حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ مِنْ رُقْعَةٍ عَارَضَ لِي بِهَا ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَىَّ قَالَ أَخْبَرَنَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمَصًا فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي فَقُلْتُ لَهَا هَلْ عِنْدَكِ شَىْءٌ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمَصًا شَدِيدًا . فَأَخْرَجَتْ لِي جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ - قَالَ - فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتْ فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي فَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لاَ تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ مَعَهُ - قَالَ - فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَتْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا فَتَعَالَ أَنْتَ فِي نَفَرٍ مَعَكَ . فَصَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ لَكُمْ سُورًا فَحَيَّهَلاَ بِكُمْ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلاَ تَخْبِزُنَّ عَجِينَتَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ . فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْدُمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي فَقَالَتْ بِكَ وَبِكَ . فَقُلْتُ قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ لِي . فَأَخْرَجْتُ لَهُ عَجِينَتَنَا فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ قَالَ ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلاَ تُنْزِلُوهَا . وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لأَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَتَنَا - أَوْ كَمَا قَالَ الضَّحَّاكُ - لَتُخْبَزُ كَمَا هُوَ .
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کہتے ہیں جب خندق کھودی گئی تو میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپؐ کو بھوک لگی ہے۔ میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور اسے کہا کیا تیرے پاس کچھ ہے کیوں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے متعلق محسوس کیا ہے کہ آپؐ کو شدید بھوک لگی ہوئی ہے۔ وہ میرے پاس ایک تھیلا جس میں ایک صاع جو تھے لائی اور ہمارے گھر میں ایک بکروٹہ تھا۔ وہ کہتے ہیں میں نے اسے ذبح کیا اور اس نے آٹا پیسا اور میرے فارغ ہونے کے ساتھ ہی وہ بھی فارغ ہوئی۔ اور میں نے اسے کاٹ کر ہنڈیا میں ڈالا۔ پھر میں رسول اللہﷺ کی طرف جانے کے لئے مڑا تو اس نے کہا مجھے رسول اللہﷺ اور آپؐ کے ساتھیوں کے سامنے شرمندہ نہ کرنا۔ وہ کہتے ہیں میں آپؐ کے پاس حاضر ہوا اور چپکے سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم نے اپنا بکروٹہ ذبح کیا ہے اور ہمارے پاس ایک صاع جَو تھے جو اس نے پیسے۔ آپؐ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائیے تو رسول اللہﷺ نے بلند آواز سے فرمایا اے خندق والو! جابرؓ نے تمہاری دعوت کی ہے اس لئے آؤ چلو اور رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’جب تک میں نہ آؤں اپنی ہانڈی نہ اتارنا، نہ اپنے آٹے کی روٹیاں پکانا‘‘ میں واپس آیا اور رسول اللہﷺ بھی لوگوں کے آگے آگے تشریف لائے۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا۔ اس نے مجھے بُرا بھلا کہا۔ میں نے کہا میں نے تو وہی کیا جو تم نے مجھے کہا تھا۔ پھر میں نے آپؐ کے سامنے اپنا آٹا پیش کیا۔ آپؐ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور برکت دی پھر ہماری ہانڈی کے پاس آئے اور اس میں بھی اپنا لعاب دہن ڈالا اور برکت دی پھر آپؐ نے فرمایا ایک اور روٹی پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹی پکائے اور ہنڈیا کو اتارے بغیر اس میں سے نکال کر ڈالتی جاؤ۔ اور وہ ایک ہزار تھے۔ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں انہوں نے کھایا اور بچ بھی گیا اور واپس چلے گئے اور ہماری ہنڈیا ویسے ہی اُبل رہی تھی جیسے وہ پہلے تھی اور ہمارا آٹا بھی (ویسے ہی تھا) یا جیسا کہ ضحاک کہتے ہیں اور ہمارا آٹا اسی طرح پک رہا تھا۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ قَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ . فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ . قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ أَلِطَعَامٍ . فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ قُومُوا . قَالَ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - قَالَ - فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ حَتَّى دَخَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ . فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَأَدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں حضرت ابو طلحہؓ نے حضرت ام سلیمؓ سے کہا میں نے رسول اللہﷺ کی کمزور سی آواز سنی ہے اور میں اس میں بھوک محسوس کرتا ہوں۔ کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ انہوں نے جو کی روٹیاں نکالیں۔ پھر اپنی اوڑھنی لی اور اس کے ایک حصہ میں روٹیاں لپیٹ دیں پھر اُسے میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور اس کا ایک حصہ اوپر ڈال دیا اور مجھے رسول اللہﷺ کی طرف بھیجا۔ وہ کہتے ہیں میں وہ لے گیا۔ میں نے رسول اللہﷺ کو مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا۔ آپؐ کے ساتھ اور لوگ بھی تھے میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہیں ابو طلحہؓ نے بھیجا ہے؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا جی ہاں آپؐ نے فرمایا کیا کھانے کے لئے؟ میں نے کہا جی ہاں اس پر رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اُٹھو۔ وہ کہتے ہیں آپؐ چلے، میں بھی ان کے آگے آگے چلنے لگا یہاں تک کہ حضرت ابو طلحہؓ کے پاس پہنچا۔ میں نے انہیں بتایا تو حضرت ابو طلحہؓ نے کہا اے اُمّ سلیم! رسول اللہﷺ لوگوں کے ساتھ تشریف لارہے ہیں اور ہمارے پاس نہیں ہے جو اُن کو کھلائیں۔ وہ کہنے لگیں اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پھر حضرت ابو طلحہؓ چلے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ سے ملے۔ پھر رسول اللہﷺ ان کے ساتھ تشریف لے گئے یہاں تک کہ آپ دونوں اندر داخل ہوئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے اُمّ سلیم! جو تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ۔ (ام سلیمؓ) وہ روٹیاں لے آئیں۔ رسول اللہﷺ نے ان کے بارہ میں ارشاد فرمایا تو ان کے ٹکڑے کئے گئے اور حضرت اُمّ سلیمؓ نے ان پر ایک چھوٹے برتن سے چکنائی ڈال کر نرم کیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے اس پر (دعائیہ) کلمات کہے۔ پھر فرمایا دس کو اجازت دو۔ انہوں نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے کھایا یہانتک کہ وہ سیر ہو گئے۔ پھر وہ نکلے، آپؐ نے پھر فرمایا دس کو اجازت دو یہاں تک کہ سب لوگوں نے کھانا کھا لیا اور سیر ہو گئے اور یہ لوگ ستر یا اسی تھے۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں مجھے حضرت ابو طلحہؓ نے رسول اللہﷺ کو دعوت دینے کے لئے بھیجا۔ انہوں نے کھانا بنایا۔ وہ کہتے ہیں میں آیا اور رسول اللہﷺ لوگوں کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے میری طرف دیکھا اور میں نے شرم محسوس کی اور عرض کیا ابو طلحہؓ کی طرف سے دعوت قبول فرمائیے۔ آپؐ نے لوگوں سے فرمایا اٹھو۔ (وہاں پہنچنے پر) حضرت ابو طلحہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں نے تو صرف آپؐ کے لئے کچھ تیار کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے اسے چھوا اور اس میں برکت کے لئے دعا کی، پھر آپؐ نے فرمایا میرے صحابہؓ میں سے دس کو اندر لاؤ اور فرمایا کھاؤ اور آپؐ نے ان کے لئے اپنی انگلیوں کے درمیان سے کچھ ڈالا۔ انہوں نے کھایا یہانتک کہ وہ سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا دس کو اندر لے آؤ۔ انہوں نے بھی کھایا یہانتک کہ سیر ہو گئے۔ پھر وہ اسی طرح دس (دس) کو اندر لاتے اور سیر ہونے کے بعد باہر بھیجتے رہے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا مگر وہ داخل ہوا اور اس نے کھایا یہانتک کہ وہ سیر ہوگیا، پھر آپؐ نے اس کھانے کو ایک جگہ جمع کیا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا اس وقت جب انہوں نے کھانا شروع کیا تھا۔ ایک اور روایت کے آخر میں ہے کہ پھر آپﷺ نے جو بچ گیا تھا اسے جمع کیا اور اس میں برکت کی دعا کی۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ اتنا ہو گیا جتنا پہلے تھا۔ آپﷺ نے فرمایا یہ تم لوگ لے لو۔ حضرت انسؓ سے ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو طلحہؓ نے حضرت ام سلیمؓ کو کہا صرف نبیﷺ کے لئے کھانا تیار کریں۔ پھر انہوں نے مجھے آپﷺ کی طرف بھیجا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ بھی ہے کہ نبیﷺ نے اپنا ہاتھ رکھا اور اس پر بسم اللہ پڑھی پھر فرمایا۔ دس کو اندر بلاؤ۔ انہوں نے ان کو اندر بلایا وہ اندر آئے۔ آپﷺ نے فرمایا کھاؤ اور اللہ کا نام لو۔ انہوں نے کھایا یہاں تک کہ آپﷺ نے 80 آدمیوں کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر نبیﷺ نے اور گھر والوں نے اس کے بعد کھایا اور کچھ بچ بھی گیا۔ طعام کے بارہ میں حضرت انسؓ بن مالک روایت کرتے ہیں جس میں انہوں نے کہا حضرت ابو طلحہؓ دروازہ پر کھڑے ہو گئے اور رسول اللہﷺ تشریف لائے اور انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! یہ صرف تھوڑی سی چیز تھی۔ آپؐ نے فرمایا وہ لے آؤ، اللہ اس میں برکت ڈال دے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے اور گھر والوں نے کھایا اور بچا لیا جو انہوں نے اپنے ہمسائیوں کو پہنچا دیا۔ ایک اور روایت حضرت انسؓ بن مالک سے مروی ہے کہ حضرت ابو طلحہؓ نے رسول اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ . قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ . قَالَ أَنَسٌ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَىِ الصَّحْفَةِ . قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مُنْذُ يَوْمَئِذٍ .
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہﷺ کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے آپؐ کے لئے بنایا تھا حضرت انسؓ بن مالک کہتے ہیں میں رسول اللہﷺ کے ساتھ اس کھانے کے لئے گیا۔ اس نے جو کی روٹی اور شوربا جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے۔ رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کئے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپؐ پلیٹ کے کناروں سے چن کر کدو کھا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اس دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَجِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ مِنْ ذَلِكَ الدُّبَّاءِ وَيُعْجِبُهُ - قَالَ - فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلاَ أَطْعَمُهُ . قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا زِلْتُ بَعْدُ يُعْجِبُنِي الدُّبَّاءُ . وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلاً خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَزَادَ قَالَ ثَابِتٌ فَسَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ فَمَا صُنِعَ لِي طَعَامٌ بَعْدُ أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُصْنَعَ فِيهِ دُبَّاءٌ إِلاَّ صُنِعَ .
حضرت انسؓ بن مالک کہتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہﷺ کی دعوت کی۔ میں بھی آپؐ کے ساتھ گیا۔ وہ شوربا لایا گیا جس میں کدو تھا رسول اللہﷺ کدو تناول فرمانے لگے اور آپؐ اسے پسند فرما رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں جب میں نے یہ دیکھا تو اسے آپؐ کی طرف کرنے لگا اور میں نے اسے خود نہیں کھایا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں اس کے بعد سے مجھے کدو اچھا لگنے لگا۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہﷺ کی دعوت کی۔ راوی ثابت نے کہا میں نے حضرت انسؓ کو کہتے ہوئے سنا اس کے بعد جب بھی میرے لئے کھانا تیار کیا گیا اگر مجھ سے ہو سکتا کہ اس میں کدو ڈالا جائے تو ڈالا جاتا۔
عبداللہ بن بسر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ میرے باپ کے پاس بطور مہمان تشریف لائے ہم نے آپؐ کی خدمت میں کھانا اور وطبہ پیش کیا 1۔ آپؐ نے اس میں سے کھایا پھر آپؐ کے پاس کھجوریں لائی گئیں آپؐ انہیں کھاتے تھے اور گٹھلی کو دو انگلیوں سے (پکڑ کر) رکھتے۔ اور شہادت کی انگلی اور درمیانی کو ملا لیتے۔ شعبہ کہتے ہیں یہ میرا گمان ہے اور اس طرح انشاء اللہ کہ دو انگلیوں کے درمیان گٹھلی کو اس طرح ڈالنا ہے۔ پھر کوئی مشروب لایا گیا آپؐ نے اُسے پیا پھر آپؐ نے وہ اسے دیا جو آپؐ کے دائیں طرف تھا۔ وہ کہتے ہیں میرے والد نے کہا جبکہ انہوں نے آپﷺ کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی کہ اللہ سے ہمارے لئے دعا کیجئے۔ آپؐ نے دعا کی اے اللہ! جو کچھ تو نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں ان کے لئے برکت ڈال دے۔ اور انہیں بخش دے۔ اور ان پر رحم فرما۔
قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُهُ وَهُوَ مُحْتَفِزٌ يَأْكُلُ مِنْهُ أَكْلاً ذَرِيعًا . وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ أَكْلاً حَثِيثًا .
حضرت انسؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ کے پاس کھجوریں لائی گئیں نبیﷺ دو زانو بیٹھے اسے تقسیم فرما رہے تھے اور قدرے تیزی سے اس میں سے کھا رہے تھے اور زھیر کی روایت میں اَکْلًا حَثِیْثاً کے الفاظ ہیں۔
شعبہ کہتے ہیں میں نے جبلہ بن سحیم کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن زبیر ہمیں کھجوریں دیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں ان دنوں لوگ بہت مشکل حالات سے دوچار تھے۔ ہم کھا رہے تھے تو حضرت ابن عمرؓ ہمارے پاس سے گذرے انہوں نے کہا دو دو کھجوریں ملا کر نہ لو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے دو دو اکٹھی کھجوریں لینے سے منع فرمایا ہے۔ سوائے اس کے کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے۔ شعبہ کہتے ہیں میرے خیال میں یہ بات حضرت ابن عمرؓ کی ہے یعنی اجازت لینے کی بات۔ ایک اور روایت میں وَقَدْ کَانَ أَصَابَ النَّاسَ یَومَئِذٍ جَہْدٌ کے الفاظ نہیں ہیں۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أَنْ تَصْنَعَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا لِنَفْسِهِ خَاصَّةً ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ
ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ
. فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا فَقَالَ
كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ
. فَأَكَلُوا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلاً . ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَكُوا سُؤْرًا . وَحَدَّثَنَا
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَكَلَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَأَفْضَلُوا مَا أَبْلَغُوا جِيرَانَهُمْ . وَحَدَّثَنَا
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَى أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ وَأَظُنُّهُ جَائِعًا . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَ
وَأَنَا أَشُكُّ - عَلَى حَجَرٍ فَقُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لِمَ عَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَطْنَهُ فَقَالُوا مِنَ الْجُوعِ . فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَصَّبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا مِنَ الْجُوعِ . فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي فَقَالَ هَلْ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ فَإِنْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحْدَهُ أَشْبَعْنَاهُ وَإِنْ جَاءَ آخَرُ مَعَهُ قَلَّ عَنْهُمْ . ثُمَّ ذَكَرَ سَائِرَ الْحَدِيثِ بِقِصَّتِهِ . وَحَدَّثَنِي
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ
حَدَّثَنَا
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ
حَدَّثَنَا
حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ
عَنِ
النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
ﷺ
کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا۔ آپؐ بار بار کروٹ لے رہے تھے۔ وہ حضرت ام سلیمؓ کے پاس آئے اور کہا میں نے رسول اللہ
ﷺ
کو مسجد میں لیٹے ہوئے کروٹ بدلتے دیکھا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ آپؐ کو بھوک لگی ہے۔۔۔ اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ
ﷺ
اور حضرت ابو طلحہؓ اور حضرت ام سلیمؓ اور حضرت انسؓ بن مالک نے کھایا اور کچھ بچ گیا۔ وہ ہم نے پڑوسیوں کو ہدیہ کے طور پر دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت انسؓ بن مالک کہتے ہیں کہ مَیں رسول اللہ
ﷺ
کی خدمت میں ایک دن حاضر ہوا۔ آپؐ اپنے صحابہؓ کے درمیان تشریف فرما تھے اور گفتگو کر رہے تھے اور اپنے پیٹ پر کپڑا باندھا ہوا تھا اور مجھے پتھر کے بارہ میں شبہ ہے۔ تو میں نے آپؐ کے ایک صحابیؓ سے پوچھا رسول اللہ
ﷺ
نے کس لئے اپنے پیٹ پر (کپڑا) باندھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا بھوک کی وجہ سے۔ میں حضرت ابو طلحہؓ کے پاس گیا اور وہ حضرت ام سلیمؓ بنتِ ملحان کے خاوند تھے میں نے کہا اے
اَبّا!
میں نے رسول اللہ
ﷺ
کو اپنے پیٹ کو کپڑے سے باندھے ہوئے دیکھا۔ میں نے آپؐ کے کچھ صحابہؓ سے (اس بارہ میں) پوچھا تو انہوں نے کہا بھوک کی وجہ سے۔ اس پر حضرت ابو طلحہؓ میری ماں کے پاس گئے اور کہا کچھ (کھانے کو) ہے؟ انہوں نے کہا ہاں میرے پاس روٹی کے کچھ ٹکڑے اور کھجوریں ہیں۔ اگر صرف رسول اللہ
ﷺ
ہمارے ہاں تشریف لائیں تو ہم آپؐ کو کھانا پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر دوسرے لوگ آپؐ کے ساتھ آجائیں تو کھانا ان کے لئے کم پڑ جائے گا۔