بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 186 hadith
حضرت کعبؓ بن مالک کے بیٹے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین انگلیوں سے کھانا کھاتے تھے اور اپنے ہاتھ کو صاف کرنے سے پہلے چاٹ لیتے تھے۔
حضرت کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین انگلیوں سے کھانا تناول فرماتے تھے اور جب فارغ ہوتے تو انہیں چاٹ لیتے تھے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انگلیوں اور پلیٹ کو صاف کرنے کا ارشاد فرمایا اور فرمایا تم نہیں جانتے کہ اس کے کس حصہ میں برکت ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اسے اٹھائے اور جو اسے لگا ہو صاف کرے اور اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور اس وقت تک اپنا ہاتھ رومال سے صاف نہ کرے جب تک اپنی انگلیاں نہ چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کون سے کھانے میں برکت ہے۔ سفیان اسی سند سے اسی طرح کی روایت کرتے ہیں اور ان کی روایت میں ہے وہ اپنے ہاتھ رومال سے نہ پونچھے یہاں تک کہ وہ اسے چاٹ لے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا یقینا شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس اس کے ہر کام کے وقت موجود ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے کھانے کے وقت بھی اس لئے جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو جو اسے لگے اسے صاف کرے پھر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کون سے کھانے میں برکت ہے۔ ایک روایت میں (سَقَطَتْ مِنْ اَحَدِکُمِ اللُّقْمَۃُ کی بجائے) سَقَطَتْ لُقْمَۃُ اَحَدِکُمْ کے الفاظ ہیں مگر اس روایت کے شروع میں اِنَّ الشَّیْطَانَ یَحْضُرُ اَحَدَکُمْ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب کھانا کھا لیتے تو اپنی تینوں انگلیاں چاٹتے۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو جو کچھ اسے لگے اسے صاف کرے اور اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور آپؐ نے ہمیں پیالہ کو صاف کرنے کا حکم دیا۔ آپؐ نے فرمایا تم نہیں جانتے کہ تمہارے کس کھانے میں برکت ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس میں برکت ہے۔ حماد اسی سند سے روایت کرتے ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک اپنی پلیٹ صاف کرے اور فرمایا تمہارے کس کھانے میں برکت ہے یا فرمایا تمہارے لئے بابرکت ہے۔
حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں انصارؓ میں سے ایک شخص تھا جس کا نام ابوشعیب تھا اور اس کا ایک غلام گوشت بیچنے والا تھا۔ اس شخص نے رسول اللہﷺ کو دیکھا تو آپؐ کے چہرہ پر بھوک کے آثار محسوس کئے۔ اس نے اپنے غلام سے کہا تیرا بھلا ہو ہمارے لئے پانچ کس کا کھانا تیار کرو۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں نبیﷺ سمیت پانچ کی دعوت کروں۔ راوی کہتے ہیں اس نے کھانا تیار کیا پھر وہ شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سمیت پانچ کو کھانے کی دعوت دی اور ان کے پیچھے ایک شخص چلا آیا۔ جب آپؐ دروازہ پر پہنچے تو نبیﷺ نے فرمایا یہ شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اگر تم چاہو تو وہ لوٹ جائے اس نے کہا نہیں یا رسولؐ اللہ! میں اسے اجازت دیتا ہوں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کا ایک فارسی ہمسایہ تھا جو بہت اعلیٰ شوربا تیار کرتا تھا اس نے رسول اللہﷺ کے لئے (شوربا) تیار کیا پھر آپؐ کو بلانے آیا۔ آپؐ نے فرمایا یہ بھی _ حضرت عائشہؓ کے بارہ میں فرمایا_ اس نے کہا نہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا پھر نہیں۔ وہ دوبارہ دعوت دینے آیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا یہ بھی! اس نے کہا نہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا پھر نہیں۔ وہ پھر آپؐ کو دعوت دینے آیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ بھی؟ اس نے کہا ہاں _ تیسری بار میں _ پھر آپؐ دونوں کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اس کے گھر آئے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک رات یا دن رسول اللہﷺ (گھر سے) نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ابو بکرؓ اور عمرؓ ہیں۔ آپؐ نے ان سے پوچھا اس وقت کیا چیز تمہیں گھر سے باہر لائی؟ ان دونوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! بھوک۔ آپؐ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے تم دونوں کو نکالا ہے۔ اٹھو، پس وہ آپؐ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور انصارؓ میں سے ایک شخص کے ہاں آئے۔ وہ اس وقت اپنے گھر نہیں تھا جب آپؐ کو عورت نے دیکھا تو کہا خوش آمدید۔ رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا فلاں شخص کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گیا ہے۔ اتنے میں وہ انصاریؓ آگیا اور اس نے رسول اللہﷺ اور آپؐ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا اور کہا الحمد للہ۔ آج کوئی مجھ سے بڑھ کر معزز مہمانوں والا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ گیا اور ایک شاخ لایا جس میں گدری اور عام کھجوریں اور تروتازہ کھجوریں تھیں اور عرض کیا اس میں سے کھائیے اور اس نے چھری پکڑی تو رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا دودھ والی ذبح نہ کرنا۔ اس نے اُن کے لئے (ایک بکری) ذبح کی پھر انہوں نے بکری (کا گوشت) اور اس خوشہ میں سے کھایا اور پانی پیا جب وہ کھانے پینے سے سیر ہوگئے تو رسول اللہﷺ نے حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ سے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارہ میں ضرور پوچھا جائے گا۔ بھوک تمہیں تمہارے گھروں سے باہر لائی اور تم واپس نہیں لوٹے یہاں تک کہ تم نے اس نعمت کو پایا۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں اس دوران کہ حضرت ابو بکرؓ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت عمرؓ آپؓ کے ساتھ تھے۔ جب ان دونوں کے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے۔ آپؐ نے فرمایا کس چیز نے تم دونوں کو یہاں بٹھا رکھا ہے؟ ان دونوں نے جواب دیا اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ہمیں ہمارے گھروں سے بھوک باہر لائی ہے۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔