بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت انسؓ سے روایت ہے انہوں نے حضرت ام سلیمؓ سے بیان کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! آپؐ کا خادم انس، اس کے لئے اللہ سے دعا کریں۔ چنانچہ آپؐ نے کہا اے اللہ! اس کو بہت مال اور اولاد دے اور اس کے لئے اس میں برکت ڈال دے جو تو اسے عطا کرے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ مَیں، میری ماں اور میری خالہ ام حرامؓ کے سوا کوئی نہ تھا۔ میری ماں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ آپؐ کا چھوٹا سا خادم۔ اس کے لئے اللہ کے حضور دعا کریں۔ وہ (انسؓ) کہتے ہیں آپؐ نے میرے لئے ہر قسم کی بھلائی کی دعا کی۔ جو (آپؐ نے دعا کی) اس کے آخر میں کہا اے اللہ! اس کو بہت مال اور اولاد دے اور اس کے لئے اس میں برکت رکھ دے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میری ماں اُم انس مجھے لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ انہوں نے مجھے اپنی آدھی چادر کا ازار پہنایا اور آدھی میرے اوپر کر دی اور انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! یہ میرا بیٹا اُنیس ہے، میں آپؐ کے پاس لائی ہوں۔ یہ آپؐ کی خدمت کرے گا۔ پس آپؐ اللہ سے اس کے لئے دعا کریں۔ آپؐ نے کہا اے اللہ! اس کو بہت مال و اولاد دے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم! یقینا میرا مال بہت زیادہ ہے اور میری اولاد اور میری اولاد کی اولاد کی تعداد آج قریب سو تک پہنچتی ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ گزرے تو میری ماں ام سلیمؓ نے آپؐ کی آواز سنی تو اس نے کہا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان یا رسولؐ اللہ! یہ انیسؓ ہے۔ تو رسول اللہﷺ نے میرے لئے تین دعائیں کیں جن میں سے دو میں نے دنیا میں دیکھ لیں اور تیسری کی امید میں آخرت میں رکھتا ہوں۔
حضرت ثابتؓ کہتے ہیں حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ وہ (حضرت انسؓ) کہتے ہیں کہ آپؐ نے ہمیں سلام کہا پھر مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔ میں کچھ تاخیر سے اپنی ماں کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ میں نے کہا کہ مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام سے بھیجا تھا۔ انہوں نے پوچھا آپؐ کا کیا کام تھا؟ میں نے کہا یہ راز ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر رسول اللہﷺ کا راز ہرگز کسی کو نہ بتانا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں بخدا اگر میں وہ کسی کو بتاتا تو اے ثابت! تجھے ضرور بتاتا۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے مجھ سے ایک راز کی بات کی۔ اس کے بعد وہ (میں نے) کسی کو نہیں بتائی۔ (میری ماں) ام سلیمؓ نے مجھ سے پوچھا تھا تو انہیں بھی میں نے نہیں بتائی۔
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو سنا۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی زندہ چلتے پھرتے شخص کے بارہ میں یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے سوائے حضرت عبد اللہ بن سلامؓ کے۔
قیس بن عباد بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں بعض ایسے لوگوں میں تھا جن میں نبیﷺ کے صحابہؓ تھے کہ ایک آدمی آیا جس کے چہرہ پر خشوع کے آثار تھے۔ لوگوں میں سے ایک نے کہا یہ شخص اہلِ جنت میں سے ہے۔ یہ شخص اہلِ جنت میں سے ہے۔ اس شخص نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں پھر وہ باہر نکلا تو میں اس کے پیچھے پیچھے گیا تو وہ اپنے گھر میں داخل ہوگیا۔ میں بھی اندر گیا پھر ہم باتیں کرنے لگے جب وہ مانوس ہوگئے تو میں نے اس سے کہا کہ پہلے جب آپ داخل ہوئے تھے ایک آدمی نے ایسے ایسے کہا۔ انہوں نے کہا سبحان اللہ کسی کو نہیں چاہئے کہ وہ ایسی بات کہے جو وہ نہیں جانتا ہاں میں تمہیں بتاتا ہوں کہ بات کیا ہے؟ میں نے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ایک رؤیا دیکھی جسے میں نے آپؐ کے سامنے بیان کیا۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک باغ میں ہوں _اور انہوں نے اس کی وسعت، اس کی سبز گھاس اور اس کی سر سبزی کا ذکر کیا _ اس باغ کے وسط میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اوپر والا حصہ آسمان میں ہے اور اس (ستون) کے اوپر ایک عُروہ (کڑا) ہے۔ مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھو۔ میں نے اسے کہا کہ مجھ میں طاقت نہیں۔ پھر میرے پاس ایک مِنصَف آیا _ابن عون کہتے ہیں کہ مِنصَف سے مراد خادم ہے_ اس نے پیچھے سے میرے کپڑوں کو پکڑ کر اٹھایا اور انہوں نے بیان کیا کہ اس نے ان کے پیچھے سے اپنے ہاتھ سے انہیں اُٹھایا۔ پھر میں اوپر چڑھنے لگا یہان تک کہ میں ستون کے اوپر تھا اور میں نے کڑے کو پکڑ لیا تو مجھ سے کہا گیا اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ وہ میرے ہاتھ میں تھا کہ میں بیدار ہو گیا۔ میں نے یہ (خواب) نبیﷺ سے بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا وہ باغ اسلام ہے اور وہ ستون بھی اسلام کا ستون ہے اور عروہ سے مراد عروہ وثقٰی ہے اور تم اسلام پر قائم رہو گے یہان تک کہ تمہیں موت آجائے۔ راوی نے کہا وہ آدمی حضرت عبد اللہ بن سلامؓ تھے۔
قیس بن عباد نے کہا کہ میں ایک مجلس میں تھا جس میں حضرت سعد بن مالکؓ اور حضرت ابن عمرؓ بھی تھے کہ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ گزرے تو لوگوں نے کہا یہ شخص جنتیوں میں سے ہے۔ چنانچہ میں اٹھ کر گیا اور ان سے کہا کہ انہوں نے ایسے ایسے کہا ہے۔ وہ کہنے لگا سبحان اللہ حضرت عبداللہؓ نے کہا سبحان اللہ! ان کے لئے مناسب نہیں تھا کہ وہ ایسی بات کہتے جس کا انہیں علم نہیں۔ صرف اتنی بات ہے میں نے دیکھا کہ سر سبز باغ میں گویا ایک ستون رکھا گیا ہے اور اسے اس میں نصب کیا گیا ہے اور اس کے اوپر کے سرے پر ایک کڑا ہے اور اس کے نیچے ایک مِنصَف ہے _ مِنصَف سے مراد خدمت گزار ہے _ مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھو چنانچہ میں چڑھتا گیا یہان تک کہ میں نے کڑے کو پکڑ لیا۔ میں نے اسے رسول اللہﷺ کی خدمت میں بیان کیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ عبد اللہؓ اس حال میں مرے گا کہ وہ ’’اَلْعُرْوَۃ الْوُثْقٰی‘‘(مضبوط کڑے) کو پکڑے ہوئے ہوگا۔
خَرَشَہ بِن حُرّ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ کی مسجد میں ایک حلقہ میں بیٹھا تھا۔ وہ کہتے ہیں اس میں ایک خوبصورت شکل کے بزرگ بھی تھے اور وہ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ انہیں اچھی اچھی باتیں بتانے لگے۔ وہ کہتے ہیں جب وہ کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا کہ جو چاہتا ہے کہ اہل جنت میں سے کسی کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ ان کو دیکھ لے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں ضرور ان کے پیچھے جاؤں گا اور ان کے گھر کی جگہ معلوم کروں گا۔ وہ کہتے ہیں چنانچہ میں ان کے پیچھے پیچھے گیا وہ چلتے گئے یہانتک کہ قریب تھا کہ وہ شہر سے باہر نکل جائیں اور وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے۔ وہ کہتے ہیں تو میں نے ان سے (اندر آنے کی) اجازت مانگی۔ انہوں نے مجھے اجازت دی اور کہا اے میرے بھتیجے! تجھے کیا کام ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ جب آپؓ کھڑے ہوگئے تو میں نے لوگوں کو آپؓ کے بارہ میں کہتے ہوئے سنا کہ جو چاہتا ہے کہ اہل جنت میں سے کسی آدمی کو دیکھے تو انہیں دیکھ لے۔ مجھے یہ اچھا لگا کہ میں آپؓ کے ساتھ رہوں۔ انہوں نے کہا کہ اہل جنت کو اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہاں میں تمہیں یہ ضرور بتاؤں گا کہ انہوں نے کیوں یہ بات کی ہے۔ اس دوران میں کہ میں سو رہا تھا کہ میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے مجھے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ انہوں نے کہا کیا دیکھتا ہوں کہ میرے بائیں طرف وسیع راستے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں ان میں جانے لگا تو اس نے مجھے کہا کہ ان میں مت جاؤ کہ یہ بائیں طرف والوں کے رستے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کچھ کھلے رستے ہیں اور ایک واضح راستہ میرے دائیں طرف ہے۔ اس نے مجھے کہا کہ اس پر چلو۔ پھر وہ مجھے ایک پہاڑ کے پاس لے گیا اور مجھے کہا کہ اس پر چڑھو۔ انہوں نے کہا میں (چڑھنے) لگا جب بھی میں چڑھنے لگتا پشت کے بل گر جاتا۔ میں نے کئی بار ایسا کیا۔ انہوں نے کہا پھر وہ مجھے لے کر چلا یہانتک کہ وہ مجھے ایک ستون کے پاس لے گیا جس کا اوپر کا سرا آسمان میں تھا اور اس کا نچلا حصہ زمین میں تھا اور اس کے اوپر ایک کڑا تھا اس نے مجھے کہا اس پر چڑھ جاؤ۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا میں اس پر کیسے چڑھوں، اس کا اوپر کا سرا تو آسمان میں ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اچھالا۔ وہ کہتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ میں اس کڑے سے لٹک رہا ہوں۔ پھر اس نے ستون پر ضرب لگائی تو وہ گر گیا لیکن میں اس کڑے سے لٹکا رہا یہانتک کہ صبح ہوگئی۔ وہ کہتے ہیں پھر میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے ساری بات بیان کی۔ آپؐ نے فرمایا جہاں تک ان رستوں کا تعلق ہے جو تم نے اپنے بائیں طرف دیکھے وہ بائیں طرف والوں کے رستے ہیں۔ جہاں تک ان رستوں کا تعلق ہے جو تم نے اپنے دائیں طرف دیکھے وہ دائیں طرف والوں کے رستے ہیں اور جو پہاڑ ہے وہ شہداء کی منزل ہے جسے تم نہیں پاؤ گے۔ رہا ستون، وہ اسلام کا ستون ہے جو کڑا ہے وہ بھی اسلام کا کڑا ہے جسے تم ہمیشہ تھامے رکھو گے یہانتک کہ تمہیں موت آجائے گی۔