بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 232 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ، حضرت حسانؓ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے تو انہوں (حضرت عمرؓ) نے اُن (حضرت حسانؓ) کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا کہ میں تو اس وقت بھی شعر پڑھا کرتا تھا جب اس میں آپؓ سے بہتر موجود تھے۔ پھر وہ حضرت ابو ہریرہؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری طرف سے جواب دو اے اللہ! روح القدس سے اس کی تائید فرما۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم ہاں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت حسانؓ نے اس مجلس میں جس میں حضرت ابو ہریرہؓ بھی موجود تھے کہا کہ میں آپؓ کو اے ابو ہریرہؓ! اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ کیا آپؓ نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے۔ باقی روایت اسی طرح ہے۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمان کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حسانؓ بن ثابت انصاری کو سنا۔ وہ (حضرت حسانؓ بن ثابت) حضرت ابو ہریرہؓ سے گواہی طلب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپؓ نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے؟ ’’اے حسان! رسول اللہﷺ کی طرف سے (ہجو کا) جواب دو۔ اے اللہ! روح القدس سے اس کی مدد فرما‘‘ انہوں نے کہا ہاں۔
حضرت براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت حسان بن ثابتؓ سے فرماتے ہوئے سنا کہ ان کی ہجو کرو، جبرئیل تمہارے ساتھ ہے۔
ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حسان بن ثابتؓ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے حضرت عائشہؓ کے بارہ میں بہت باتیں بنائیں تھیں۔ چنانچہ میں نے انہیں برا بھلا کہا حضرت عائشہؓ نے کہا اے میرے بھانجے! اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دفاع کیا کرتا تھا۔
مسروق سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہؓ کے پاس گیا تو ان کے پاس حضرت حسان بن ثابتؓ تھے اور ان کو شعر پڑھ کر سُنا رہے تھے اور (اپنے اشعار کے ذریعہ اچھی صفات بیان کر رہے تھے وہ کہہ رہے تھے حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِیْبَۃٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَی مِنْ لُحُوْمِ الْغَوَافِلِ یعنی وہ پاکدامن اور باوقار ہیں۔ ان پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا اور وہ صبح اس حال میں کرتی ہیں کہ سادہ معصوم عورتوں کے گوشت سے خالی پیٹ ہوتی ہیں (یعنی ان کی غیبت نہیں کرتیں) اس پر حضرت عائشہؓ نے ان سے فرمایا لیکن تم تو ایسے نہیں ہو۔ مسروق کہتے ہیں میں نے آپؓ (حضرت عائشہؓ) سے کہا آپؓ ان (حسانؓ) کو اپنے ہاں آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں اور اللہ نے فرمایا ہے کہ جو اُن میں سے بڑے گناہ کا مرتکب ہوا اس کے لئے بڑا عذاب ہے تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ نابینائی سے زیادہ شدید عذاب کیا ہوسکتا ہے۔ یہ رسول اللہﷺ کی طرف سے مدافعت یا کہا ہجو کرتے تھے۔ ایک اور روایت میں (یُنَافِحُ أَوْ یُھَاجِی کی بجائے) یَذُبُّ کے الفاظ ہیں اور حَصَانٌ رَزَانٌ کا ذکر نہیں۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت حسانؓ نے کہا یا رسولؐ اللہ! مجھے ابو سفیان کے بارہ میں اجازت دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا اس قرابت کا کیا ہوگا جو میری اس سے ہے؟ انہوں نے کہا قسم ہے اس کی جس نے آپؐ کو عزت دی میں آپؐ کو ضرور ان میں سے اس طرح نکال لوں گا جیسے خمیر میں سے بال نکالا جاتا ہے۔ اور حضرت حسانؓ نے یہ قصیدہ کہا آل ہاشم میں سے سب سے بزرگ بنو بنتِ مخزوم ہیں اور تیرا باپ(اے ابو سفیان!) غلام ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ(حضرت عائشہؓ) فرماتی ہیں کہ حضرت حسانؓ بن ثابت نے نبیﷺ سے مشرکین کی ہجو کی اجازت چاہی اور اس روایت میں ابو سفیان کا ذکر نہیں ہے اور اَلْخَمِیْر کی بجائے اَلْعَجِیْن (یعنی گوندھا ہوا آٹا) کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قریش کی ہجو کا جواب دو کیونکہ وہ ان پر تیروں کی مار سے زیادہ گراں ہے۔ پھر آپؐ نے حضرت ابن رواحہؓ کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ ان کی ہجو کرو۔ چنا نچہ حضرت ابن رواحہؓ نے ان کی ہجو کی لیکن آپؐ کو پسند نہ آئی۔ پھر آپؐ نے حضرت کعب بن مالکؓ کو بلا بھیجا پھر حضرت حسان بن ثابتؓ کو بلا بھیجا چنانچہ جب وہ آپؐ کے پاس آئے تو حضرت حسانؓ نے کہا کہ اب آپ لوگوں کے لئے وہ وقت آگیا ہے کہ تم اس شیر کو بلا بھیجو جو اپنی دم ہلاتا ہے۔ پھر انہوں نے اپنی زبان نکالی اور اسے ہلانے لگے اور کہا اس کی قسم! جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں ضرور اپنی زبان سے انہیں چمڑے کے کاٹنے کی طرح کاٹ کر رکھ دوں گا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جلدی مت کرو، ابوبکرؓ قریش کے نسب سے سب سے زیادہ واقف ہیں اور میرا نسب بھی ان میں ہے یہاں تک کہ وہ تمہیں میرا نسب واضح نہ کر دیں۔ چنانچہ حضرت حسانؓ ان کے پاس گئے اور واپس آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ابو بکرؓ نے مجھے آپ کا نسب وضاحت سے بتا دیا ہے۔ اس کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں ضرور آپؐ کو ان سے اس طرح نکال لوں گا جیسے آٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پھر میں نے رسول اللہﷺ کو حسانؓ سے فرماتے ہوئے سنا کہ جب تک تم اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے مدافعت کرتے رہو گے یقینا اس وقت تک روح القدس تمہاری تائید کرتا رہے گا۔ وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا حسانؓ نے ان کی ہجو کی اور تسلی کر دی اور تسلی پالی۔ حضرت حسانؓ نے کہا: 1: تو نے محمدؐ کی ہجو کی تو میں نے ان کی طرف سے جواب دیا اور اس کا بدلہ تو اللہ کے پاس ہی ہے۔ 2: تو نے محمدؐ کی ہجو کی جو اعلیٰ درجہ کے نیک اور حنیف اور اللہ کے رسولؐ ہیں اور وفاداری آپؐ کی سرشت ہے۔ 3: میرا باپ، میری ماں اور میری اپنی عزت تمہارے (حملوں سے) محمدؐ کی عزت کے لئے ڈھال ہیں۔ 4: میں اپنی پیاری بیٹی پر روؤں اگر تم کداء کی دونوں طرف سے ان گھوڑوں کو غبار اُڑاتا نہ دیکھو۔ 5: وہ (گھوڑے) اوپر چڑھتے ہوئے اپنی باگوں سے مقابلہ کرتے ہیں اور ان کے کندھوں پر پیاسے نیزے ہیں۔ 6: ہمارے گھوڑے تیزی سے ایک دوسرے پر سبقت لیتے جائیں گے (اور تمہاری) عورتیں اپنی اوڑھنیوں سے ان کے منہ پر مار کر ہٹانے کی کوشش کریں گی۔ 7: پس اگر تم ہمارے راستہ سے ہٹ جاؤ تو ہم عمرہ کر لیں گے فتح ہو جائے گی اور پردہ ہٹ جائے گا۔ 8: ورنہ پھر اس دن کی لڑائی کے لئے انتظار کرو جس دن اللہ جسے چاہے گا عزت دے گا۔ 9: اللہ فرماتا ہے کہ میں نے ایسا بندہ بھیجا ہے وہ سچ کہتا ہے اُس میں کوئی اخفا نہیں ہے۔ 10: اللہ فرماتا ہے کہ میں نے ایک لشکر تیار کیا ہے جو انصار ہیں ان کا مقصد (دشمن سے) مڈ بھیڑ ہے۔ 11: اس کو ہر روز معد (قبیلہ) کی طرف سے گالی گلوچ یا لڑائی یا ہجو کا سامنا رہتا ہے۔ 12: پس جو تم میں سے رسول اللہﷺ کی ہجو کرے اور جو آپؐ کی تعریف و نصرت کرے برابر ہو سکتے ہیں؟ 13: اور ہم میں جبریل اللہ کے رسول ہیں اور روح القدس ہے جس کا کوئی ہم پلہ نہیں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی ماں کو اسلام کی طرف بلایا کرتا تھا وہ مشرکہ تھی چنانچہ ایک روز جب میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں مجھے وہ سنایا جسے میں نا پسند کرتا تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں رو رہا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دیا کرتا ہوں لیکن وہ میری نہیں مانتی۔ چنانچہ آج میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے مجھے آپؐ کے بارہ میں وہ سنایا جسے میں ناپسند کرتا ہوں۔ آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے دے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اے اللہ! ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے دے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی دعا کی وجہ سے خوشی خوشی باہر نکلا۔ جب میں آیا اور دروازہ کے قریب ہوا تو وہ بند تھا جب میری ماں نے میرے قدموں کی چاپ سنی تو کہا اے ابو ہریرہ! اپنی جگہ پر رہو، اور میں نے پانی کی آواز سنی۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے غسل کیا اپنے کپڑے پہنے اور جلدی میں اپنی اوڑھنی (بھی) نہ لی اور انہوں نے دروازہ کھول دیا اور کہا اے ابو ہریرہ! میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمدؐ اس کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس گیا اور میں آپؐ کے پاس آیا تو میں خوشی سے رو رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کو خوشخبری ہو، اللہ نے آپؐ کی دعا سن لی ہے اور ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے دی ہے۔ آپؐ نے اللہ کی حمد و ثناء کی اور آپؐ نے بہت اچھی اچھی باتیں فرمائیں۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! دعا کریں کہ اللہ اپنے مومن بندوں (کے دلوں) میں میری اور میری ماں کی محبت ڈال دے اور ہمارے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے کہا اے اللہ! اپنے اس پیارے بندہ _ یعنی ابوہریرہؓ _ اور اس کی ماں کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور ان کے دلوں میں مومنوں کی محبت ڈال دے۔ پس کوئی مومن پیدا نہیں کیا گیا جو میرے بارہ میں سنے اور مجھے نہ دیکھا ہو مگر وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا یقیناً تم سمجھتے ہو کہ ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے بہت زیادہ روایت کرتا ہے _ اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے_ میں تو ایک مسکین شخص تھا جو روکھی سوکھی کھا کر رسول اللہﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ مہاجرؓ بازاروں میں تجارت میں مشغول رہتے، انصارؓ کو ان کے اموال کی نگرانی روکے رکھتی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو اپنا کپڑا پھیلائے گا وہ جو بات مجھ سے سنے گا ہر گز نہیں بھولے گا تو میں نے اپنا کپڑا پھیلا دیا یہاں تک کہ آپؐ نے اپنی بات مکمل کر لی پھر میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ پھر میں کوئی بات نہ بھولا جو میں نے حضورؐ سے سنی۔ ایک اور روایت میں مَنْ یَبْسُطُ ثَوْبَہُ اِلَی آخِرِہ کے الفاظ نہیں ہیں۔
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ حضرت ابوہریرہؓ آئے اور میرے حجرہ کے پہلو میں بیٹھ کر نبیﷺ کی احادیث بیان کرنے لگے وہ مجھے سُنا رہے تھے اور میں نماز پڑھ رہی تھی۔ وہ میری نماز مکمل کرنے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے۔ اگر مجھے موقعہ ملتا تو میں ضرور انہیں جواب دیتی کہ رسول اللہﷺ یوں تم لوگوں کی طرح مسلسل جلدی جلدی باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔