بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا مجھے معلوم ہو جاتا ہے جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے روٹھی ہوتی ہو۔ میں نے عرض کیا آپؐ کو یہ کیسے پتہ لگتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں محمدؐ کے رب کی قسم اور جب تم مجھ سے روٹھی ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں قسم ہے ابراہیمؑ کے رب کی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے کہا جی ہاں خدا کی قسم یا رسولؐ اللہ! میں صرف آپؐ کا نام چھوڑتی ہوں۔ ایک اور روایت میں ’’لَا وَرَبِّ اِبْرَاہِیْمَ‘‘ کے الفاظ تک ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میرے پاس میری سہیلیاں آتیں تو رسول اللہﷺ سے چھپ جاتیں۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ انہیں میری طرف بھیج دیا کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ میں آپؐ کے گھر میں بنات سے کھیلا کرتی تھی اور بنات سے مراد گڑیاں ہیں۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ لوگ اپنے تحائف کے لئے حضرت عائشہؓ کی باری کے انتظار میں رہتے۔ وہ اس سے رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی چاہتے تھے۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہراتؓ نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔ حضرت فاطمہؓ نے آپؐ سے اجازت طلب کی اس وقت آپؐ میرے ساتھ میری چادر میں لیٹے ہوئے تھے۔ آپؐ نے انہیں (حضرت فاطمہؓ کو) اجازت دی۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کی ازواج نے مجھے آپؐ کے پاس بھیجا ہے۔ وہ ابو قحافہ کی بیٹی کے بارہ میں آپؐ سے انصاف چاہتی ہیں۔ (حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں) اور میں خاموش رہی۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اے میری پیاری بیٹی! کیا تمہیں وہ پسند نہیں جو میں پسند کرتا ہوں۔ اس پر وہ کہنے لگیں کیوں نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر اس (عائشہ) سے محبت کرو۔ وہ (حضرت عائشہؓ) فرماتی ہیں جب حضرت فاطمہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئیں، نبی ﷺ کی ازواجؓ کے پاس واپس گئیں اور انہیں وہ بتایا جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا اور جو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا۔ اس پر انہوں نے حضرت فاطمہؓ سے کہا ہمارا نہیں خیال کہ تم ہمارے کچھ کام آئی ہو، اس لئے دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپؓ سے عرض کرو کہ آپؐ کی ازواجؓ ابو قحافہ کی بیٹی کے بارہ میں آپؐ سے انصاف مانگتی ہیں۔ اس پر حضرت فاطمہؓ نے کہا کہ خدا کی قسم اس بارہ میں اب میں آپؐ سے کبھی بات نہ کروں گی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پھر نبی ﷺ کی ازواجؓ نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت زینبؓ بنت جحش کو بھیجا جو ازواجؓ میں سے صرف اکیلی حضورؐ کی نظر میں مقام کے لئے میرا مقابلہ کیا کرتی تھیں۔ میں نے زینبؓ سے بڑھ کر کسی عورت کو دین کے لحاظ سے بہتر نہیں دیکھا۔ وہ اللہ کا سب سے زیادہ تقویٰ رکھنے والی اور بات کرنے میں سب سے زیادہ سچی اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والی اور سب سے زیادہ صدقہ کرنے والی اور اس کام میں جس کے ذریعہ آپؓ صدقہ کرتیں اور اللہ کا قرب حاصل کرتیں اپنی جان کو سب سے زیادہ ہلکان کرنے والی تھیں۔ البتہ ایک تیزی ان میں تھی کہ جلدی غصہ میں آجاتی تھیں لیکن اس سے بھی جلدی رجوع کر لیتی تھیں۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ انہوں (حضرت زینبؓ) نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی _ رسول اللہ ﷺ اس وقت حضرت عائشہؓ کے ساتھ چادر میں اسی حالت میں تھے جس میں حضرت فاطمہؓ کے آنے پر تھے _ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت عطا فرمائی تو انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کی ازواجؓ نے مجھے آپؐ کے پاس بھیجا ہے۔ وہ آپؐ سے ابو قحافہ کی بیٹی کے بارہ میں انصاف مانگتی ہیں۔ آپؓ (حضرت عائشہؓ) فرماتی ہیں پھر زینبؓ نے مجھے ملامت کی اور کرتی چلی گئیں۔ میں رسول اللہ
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی آخری بیماری میں) استفسار کرتے کہ آج میری باری کہاں ہوگی، کل میری باری کہاں ہوگی۔ حضرت عائشہؓ کی باری میں تاخیر کا احساس کرتے ہوئے وہ فرماتی ہیں اور جب میری باری تھی تو اللہ نے آپؐ کو وفات دی، آپؐ نے میرے سینہ کا سہارا لیا ہوا تھا۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو آپؓ کی وفات سے قبل جب آپؐ ان کے سینہ سے سہارا لئے ہوئے تھے اور وہ آپؐ کی طرف کان لگائے ہوئے تھیں یہ فرماتے ہوئے سنا اے اللہ! میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق سے ملا دے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں سنا کرتی تھی کہ نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا جب تک اسے دنیا و آخرت کے درمیان اختیار نہیں دیا جاتا۔ آپؓ (حضرت عائشہؓ) فرماتی ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو آپؐ کی مرض الموت میں مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْھِمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآئِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ أُولَٓئِکَ رَفِیْقًا۔۔۔ کہتے ہوئے سنا اور اس وقت آپؐ کی آواز بھرا گئی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں مجھے خیال ہوا اس وقت آپؐ کو (دنیا و آخرت کے درمیان) اختیار دیا گیا تھا۔
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ صحت مند تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ کسی نبی کو وفات نہیں دی گئی جب تک کہ وہ جنت میں اپنی جگہ نہ دیکھ لے پھر اسے اختیار دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کا وقت قریب آیا، آپؐ کا سر میری ران پر تھا کچھ وقت تو آپؐ پر غشی طاری رہی پھر افاقہ ہوا تو آپؐ نے اپنی نظر اوپر چھت کی طرف اٹھائی پھر فرمایا اَللَّھُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلَی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے سوچا اب آپؐ ہمیں اختیار نہیں فرمائیں گے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں تب مجھے وہ بات سمجھ آئی جو آپؐ اپنی گفتگو میں بیان کیا کرتے تھے، جب آپؐ تندرست تھے کہ اس وقت تک کسی نبی کی وفات نہیں ہوتی جب تک وہ جنت میں اپنی جگہ نہ دیکھ لے پھر اسے اختیار دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ یہ ہے آخری بات جو رسول اللہﷺ نے فرمائی اَللَّھُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلَی۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج مطہراتؓ کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے (ایک مرتبہ) حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کے نام قرعہ نکلا۔ آپ دونوں اکٹھی رسول اللہﷺ کے ساتھ سفر پر گئیں جب رات ہوتی تو رسول اللہﷺ حضرت عائشہؓ کے ساتھ چلتے، ان سے باتیں کرتے۔ (ایک دفعہ) حضرت حفصہؓ نے حضرت عائشہؓ سے کہا کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آج رات آپ میرے اونٹ پر سوار ہو جائیں اور میں آپ کے اونٹ پر سوار ہو جاؤں؟ پھر آپ دیکھیں گی اور میں بھی دیکھوں گی۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں تو حضرت عائشہؓ حضرت حفصہؓ کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور حضرت حفصہؓ حضرت عائشہؓ کے اونٹ پر سوار ہو گئیں رسول اللہﷺ حضرت عائشہؓ کے اونٹ کی طرف آئے، اس پر حضرت حفصہؓ تھیں۔ حضورؐ نے سلام کہا اور ان کے ساتھ چلے یہانتک کہ لوگوں نے پڑاؤ کیا۔ جب حضرت عائشہؓ نے آپؐ کی غیر موجودگی کو محسوس کیا تو انہیں غیرت آئی جب لوگوں نے پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہؓ اپنے پاؤں اذخر گھاس میں ڈالنے لگیں اور کہا میرے رب مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے۔ یہ تیرے رسولؐ ہیں میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عورتوں پر عائشہؓ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی باقی سارے کھانوں پر فضیلت ہے۔