بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت سلمانؓ بیان کرتے ہیں کہ اگر تم سے ہو سکے تو کبھی بازار میں سب سے پہلے داخل مت ہو اور نہ ہی سب سے آخر میں اس سے نکلو کیونکہ بازار شیطان کا میدانِ جنگ ہے اور یہیں پر شیطان اپنا جھنڈا گاڑتا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ جبرائیل اللہ کے نبیﷺ کے پاس آئے اور حضرت ام سلمہؓ حضورؐ کے پاس تھیں۔ وہ (سلمانؓ ) کہتے ہیں پھر وہ (جبرائیل) باتیں کرنے لگے پھر جب وہ (جبرائیل) تشریف لے گئے تو اللہ کے نبیﷺ نے حضرت ام سلمہؓ سے پوچھا یہ کون تھے یا جیسے آپؐ نے فرمایا۔ انہوں (حضرت ام سلمہؓ ) نے کہا یہ دِحیہؓ تھے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ام سلمہؓ نے کہا کہ خدا کی قسم! میں تو انہیں وہی (دِحیہؓ ) سمجھتی رہی جب تک کہ میں نے اللہ کے نبیﷺ کا خطاب نہ سن لیا جس میں آپؐ نے ہمارا یہ واقعہ بیان فرمایا ہے یا جیسا آپؐ نے فرمایا۔ راوی سُلیمان کہتے ہیں میں نے ابو عثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ بات کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا حضرت اسامہؓ بن زید سے۔
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی جو سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ وہ (ازواجؓ مطہرات) آپس میں اپنے ہاتھ ناپنے لگیں کہ ان میں سے کون زیادہ لمبے ہاتھوں والی ہے۔ آپؓ فرماتی ہیں (مگر) ہم میں سے سب سے لمبے ہاتھوں والی حضرت زینبؓ (ثابت) ہوئیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتیں اور صدقہ کیا کرتی تھیں۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ حضرت اُمّ ایمنؓ کے ہاں گئے، میں بھی آپؐ کے ساتھ گیا۔ انہوں نے آپؐ کو ایک برتن دیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے آپؐ کو روزہ سے پایا یا آپؐ کو اس کی خواہش نہیں تھی۔ چنانچہ وہ اُمّ ایمن آپؐ کو زور زور سے بول کر پینے کی ترغیب دینے لگیں اور غصہ ہونے لگیں۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا ہمارے ساتھ حضرت ام ایمنؓ کے ہاں چلو کہ ان سے ملیں جس طرح رسول اللہﷺ اُن سے ملا کرتے تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رو پڑیں۔ اس پر اُن دونوں نے اُنہیں کہا آپؓ کیوں روتی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسولﷺ کے لئے بہتر ہے۔ حضرت اُمّ ایمنؓ نے کہا کہ میں اس لئے نہیں روتی کہ جانتی نہیں ہوں کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسولﷺ کے لئے بہتر ہے۔ میں تو اس لئے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی آنا بند ہوگئی ہے۔ انہوں نے ان دونوں کو بھی رُلا دیا اور وہ دونوں بھی رونے لگے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ عورتوں میں سے اپنی ازواجؓ کے سوا کسی کے گھر نہ جاتے، ہاں حضرت ام سلیمؓ کے گھر جاتے۔ اس بارہ میں آپؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا مجھے اس پر رحم آتا ہے کیونکہ اس کا بھائی میرے ساتھ مارا گیا تھا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے قدموں کی چاپ سنی۔ میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ غمیصاء بنت ملحانؓ ہے انس بن مالکؓ کی ماں۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے ابو طلحہؓ کی بیوی کو دیکھا پھر میں نے اپنے آگے قدموں کی چاپ سنی تو وہ بلالؓ تھے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہؓ کا ایک بیٹا جو حضرت اُمّ سلیمؓ سے تھا فوت ہوگیا تو حضرت ام سلیمؓ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ابو طلحہؓ کو ان کے بیٹے (کی وفات) کے بارہ میں نہ بتانا جب تک میں انہیں نہ بتاؤں۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو طلحہؓ آئے اور انہوں (حضرت ام سلیمؓ) نے رات کا کھانا انہیں پیش کیا اور انہوں نے کھایا اور پیا۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں پھر ام سلیمؓ نے ان (حضرت ابو طلحہؓ) کے لئے خوب بناؤ سنگھا ر کیا اس سے زیادہ جو وہ پہلے کیا کرتی تھیں۔ پھر حضرت ابو طلحہؓ نے حضرت اُمّ سلیمؓ سے مقاربت کی۔ جب حضرت اُمّ سلیمؓ نے دیکھا کہ وہ سیر ہوگئے ہیں اور ان سے فارغ ہوگئے ہیں انہوں نے کہا اے ابو طلحہؓ! کیا خیال ہے اگر کچھ لوگ کسی گھر والے کو عاریۃً کوئی چیز دیں پھر وہ اپنی عاریۃً دی ہوئی چیز مانگیں تو کیا ان کے لئے جائز ہوگا کہ وہ اس (چیز) کو روک رکھیں؟ انہوں (حضرت ابو طلحہؓ) نے کہا نہیں۔ انہوں (حضرت ام سلیمؓ) نے کہا پھر اپنے بیٹے کی وفات پر صبر کرو۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں وہ اس پر ناراض ہوئے اور کہا کہ تم نے مجھے بتایا نہیں حتیٰ کہ میں آلودہ ہوا۔ پھر تم نے مجھے میرے بیٹے کے بارہ میں بتایا۔ چنانچہ وہ (حضرت ابو طلحہؓ) چل پڑے یہانتک کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو بتایا جو ہوا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اس پر فرمایا اللہ تم دونوں کی گذشتہ رات میں برکت ڈالے۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں پھر وہ (حضرت اُمّ سلیمؓ) حاملہ ہوگئیں۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سفر میں تھے اور وہ (حضرت اُمّ سلیمؓ) بھی آپؐ کے ہمراہ تھیں _اور جب رسول اللہﷺ سفر سے واپس مدینہ تشریف لاتے تو رات کو بغیر اطلاع داخل نہ ہوتے _ پس جب وہ لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو انہیں (حضرت ام سلیمؓ کو) دردِ زہ ہونے لگی تو حضرت ابو طلحہؓ کو ان کے پاس روک لیا گیا اور رسول اللہﷺ روانہ ہو گئے۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں کہ ابو طلحہؓ کہنے لگے اے میرے رب تو جانتا ہی ہے کہ یہ بات مجھے بہت پسند ہے کہ میں تیرے رسولؐ کے ساتھ باہر جاؤں جب وہ باہر جائیں اور جب وہ (شہر کے) اندر آئیں تو میں ان کے ہمراہ اندر آؤں اور تو جانتا ہے کہ مجھے روک لیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت اُمّ سلیمؓ کہنے لگیں اے ابو طلحہؓ! اب میں پہلے جیسا (درد) محسوس نہیں کرتی، چلیں۔ ہم چل پڑے راوی کہتے ہیں جب وہ دونوں (مدینہ) آگئے تو اُن کو دردِ زہ ہوئی۔ پھر انہوں نے ایک لڑکے کو جنم دیا۔ (حضرت انسؓ کہتے ہیں) میری ماں نے مجھے کہا اے انسؓ! اس وقت تک کوئی اسے دودھ نہ پلائے گا جب تک تم صبح اسے رسول اللہﷺ کی خدمت میں نہ لے جاؤ۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو میں نے اسے اُٹھایا اور اسے لے کر رسول اللہﷺ کی طرف چل پڑا۔ وہ کہتے ہیں میں نے آپؐ کو پایا کہ آپؐ کے پاس ایک نشان لگانے والا آلہ ہے۔ جب آپؐ نے مجھے دیکھا تو فرمایا لگتا ہے ام سلیمؓ کے بچہ ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ چنانچہ آپؐ نے نشان لگانے والا آلہ رکھ دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے لاکر آپؐ کی گود میں ڈال دیا اور رسول اللہﷺ نے مدینہ کی عجوہ کھجور منگوائی اور اسے اپنے منہ میں اتنا چبایا کہ وہ نرم ہوگئی پھر آپؐ نے اسے اس بچہ کے منہ میں ڈالا تو وہ اسے چوسنے لگا۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا دیکھو انصارؓ کی کھجور سے محبت۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ نے اس کے چہرہ پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے صبح کی نماز کے وقت حضرت بلالؓ سے فرمایا اے بلالؓ ! مجھے اسلام میں اپنے ایسے عمل کے بارہ میں بتاؤ جس کے نفع کی تمہیں سب سے زیادہ امید ہو کیونکہ رات میں نے تمہارے قدموں کی چاپ جنت میں اپنے آگے سنی ہے۔ بلالؓ نے عرض کیا سوائے اس کے میں نے اسلام میں اور کوئی عمل ایسا نہیں کیا جس کے نفع کی امید مجھے سب سے زیادہ ہو کہ جب بھی میں دن یا رات کی کسی گھڑی پورا وضوء کرتا ہوں تو اس وضوء سے نماز پڑھ لیتا ہوں جتنا اللہ نے میرے لئے نماز پڑھنا مقدر کیا ہوتا ہے۔
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوْا۔۔۔ الآیۃ وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھاتے ہیں بشرطیکہ وہ تقوٰی اختیار کریں اور ایمان لائیں۔ نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ تم ان میں سے ہو۔