بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آئے۔ ایک وقت تک ہم حضرت ابن مسعودؓ اور ان کی والدہ کو بکثرت رسول اللہﷺ کے پاس آنے اور ان کی حضورؐ سے وابستگی کے باعث رسول اللہﷺ کے اہل بیت میں سے سمجھتے تھے۔ ایک اور روایت میں (قَدِمْتُ کی بجائے) یَقُوْلُ لَقَدْ قَدِمْتُ کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں ہے حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں سمجھتا تھا کہ حضرت عبد اللہؓ اہل بیت میں سے ہیں یا انہوں نے اس جیسی بات بیان کی۔
ابو الاحوص بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابن مسعودؓ کی وفات ہوئی تو میں حضرت ابو موسیٰؓ اور حضرت ابو مسعودؓ کے پاس تھا تو ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا تمہارا کیا خیال ہے، کیا انہوں نے اپنے بعد اپنے جیسا کوئی پیچھے چھوڑا ہے؟ انہوں نے کہا کہ تم ان کے بارہ میں یہ کہتے ہو! جب ہمیں روکا جاتا تھا تو انہیں اجازت دی جاتی تھی اور جب ہم موجود نہ ہوتے تو وہ حاضر ہوتے تھے۔
ابو الاحوص بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہؓ کے ساتھیوں کے ہمراہ حضرت ابو موسیٰؓ کے گھر میں تھے اور وہ لوگ مصحف دیکھ رہے تھے کہ حضرت عبد اللہؓ کھڑے ہوئے اور حضرت ابو مسعودؓ نے کہا کہ میرے علم میں نہیں کہ جو اللہ نے اتارا ہے اس کھڑے ہوئے شخص سے زیادہ جاننے والا رسول اللہﷺ نے اپنے بعد چھوڑا ہو۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا اگر تم یہ کہہ رہے ہو ٹھیک۔ جب ہم غیر حاضر ہوتے تھے تو یہ حاضر ہوتے تھے اور جب ہمیں روکا جاتا تھا تو انہیں اجازت دی جاتی تھی۔ ایک اور روایت میں (کُنَّا فِیْ دَارِ اَبِیْ مُوْسَی مَعَ نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِ عَبْدِ اللَّہِ کی بجائے) اَتَیْتُ أَبَا مُوْسَی فَوَجَدْتُ عَبْدَ اللَّہِ وَ أَبَا مُوْسَی کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں ہے کُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَیْفَۃَ وَ أَبِیْ مُوْسَی۔۔۔
شقیق سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہؓ نے یہ آیت پڑھی وَمَنْ یَغْلُلْ یَأْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ جو خیانت کرے گا قیامت کے دن اس خیانت کے ساتھ آئے گا۔ پھر کہا کہ تم مجھے کس کی قراءت پر قرآن پڑھنے کا کہتے ہو۔ میں نے رسول اللہﷺ کے سامنے ستر سے کچھ زیادہ سورتیں پڑھی ہیں اور رسول اللہﷺ کے صحابہؓ جانتے تھے کہ میں ان میں سب سے زیادہ کتاب اللہ (کی قرا ء توں) کو جاننے والا ہوں اور اگر مجھے پتہ چلتا کہ کوئی میرے سے زیادہ جاننے والا ہے تو میں اس کے پاس چلا جاتا۔ شقیق کہتے ہیں کہ میں حضرت محمدﷺ کے صحابہؓ کی مجالس میں بیٹھا تو میں نے کسی کو ان کی اس بات کو رد کرتے یا اس میں عیب نکالتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں اس کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کتاب اللہ کی کوئی سورت ایسی نہیں جس کے بارہ میں مجھے یہ پتہ نہ ہو کہ وہ کب اور کہاں نازل ہوئی اور کوئی آیت ایسی نہیں جس کے بارہ میں مجھے یہ علم نہ ہو کہ وہ کس کے بارہ میں نازل ہوئی اور اگر مجھے کسی کے بارہ میں یہ پتہ لگتا کہ وہ مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جانتا ہے جس تک اونٹ پہنچ سکتے تو میں ضرور اس کی طرف سوار ہو کر جاتا۔
مسروق کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کے پاس جایا کرتے تھے اور ان سے باتیں کیا کرتے تھے _ ایک روایت میں اِلَیْہِ کی بجائے عِنْدََہُ کے الفاظ استعمال کئے ہیں _ ہم نے ایک دن حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا ذکر کیا تو انہوں (حضرت عبد اللہ بن عمروؓ) نے کہا تم نے ایسے شخص کا ذکر کیا ہے کہ جب سے میں نے رسول اللہﷺ سے ان کے بارہ میں کچھ سنا ہے میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو، ابن ام عبدؓ سے _ آپؐ نے ابتداء ان سے کی _ اور معاذؓ بن جبل سے، اُبیَّ بن کعبؓ سے اور ابو حذیفہؓ کے حلیف سالمؓ سے۔
مسروق کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اللہؓ بن عمرو کے پاس تھے اور ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی ایک روایت بیان کی۔ اس پر انہوں (حضرت عبد اللہؓ بن عمرو) نے کہا کہ یہ وہ شخص ہے کہ رسول اللہﷺ سے ان کے بارہ میں ایک بات سننے کے بعد سے میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ چار آدمیوں سے قرآن سیکھو، ابن ام عبد سے _آپؐ نے ان سے شروع فرمایا_ اور اُبیَ ّبن کعبؓ سے، ابو حذیفہؓ کے حلیف سالمؓ سے اور معاذؓ بن جبل سے۔ ایک روایت میں یَقُوْلُہُ کے الفاظ نہیں ہیں اور ایک روایت میں حضرت معاذؓ کا حضرت اُبیَ ّؓ سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ بعض دوسری روایتوں میں ان چاروں کی ترتیب میں اختلاف ہے۔
مسروق بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کے پاس حضرت ابن مسعودؓ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا وہ ایک ایسے آدمی ہیں کہ میں ان سے اس کے بعد سے محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن چار آدمیوں سے پڑھو، ابن مسعودؓ سے اور ابو حذیفہؓ کی حلیف سالمؓ سے اور اُبیَّؓ بن کعب سے اور معاذ بن جبلؓ سے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا ان دونوں میں سے آپؐ نے کس سے شروع کیا۔
قتادۃ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں چار آدمیوں نے قرآن جمع کیا وہ سب انصارؓ میں سے ہیں۔ حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت ابی بن کعبؓ حضرت زید بن ثابتؓ اور حضرت ابو زیدؓ۔ قتادۃ کہتے ہیں میں نے حضرت انسؓ سے کہا کہ ابو زیدؓ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں۔
قتادۃ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓ بن مالک سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں قرآن کو کس نے جمع کیا؟ انہوں نے کہا کہ چار (اصحابؓ) نے وہ سب انصارؓ میں سے تھے۔ حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت زید بن ثابتؓ اور انصارؓ میں سے ایک شخص جس کی کنیت ابو زیدؓ تھی۔