حضرت ابو برزہؓ سے روایت ہے نبیﷺ اپنے ایک غزوہ میں تھے کہ اللہ نے آپؐ کو مالِ غنیمت عطا فرمایا۔ آپؐ نے اپنے صحابہؓ سے پوچھا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں، فلاں اور فلاں اور فلاں کو۔ آپؐ نے پھر پوچھا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں، فلاں اور فلاں اور فلاں کو۔ آپؐ نے پھر پوچھا کیا تم کسی کو گم پاتے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا لیکن میں جُلَیْبِیبؓ کو گم پاتا ہوں، اسے تلاش کرو۔ چنانچہ انہیں مقتولین میں تلاش کیا گیا تو انہوں نے حضرت جُلَیْبِیبؓ کو سات (مقتولین) کے پہلو میں پایا جن کو انہوں نے قتل کیا تھا۔ پھر (دشمنوں) نے انہیں شہید کر دیا۔ نبیﷺ تشریف لائے اور ان (کی نعش) کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا اس نے سات (افراد) کو مارا پھر (دشمنوں) نے اسے شہید کر دیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے اسے اپنے بازوؤں پر اٹھایا۔ اس کے لئے صرف نبیﷺ کے بازو تھے۔ راوی کہتے ہیں پھر ان کے لئے (قبر) کھودی گئی اور انہیں اُن کی قبر میں رکھا گیا لیکن (راوی نے) غسل کا ذکر نہیں کیا۔
عبد اللہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ذرؓ نے بیان کیا کہ ہم اپنی قوم غِفار سے نکلے اور وہ حرمت والے مہینہ کو حلال قرار دیتے تھے۔ مَیں، میرا بھائی انیس اور ہماری ماں نکلے اور اپنے ایک ماموں کے ہاں اُترے، ہمارے ماموں نے ہمارا اکرام کیا اور ہم سے حسنِ سلوک کیا لیکن ان کی قوم نے ہم سے حسد کیا اور کہا کہ جب تم اپنے گھر والوں کے پاس سے چلے جاتے ہو تو انیس ان کے پاس آجاتا ہے۔ اس پر ہمارے ماموں آئے تو انہوں نے اس بات کا جو اُن سے کہی گئی تھی ذکر کیا میں نے کہا کہ جو نیکی آپ نے ہم سے کی تھی اسے آپ نے مکدّر کر دیا ہے۔ پس اس کے بعد ہم آپ کے ساتھ اکٹھے نہیں ہو سکتے پھر ہم اپنے اونٹوں کے پاس گئے۔ ان پر سامان لادا ہمارے ماموں نے اپنے کپڑے سے (اپنے آپ کو) ڈھانپ لیا اور رونے لگے پھر ہم چل پڑے یہانتک کہ مکہ کے سامنے جا کر اترے۔ انیس نے ہمارے اونٹوں پر اور اتنے ہی دوسرے اونٹوں پر شرط لگائی۔ پھر وہ دونوں کاہن کے پاس آئے اس نے انیس کو بہتر قرار دیا۔ انیس ہمارے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور اونٹ لے آیا۔ (حضرت ابو ذرؓ ) نے کہا اے میرے بھتیجے میں نے رسول اللہﷺ سے ملنے سے پہلے تین سال نماز پڑھی۔ (انیس کہتے ہیں ) میں نے پوچھا کس کی (نماز؟) انہوں (حضرت ابو ذرؓ ) نے کہا اللہ کے لئے۔ میں نے کہا کہ آپ رخ کس طرف کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ جس طرف میرا رب میرا رخ پھیر دیتا ادھر میں رخ کرلیتا۔ میں رات کی نماز پڑھتا یہانتک کہ جب اس کا آخری حصہ آجاتا تو میں اس طرح پڑ جاتا جس طرح کوئی چادر ہو جس پر دھوپ آجاتی۔ انیس نے کہا کہ مجھے مکہ میں کوئی کام ہے۔ پس تم (پیچھے) میرا کام سنبھالو۔ پس اُنیس چلا گیا وہ مکہ آیا اور میرے پاس آنے میں دیر کی۔ پھر وہ آیا تو میں نے کہا کہ یہ تم نے کیا کیا؟ اس نے کہا کہ میں مکہ میں ایک شخص سے ملا ہوں جو تیرے دین پر ہے۔ اس کا گمان ہے کہ اللہ نے اسے بھیجا ہے۔ میں نے کہا کہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا وہ اسے شاعر، کاہن، جادو گر کہتے ہیں۔ اُنیس بھی شاعر تھا۔ انیس نے کہا کہ میں نے کا ہنوں کی باتیں سنی ہیں لیکن جو وہ کہتے ہیں وہ نہیں ہے۔ میں نے آپؐ کی بات کو شعر کے اوزان و اقسام پر پرکھا ہے۔ میرے علاوہ (بھی) کسی کی زبان پر یہ نہیں آسکتا کہ یہ شعر ہے۔ اللہ کی قسم یقینا وہ سچا ہے اور یہ ضرور جھوٹے ہیں۔ وہ (حضرت ابو ذرؓ ) کہتے ہیں میں نے کہا کہ تم میرا کام سنبھالو اور میں جاؤں اور دیکھوں۔ وہ کہتے ہیں میں مکہ آیا تو میں نے ان میں سے ایک کمزور شخص کو پایا تو اس سے کہا کہ وہ شخص کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو۔ اس نے میری طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ صابی ہے۔ پس وادی والے ہر ڈھیلا اور ہڈی لے کر مجھ پر پل پڑے یہانتک کہ میں غش کھا کر گر پڑا۔ وہ کہتے ہیں پس جب میں اٹھا تو گویا میں ایک سرخ بت تھا۔ وہ کہتے ہیں پھر میں زمزم پر آیا اور اپنے اوپر سے خون کو دھویا اور اس(زمزم) کا پانی پیا اور اے میرے بھتیجے ! میں اس حالت میں تیس دن رات رہا اور زمزم کے پانی کے علاوہ میرے لئے کوئی کھانا نہ تھا۔ میں اتنا موٹا ہو گیا کہ میرے پیٹ میں شکنیں پڑنے لگیں لیکن میں نے اپنے پیٹ میں بھوک کی کوئی کمزوری نہیں پائی۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک رات جب چاند پوری طرح چمک رہا تھا کہ اس دوران ان پر یعنی اہل مکہ پر نیند طاری ہوگئی اور کوئی بیت اللہ کا طواف نہیں کر رہا تھا اور ان میں سے دو عورتیں اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں۔ وہ (حضرت ابو ذرؓ )کہتے ہیں کہ وہ اپنے طواف کے دوران میرے پاس سے گزریں۔ میں نے کہا کہ ایک کا دوسرے سے نکاح کردو۔ وہ (ابو ذرؓ ) کہتے ہیں وہ دونوں اپنی بات سے نہ رکیں وہ کہتے ہیں وہ دونوں (پھر اپنے طواف میں ) میرے پاس سے گزریں تو میں نے بغیر کسی کنایہ کے (اساف اور نائلہ) کو گالی دی۔ وہ دونوں ہلاکت کی بد دعا کرتے ہوئے، یہ کہتے ہوئے لوٹیں کاش یہاں ہمارے لوگوں میں سے کوئی ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں کو رسول اللہ
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب مکہ میں نبیﷺ کی بعثت کی خبر حضرت ابو ذرؓ کو ملی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی تک سوار ہو کر جاؤ اور میرے لئے اس شخص کے بارہ میں علم حاصل کرو جو گمان کرتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے۔ اس کی بات سنو پھر میرے پاس آؤ۔ چنانچہ وہ چلا گیا یہانتک کہ وہ مکہ پہنچا اور آپؐ کی بات سنی پھر وہ حضرت ابو ذرؓ کی طرف واپس آیا اور کہا کہ میں نے اس کو کریمانہ اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا ہے اور ایسا کلام (کرتے) دیکھا جو شعر نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں جو میرا مقصد تھا اس میں تم نے مجھے تشفی نہ دِلائی۔ اس پر انہوں (حضرت ابو ذرؓ) نے کچھ زادِ راہ لیا اور اپنا ایک مشکیزہ اٹھایا جس میں پانی تھا یہانتک کہ مکہ پہنچے تو مسجد میں آئے اور نبیﷺ کو تلاش کیا کیونکہ وہ آپؐ کو پہچانتے نہ تھے اور انہوں نے آپؐ کے بارہ میں پوچھنا پسند نہ کیا یہانتک کہ رات ہوگئی تو وہ لیٹ گئے۔ حضرت علیؓ نے انہیں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی اجنبی ہے پس جب انہوں (حضرت ابو ذرؓ) نے اُنہیں (حضرت علیؓ کو) دیکھا تو اُن کے پیچھے ہو لئے۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی نے اپنے ساتھی سے کچھ نہ پوچھا یہانتک کہ صبح ہوگئی پھر وہ اپنا مشکیزہ اور زاد راہ اُٹھا کر مسجد تک لے گئے۔ پھر (حضرت ابو ذرؓ نے) وہ دن بھی گذارا مگر انہوں نے نبیﷺ کو نہ دیکھا یہانتک کہ شام ہوگئی پھر وہ اپنے لیٹنے کی جگہ پر لوٹ آئے۔ حضرت علیؓ ان کے پاس سے گذرے تو کہا کہ ابھی اس شخص کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ اسے اپنی منزل کا علم ہو۔ انہوں نے اسے اٹھایا اور اس کو اپنے ساتھ لے گئے۔ لیکن دونوں میں سے کسی نے اپنے ساتھی سے کچھ نہ پوچھا کہ جب تیسرا دن ہوا تو انہوں نے اسی طرح کیا پھر حضرت علیؓ انہیں اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے اور ان سے کہا کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ تم اس بستی میں کیوں آئے ہو؟ انہوں (حضرت ابو ذرؓ) نے کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ وعدہ اور پختہ عہد کرتے ہیں کہ میری رہنمائی فرمائیں گے تو میں ایسا کروں گا تو انہوں نے ایسا کیا۔ انہوں (حضرت علیؓ) نے انہیں بتایا کہ یقینا وہ سچے ہیں اور اللہ کے رسولؐ ہیں۔ جب صبح ہو تو میرے پیچھے پیچھے آنا۔ اگر میں نے کوئی ایسی چیز دیکھی جس کا مجھے تمہارے بارہ میں خوف ہوا تو میں ٹھہر جاؤں گا جیسے میں پیشاب کرنے لگا ہوں اور اگر میں چلتا گیا تو میرے پیچھے آنا حتیٰ کہ جہاں میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ابو ذرؓ حضرت علیؓ کے پیچھے چلنے لگے یہانتک کہ وہ (حضرت علیؓ) نبیﷺ کے پاس اندر چلے گئے اور ان کے ساتھ وہ (حضرت ابو ذرؓ) بھی اندر چلے گئے۔ حضرت ابو ذرؓ نے آپؐ کی باتیں سنیں اور وہیں پر اسلام لے آئے۔ نبیﷺ نے ان سے فرمایا اپنی قوم کی طرف جاؤ اور انہیں بتاؤ یہانتک کہ تمہیں میرے بارہ میں اطلاع ملے۔ اس پر وہ کہنے لگے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ضرور بآواز بلند ان کے سامنے اعلان کر دوں گا۔ پھر وہ (حضرت ابو ذرؓ) باہر نکلے یہانتک کہ مسجد (حرام) میں آئے اور بلند آواز سے پکارنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ محمدؐ اللہ کے رسولؐ ہیں لوگ (ان پر) پل پڑے اور انہیں مارنے لگے یہانتک کہ انہیں گرا دیا۔ پھر حضرت عباسؓ آئے ان (کو بچانے کے لئے) ان پر جھک گئے اور لوگوں سے کہا تمہارا برا ہو کیا تمہیں پتہ نہیں کہ یہ غفار (قبیلہ) سے ہے؟ اور شام کی طرف جانے والے تمہارے تاجروں کا رستہ ان کے پاس سے گزرتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حضرت ابو ذرؓ کو ان سے بچا لیا۔ انہوں نے دوسرے دن بھی ایسا ہی کیا اور لوگ ان پر پل پڑے اور ان کو مارا۔ حضرت عباسؓ، حضرت ابو ذرؓ پر جھک گئے اور انہیں بچا لیا۔
مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلاَ رَآنِي إِلاَّ ضَحِكَ .
حضرت جریر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے رسول اللہ ﷺ نے کبھی (ملاقات سے) نہیں روکا اور جب بھی آپؐ نے مجھے دیکھا تو آپؐ مسکرائے۔
حضرت جریرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے رسول اللہ ﷺ نے کبھی (ملاقات سے) نہیں روکا اور جب بھی آپؐ نے مجھے دیکھا تو تبسم فرمایا۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے آپؐ کی خدمت میں شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو آپؐ نے اپنا ہاتھ میرے سینہ پر مارا اور کہا اے اللہ! اسے ثبات دے اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔
حضرت جریرؓ بیان کرتے ہیں کہ (زمانہ) جاہلیت میں ایک گھر ہوتا تھا جسے ذو الخلصہ کہا جاتا تھا نیز اسے کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جاتا تھا رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تو مجھے ذو الخلصہ کعبہ یمانیہ اور شامیہ سے راحت دے گا؟ (حضرت جریرؓ کہتے ہیں) چنانچہ میں اس کی طرف احمس (قبیلہ) کے ایک سو پچاس افراد لے کر گیا اور ہم نے اسے توڑ دیا اور جسے ہم نے اس کے پاس پایا اسے (لڑائی میں) مار دیا۔ پھر میں حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ کو بتایا۔ حضرت جریرؓ کہتے ہیں پھر آپؐ نے ہمارے لئے اور احمس کے لئے دعا کی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا جَرِيرُ أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ . بَيْتٍ لِخَثْعَمَ كَانَ يُدْعَى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ . قَالَ فَنَفَرْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي فَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا . قَالَ فَانْطَلَقَ فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُبَشِّرُهُ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ مِنَّا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْنَاهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ . فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا
حضرت جریر بن عبد اللہ بجلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا اے جریرؓ ! کیا تم مجھے قبیلہ خثعم کے گھر ذو الخلصہ کی طرف سے (شرارتوں سے) آرام نہ دو گے؟ اسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا۔ وہ (حضرت جریرؓ) کہتے ہیں کہ میں ایک سو پچاس گھڑسواروں کے ساتھ نکلا اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا تو میں نے اس کا ذکر رسول اللہﷺ سے کیا۔ آپؐ نے اپنا دستِ مبارک میرے سینہ پر مارا اور کہا اے اللہ! اسے ثبات دے اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔ راوی نے کہا پھر حضرت جریرؓ گئے اور اسے (ذو الخلصہ کو) آگ سے جلا دیا۔ پھر حضرت جریرؓ نے رسول اللہﷺ کی طرف آپؐ کو خوشخبری دینے کے لئے ہم میں سے ایک آدمی بھیجا جس کی کنیت ابو ارطاۃ تھی۔ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے عرض کیا کہ میں اس وقت تک آپؐ کے پاس نہیں آیا جب تک کہ ہم نے اسے خارش زدہ اونٹ کی طرح نہ کر دیا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے احمس کے گھڑ سواروں اور پیادوں کے لئے پانچ دفعہ برکت کی دعا کی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جریرؓ کی طرف سے خوشخبری دینے والا ابو ارطاۃ حصین بن ربیعہ نبیﷺ کی خدمت میں خوشخبری لے کر آیا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ بیت الخلاء میں تشریف لے گئے تو میں نے آپؐ کے لئے وضوء کا پانی رکھا۔ جب آپؐ باہر تشریف لائے تو فرمایا کہ یہ کس نے رکھا ہے؟ عرض کیا گیا ابن عباسؓ نے۔ حضورؐ نے کہا اے اللہ! اسے (دین کی) سمجھ عطا فرما۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ - قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ وَلَيْسَ مَكَانٌ أُرِيدُ مِنَ الْجَنَّةِ إِلاَّ طَارَتْ إِلَيْهِ - قَالَ - فَقَصَصْتُهُ عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهُ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَرَى عَبْدَ اللَّهِ رَجُلاً صَالِحًا .
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور جنت میں جس جگہ بھی میں جانا چاہتا ہوں وہ (ٹکڑا) اڑ کر وہاں لے جاتا ہے۔ وہ (حضرت ابن عمرؓ ) کہتے ہیں کہ میں نے یہ (خواب) حضرت حفصہؓ کے سامنے بیان کیا اور حضرت حفصہؓ نے اسے نبیﷺ کے سامنے بیان کیا۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا میں عبد اللہؓ کو نیک آدمی دیکھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَكُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا عَزَبًا وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَىِ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ - قَالَ - فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ . فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ . قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ لاَ يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلاَّ قَلِيلاً . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ خَتَنُ الْفِرْيَابِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی زندگی میں جب کوئی شخص رؤیا دیکھتا تو وہ اسے رسول اللہﷺ کے سامنے بیان کرتا اور مجھے بھی آرزو ہوئی کہ میں کوئی رؤیا دیکھوں جسے نبیﷺ کے سامنے بیان کروں۔ وہ کہتے ہیں میں جوان غیر شادی شدہ لڑکا تھا اور رسول اللہﷺ کے زمانہ میں مسجد میں سویا کرتا تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور مجھے آگ کی طرف لے گئے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کنویں کی طرح گہری ہے۔ کنویں کی طرح اس کے دو ستون ہیں اور اس میں کچھ لوگ ہیں جنہیں میں نے پہچان لیا اور میں کہنے لگا کہ میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ وہ (حضرت ابن عمرؓ) کہتے ہیں ایک اور فرشتہ ان دونوں سے آکر ملا اس نے مجھے کہا گھبرانے کی بات نہیں۔ میں نے یہ (خواب) حضرت حفصہؓ کے سامنے بیان کی اور حضرت حفصہؓ نے رسول اللہﷺ سے بیان کی۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ عبد اللہ کیا ہی اچھا آدمی ہے اگر وہ رات کو نماز پڑھے۔ سالم کہتے ہیں حضرت عبد اللہؓ اس کے بعد رات کو بہت تھوڑا سوتے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں رات گزارا کرتا تھا کیونکہ میرا کوئی گھربار نہیں تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا مجھے ایک کنویں کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔
اور حضرت ابو بکرؓ ملے۔ وہ اتر رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا تم دونوں کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان ایک صابی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس نے تم سے کیا کہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسی بات کہی ہے جس سے منہ بھر جاتا ہے(یعنی ناقابلِ بیان ہے) پھر رسول اللہ
ﷺ
تشریف لائے یہانتک کہ حجر اسود کو بوسہ دیا اور آپؐ نے اور آپؐ کے ساتھی نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر نماز پڑھی جب آپؐ نے اپنی نماز پڑھ لی تو حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں میں پہلا تھا جس نے اسلامی طریق پر آپ کو سلام کیا وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا السلام علیک یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا
وَعَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ
۔ پھر آپؐ نے فرمایا تم کون ہو؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا میں غفار سے ہوں۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اور اپنی انگلیاں اپنی پیشانی پر رکھیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرا اپنے آپ کو غفار کی طرف منسوب کرنا آپؐ نے ناپسند فرمایا ہے۔ میں آپؐ کے ہاتھ کو پکڑنے لگا تو آپؐ کے ساتھی نے مجھے روک دیا۔ وہ آپؐ کو مجھ سے زیادہ جانتے تھے۔ پھر آپؐ نے اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا تم یہاں کب سے ہو؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا میں یہاں تیس دن رات سے ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تمہیں کھانا کون کھلا تا ہے؟ حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میرے لئے زمزم کے پانی کے علاوہ اور کھانا نہیں میں اتنا موٹا ہوگیا یہانتک کہ میرے پیٹ پر بل پڑگئے ہاں میں اپنے آپ میں بھوک کی کوئی کمزوری محسوس نہیں کرتا۔ آپؐ نے فرمایا یہ (زمزم) مبارک ہے۔ یہ ایسا کھانا ہے جو سیر کردیتا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا یا رسولؐ اللہ !آج رات اسے کھانا کھلانے کی مجھے اجازت دیجئے۔ رسول اللہ
ﷺ
اور حضرت ابو بکرؓ چلے اور میں ان کے ساتھ چلا۔ حضرت ابو بکرؓ نے دروازہ کھولا اور ہمارے لئے طائف کے خشک انگور لانے لگے اور یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے وہاں کھایا پھر میں کچھ عرصہ ٹھہرا رہا پھر میں رسول اللہ
ﷺ
کی خدمت میں آیا تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھے ایک کھجوروں والی زمین دکھائی گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ یثرب ہے۔ کیا تم میری طرف سے اپنی قوم کو تبلیغ کرو گے؟ قریب ہے کہ اللہ تمہارے ذریعہ سے انہیں فائدہ پہنچا دے۔ اور ان کی وجہ سے تمہیں اجر دے۔ پھر میں انیس کے پاس آیا تو اس نے کہا کہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں اسلام لے آیا ہوں اور تصدیق کی ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے تیرے دین سے کوئی بے رغبتی نہیں ہے یقینا میں نے بھی اسلام قبول کیا ہے اور تصدیق کی ہے۔ پھر ہم اپنی والدہ کے پاس آئے تو اس نے کہا کہ مجھے بھی تم دونوں کے دین سے کوئی بے رغبتی نہیں ہے یقینا میں نے بھی اسلام قبول کیا اور تصدیق کی پھر ہم سوار ہوئے یہانتک کہ اپنی قوم غفار میں آئے۔ تو ان میں سے نصف نے اسلام قبول کر لیا۔ ایماء بن رحضہ غفاری جو ان کے سردار تھے ان کی امامت کرتے تھے۔ ان میں سے نصف نے کہا جب رسول اللہ
ﷺ
مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم بھی اسلام قبول کرلیں گے۔ پس جب رسول اللہ
ﷺ
مدینہ تشریف لائے تو ان کے باقی نصف نے بھی اسلام قبول کرلیا اور اسلم قبیلہ آیا تو انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! جس پر ہمارے بھائیوں نے اسلام قبول کیا ہے ہم بھی اس پر اسلام قبول کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا غفار کو اللہ نے بخش دیا اور اسلم قبیلہ کو اللہ نے سلامتی عطا فرمائی۔ ایک اور روایت میں حضرت ابو ذرؓ کی اس بات کے بعد کہ میں نے کہا کہ تم میرا انتظار کرو یہانتک کہ میں
آجاؤں
اور دیکھوں یہ اضافہ ہے کہ اس نے کہا ہاں مکہ والوں سے ہشیار رہنا کیونکہ انہوں نے اس سے بغض رکھا ہے اور برا سلوک کیا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے عبد اللہ بن صامتؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابوذرؓ نے کہا اے میرے بھتیجے میں نے نبی
ﷺ
کی بعثت سے دوسال پہلے نماز پڑھی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ آپ رخ کدھر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا جہاں اللہ نے میرا رخ پھیر دیا۔ باقی روایت پہلی کی طرح ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ وہ دونوں ایک کاہن کے پاس مقابلہ کے فیصلہ کے لئے گئے۔ وہ کہتے ہیں میرا بھائی انیس اس کی تعریف کرتا رہا یہانتک کہ اس کاہن نے اسے غالب قرار دے دیا۔ وہ کہتے ہیں پھر ہم نے اس کے اونٹ لے لئے اور انہیں اپنے اونٹوں سے ملا لیا۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ نبی
ﷺ
تشریف لائے اور بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیمؑ کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں۔ حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں پہلا شخص تھا جس نے آپؐ کو اسلامی طریق پر سلام کیا۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ آپؐ پر سلامتی ہو آپؐ نے فرمایا تم پر بھی سلامتی ہو، تم کون ہو؟ اس روایت میں یہ بھی ہے آپؐ نے فرمایا تم کب سے یہاں ہو؟ ابو ذرؓ کہتے ہیں میں نے کہا پندرہ روز سے ہوں اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے (حضور
ﷺ
کی خدمت میں ) عرض کیا آج رات اس کی ضیافت کا شرف آپؐ مجھے عطا کردیں۔
مَعَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَلاَ تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ هَذَا الْبَلَدَ قَالَ إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ . فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتَّبِعْنِي فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتَّبِعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي . فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم