی۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کی، اسے میرے ساتھ سچ کر دکھایا اور مجھ سے وعدہ کیا، اسے پورا کیا۔ یقینا میں حلال کو حرام نہیں کرتا اور نہ حرام کو حلال قرار دیتا ہوں لیکن خدا کی قسم اللہ کے رسولﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔
علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہؓ نے انہیں بتایا کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب نے رسول اللہﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کی موجودگی میں ابو جہل کی بیٹی سے شادی کا پیغام بھیجا۔ جب حضرت فاطمہؓ نے یہ بات سنی تو نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپؐ سے عرض کیا کہ آپ کے خاندان کے لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ آپﷺ اپنی بیٹیوں کے لئے غصہ نہیں ہوتے اور یہ علیؓ تو ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے لگے ہیں۔ حضرت مِسورؓ کہتے ہیں نبیﷺ کھڑے ہوئے پھر میں نے آپؐ کو تشہد پڑھتے ہوئے سنا۔ پھر آپؐ نے فرمایا اما بعد میں نے (اپنی بیٹی) ابو العاص بن ربیع کو نکاح میں دی۔ اس نے مجھ سے جو بات کی اسے سچ کر دکھایا اور یقینا فاطمہؓ تو میرے جسم کا حصہ ہے۔ میں پسند نہیں کرتا کہ وہ اسے مصیبت میں مبتلا کریں اور خدا کی قسم! اللہ کے رسولﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک آدمی کے ہاں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت علیؓ نے اس پیغام نکاح کو ترک کردیا۔
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمہؓ کو بلایا اور ان سے کوئی سرگوشی کی۔ اس پر فاطمہؓ رو پڑیں، آپؐ نے پھر ان سے سرگوشی کی۔ تو وہ (فاطمہؓ) ہنس پڑیں حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے فاطمہؓ سے پوچھا وہ کیا بات ہے جو رسول اللہﷺ نے تمہارے کان میں کہی تو تم رو پڑیں پھر جب تمہارے کان میں (کوئی) بات کہی تو تم ہنس پڑیں۔ حضرت فاطمہؓ نے کہا کہ آپؐ نے میرے کان میں بات کہی تو آپ نے مجھے اپنی وفات کی خبر دی، اس پر میں رو پڑی۔ پھر آپؐ نے میرے کان میں بات کی تو مجھے بتایا کہ آپؐ کے خاندان میں سب سے پہلے میں آپؐ سے ملوں گی اس پر میں ہنس پڑی۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبیﷺ کی ازواج مطہراتؓ حضورؐ کے پاس تھیں۔ ایک بھی غیر حاضر نہیں تھی۔ حضرت فاطمہؓ چلتی ہوئی آئیں۔ آپؓ کے چلنے کا انداز رسول اللہﷺ کے چلنے کے انداز سے مختلف نہ تھا۔ جب حضورؐ نے انہیں دیکھا تو انہیں مرحبا کہا اور فرمایا خوش آمدید میری بیٹی! پھر انہیں اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا پھر ان سے سرگوشی کی جس پر حضرت فاطمہؓ بہت روئیں۔ جب آپؐ نے ان کی تکلیف دیکھی تو دوسری مرتبہ ان سے سرگوشی کی۔ اس پر وہ ہنس پڑیں۔ وہ (حضرت عائشہؓ) فرماتی ہیں میں نے فاطمہؓ سے کہا کہ رسول اللہﷺ نے اپنی ازواجؓ مطہرات کی موجودگی میں خاص تم سے سرگوشی کی، پھر بھی تم روتی ہو۔ رسول اللہﷺ نے تم سے کیا فرمایا ہے؟ حضرت فاطمہؓ نے کہا کہ میں رسول اللہﷺ کا راز افشاء نہ کروں گی۔ وہ (حضرت عائشہؓ) فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی۔ میں نے کہا کہ مَیں تمہیں قسم دیتی ہوں کیونکہ میرا جو تم پر حق ہے اس کی وجہ سے تم مجھے بتاؤ گی کہ رسول اللہﷺ نے تمہیں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں اب بتائے دیتی ہوں۔ جب پہلی بار آپؐ نے میرے کان میں بات کی تو مجھے بتایا کہ جبرائیل ہر سال آپؐ کے ساتھ ایک بار قرآن کا دور کرتے تھے لیکن اس دفعہ انہوں نے آپؐ کے ساتھ دو مرتبہ قرآن کا دور کیا۔ (آپؐ نے فرمایا) میرے خیال میں اب میری وفات قریب ہے۔ تم اللہ کا تقوٰی اختیار کرنا اور صبر کرنا، میں تمہارے لئے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں۔ حضرت فاطمہؓ کہتی ہیں اس پر میں رو پڑی جو رونا میرا آپ نے دیکھا لیکن جب آپؐ نے میری تکلیف دیکھی تو دوسری دفعہ میرے کان میں بات کہی اور فرمایا اے فاطمہؓ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم مومن عورتوں کی سردار ہو یا فرمایا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو۔ حضرت فاطمہؓ نے کہا اس پر میں ہنس پڑی جیسا میرا ہنسنا آپؓ نے دیکھا۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبیﷺ کی ازواج مطہراتؓ جمع تھیں ان میں سے ایک بھی غیر حاضر نہیں تھی کہ فاطمہؓ چلتی ہوئی آئیں، ان کے چلنے کا انداز رسول اللہﷺ کے چلنے کے انداز کی طرح تھا۔ آپؐ نے فرمایا خوش آمدید میری بیٹی! پھر آپؐ نے انہیں (فاطمہؓ ) اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھا دیا پھر آپؐ نے (فاطمہؓ ) سے کوئی راز کی بات کہی تو حضرت فاطمہؓ رو پڑیں پھر آپؐ نے ان سے کان میں راز کی بات کہی تو وہ ہنس پڑیں۔ میں نے ان (فاطمہؓ ) سے کہا کہ تمہیں کس بات نے رلایا؟ انہوں نے کہا میں رسول اللہﷺ کے راز کو افشاء نہ کروں گی۔ میں نے کہا جب وہ روئیں تو میں نے خوشی کو غم کے اتنا قریب آج کی طرح نہیں دیکھا۔ پھر میں نے ان (فاطمہؓ ) سے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ہم سب کو چھوڑ کر تمہیں اپنی بات بتانے کے لئے مخصوص کیا پھر بھی تم روتی ہو؟ پھر میں نے ان سے اس بارہ میں پوچھا جو آپؐ نے فرمایا تھا۔ اس پر حضرت فاطمہؓ نے کہا کہ میں رسول اللہﷺ کا راز افشاء نہیں کروں گی۔ پھر جب رسول اللہﷺ کی وفات ہوگئی تب میں نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے مجھے بتایا کہ حضرت جبرائیل ہر سال ایک مرتبہ آپؐ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے لیکن اس سال انہوں نے آپؐ کے ساتھ دو مرتبہ قرآن کا دور کیا۔ میرا خیال ہے کہ میری وفات قریب ہے اور میرے خاندان میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی اور میں تمہارے لئے کیا اچھا پیش رو ہوں۔ اس پر میں رو پڑی پھر آپؐ نے مجھ سے کان میں بات کی تو فرمایا کیا تم خوش نہیں کہ تم مومن عورتوں کی سردار ہوگی یا فرمایا اس امت کی عورتوں کی سردار ہوگی۔ اس وجہ سے میں ہنس پڑی۔